’جو لارڈز میں کھویا تھا، وہیں سے مل گیا‘

’جو لارڈز میں کھویا تھا، وہیں سے مل گیا‘

May 27, 2018 - 18:01
Posted in:

2010 میں جو پاکستانی ٹیم لارڈز میں اتری تھی، اس کے پیس اٹیک میں محمد آصف، محمد عامر اور وہاب ریاض تھے۔ یہ پیس اٹیک پاکستان کے روایتی کرکٹ کلچر کا نمونہ تھا۔ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باونسر پھینکنے والے وہاب ریاض کے ساتھ کرئیر کے عروج پہ، برق رفتار سیمر محمد عامر تھے۔ اور محمد آصف اس اٹیک کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔مزید پڑھیئےلارڈز ٹیسٹ: پاکستان کی نو وکٹوں سے کامیابینوجوان پاکستانی ٹیم کی لارڈز میں تاریخی فتحپاکستان وہ میچ تقریبا آدھا جیت چکا تھا کہ بیچ میں ہی سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی پٹاری کھل گئی اور صرف میچ ہی نہیں، قابل فخر کرکٹ کلچر بھی پاکستان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔چھ سال بعد جب مصباح کی قیادت میں پاکستانی ٹیم دوبارہ لارڈز میں اتری تو محمد آصف وقت کی گرد میں گم ہو چکے تھے۔ وہاب ریاض عروج پہ تھے اور محمد عامر ہر نگاہ کا مرکز تھے۔ پاکستان وہ ٹیسٹ جیت تو گیا لیکن اس جیت میں بنیادی کردار مصباح اور یاسر شاہ کا تھا۔ روایتی پیس اٹیک کا نہیں۔

اس سے بھی بڑی نوید یہ ہے کہ 2010 والے عامر نہ بھی سہی، اس کے نزدیک ترین عامر لوٹ آئے ہیں۔ حالانکہ پچھلے ایک سال میں محمد عامر کا ٹیسٹ کریئر کافی مدوجزر سے گزرا ہے۔ کئی بار انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے کنارہ کشی کا بھی سوچا۔ آئرلینڈ کے خلاف میچ میں انجری بھی شدت اختیار کر گئی لیکن اس کے باوجود پچھلے چار روز میں ان کی فارم اور فٹنس بہترین رہی۔دو سال پہلے جب پاکستان لارڈز میں جیتا تھا تو بیس میں سے دس وکٹیں یاسر شاہ نے حاصل کی تھیں۔ پیس اٹیک کو صرف نو وکٹیں حاصل کرنا پڑی تھیں۔ اس بار پاکستان کے لیے مخمصہ یہ تھا کہ یاسر شاہ کی عدم موجودگی میں بیس وکٹیں کیسے لی جائیں گی لیکن پیسرز نے شاداب خان کو پریشان ہونے کا کوئی موقع نہیں دیا اور اٹھارہ وکٹیں لے اڑے۔پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے لیے یہ جیت بہت ضروری تھی اور سرفراز کے لیے یہ جیت ان گنت سوالوں کے جواب بھی دے گئی۔ لیکن تمام چیزوں سے زیادہ خوش آئند پہلو یہ ہے آٹھ سال پہلے پاکستان کا جو کرکٹ کلچر لارڈز میں گم ہو گیا تھا، اب وہی کلچر لارڈز میں ہی پھر سے پاکستان کے پاس لوٹ آیا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}