’جس طرح ہمیں خوش آمدید کہا گیا، اس کی امید نہیں تھی‘

’جس طرح ہمیں خوش آمدید کہا گیا، اس کی امید نہیں تھی‘

January 13, 2018 - 07:08
Posted in:

سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کو سٹیڈیم میں مردوں کا فٹبال میچ دیکھنے کا موقع ملا۔ جمعے کو سعودی عرب کی مقامی پرفیشنل لیگ میں دو مقامی ٹیموں الاهلی اور الاباطن کے درمیان کھیلے گئے اس میچ کو دیکھنے کے لیے خواتین کی بھی نمایاں تعداد سٹیڈیم مں موجود تھی۔ جدہ میں ہونے والے میچ میں شامل خواتین شائقین میں ریاض سے جدہ پہنچنے والی تین سہیلیاں صائمہ،صدف اور سمیرہ بھی شامل تھیں۔ بی بی سی سے گفتگو میں صائمہ کا کہنا تھا 'ہمیں اس سب کی امید نہیں تھی، جس طرح ہمیں خوش آمدید کہا گیا اور جو عزت دی گئی۔ سب کچھ بہت اچھا تھا۔'صائمہ کی پیدائش ریاض میں ہوئی اور وہ وہیں پلی بڑھی ہیں وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ نوکری بھی کر رہی ہیں۔

سٹیڈیم میں داخلے کے لیے خواتین کے لیے الگ گیٹ تھا جبکہ سٹیڈیم میں فیملی انکلیو میں بیٹھ کر میچ دیکھا۔ میچ کے دوران انکلیو میں خواتین پر مشتیمل عملے کو تعینات کیا گیا تھا۔ روایتی کالے حجاب میں ان خاتون اہلکاروں نے خواتین شائقین کو خوش آمدید کہا اور اس کے ساتھ میچ کے دروان بلند آواز میں دونوں ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ریاض اور پھر اتوار کو دمام میں کھیلے جانے والے میچ میں بھی خواتین کو سٹیڈیم میں جانے کی اجازت ہو گئی۔خیال رہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کے حقوق اور اختیارات پر پہلے سے موجود عائد پابندیوں کو کم کرنے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت گاڑی چلانے کی اجازت، بغیر محرم کے سعودی عرب داخلے کی اجازت اور تفریح کے لیے گھر کی بجائے کھیل کے میدان میں جانے اور سینیما گھروں میں جانے کا موقع تاریخ میں پہلی بار مل رہا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}