’جو کوئی باہر آتا وہ اسے شوٹ کر رہے تھے‘

’جو کوئی باہر آتا وہ اسے شوٹ کر رہے تھے‘

December 01, 2017 - 15:11
Posted in:

پشاور کے ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والے حملے میں بچ جانے والے تجمل حسین نے بی بی سی کے بلال احمد کو واقعے کی تفصیلات بتائی ہیں۔اس حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک جب کہ 30 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعے کی تفصیلات یہاں پڑھیےپشاور یونیورسٹی کے قریب حملہ، ’کم از کم نو افراد ہلاک‘پشاور میں برقع پوشوں کا حملہ، تصاویر میں تجمل حسین نے بتایا: 'صبح کے آٹھ بجے تھے اور میں سو رہا تھا کہ باہر سے فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔'میرے روم میٹ نے کہا کہ باہر جا کر دیکھو کسی کی شادی ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے۔ میں نے کمرے سے باہر جا کر دیکھا کہ حملہ آور ہاسٹل کے اندر آ گئے ہیں اور لوگوں کو شوٹ کر رہے ہیں۔'میں واپس کمرے میں آ گیا اور اپنے روم میٹ سے کہا کہ معاملہ خراب ہو گیا ہے، ہمیں یہاں سے نکلنا چاہیے۔ ہم کمرے سے باہر نکلے تو انھوں نے ہم پر بھی فائرنگ کی لیکن ہم بچ گئے اور ہم وہاں سے بھاگ کر پیچھے والے گیٹ پر چڑھ گئے اور باہر نکل آئے۔'ان کے پاس کلاشنکوفیں اور گرینیڈ تھے اور جو کوئی باہر آتا وہ اسے شوٹ کر رہے تھے۔ بنیر سے تعلق رکھنے والے سرزمین نامی ایک لڑکا تھا، اسے چار گولیاں لگی ہیں۔'سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ بچے گا یا نہیں۔'اس سے قبل ایک اور عینی شاہد نے، جو تجمل کی طرح ہاسٹل میں مقیم تھے، بی بی سی کو بتایا: 'چھٹی کا دن تھا، زیادہ تر سٹوڈنٹ اپنے اپنے گھروں کو گئے ہوئے تھے جو ادھر بچے تھے وہ بھی سو رہے تھے۔ آٹھ بج کر 45 منٹ پر دھماکے کی آواز آئی۔'جو باہر نکلتا وہ مر رہا تھا، وہ ایک جگہ پر پوزیشن لے کر کھڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے سب سے پہلے گرینیڈ پھینکا جس کی آواز سن کر سب طلبہ باہر نکل آئے۔ وہ پوزیشن لے کر کھڑے ہوئے تھے۔ جو نکلتا تھا وہ مارا جاتا تھا۔'جو طلبہ بچ کر آئے انھوں نے کمروں کے دروازے اندر سے بند کر دیے۔ انھوں نے ایک ایک کمرے کا دروازہ توڑا ہے اور پھر ان کو مارا ہے۔'ہم لوگ چھپ گئے تھے ہمارے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا، ہم نے کسی طرح سے اپنے آپ کو بچایا اور پولیس کو بھی سب سے پہلے کال میں نے کی ہے۔ میں نے پھر دوبارہ فون کیا، تیسری کال پر پولیس نے پہنچ کر آپریشن شروع کر دیا تھا۔'میں حملہ آوروں کے چہرے نہیں دیکھ سکا۔ وہاں بہت بھیڑ بھاڑ تھی اور افراتفری کا عالم تھا۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}