’جب وراٹ کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں تو---‘

’جب وراٹ کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں تو---‘

December 05, 2017 - 02:25
Posted in:

کس نے سوچا ہو گا کہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی ’کٹ‘ میں ایک دن پلوشن ماسک بھی شامل ہو جائے گا۔ آپ سری لنکا کے ان کھلاڑیوں کا مذاق اڑا سکتے ہیں جو دہلی میں انڈیا کے خلاف جاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن آلودگی کی وجہ سے ماسک پہن کر میدان میں اترے، یا سانس لینے میں دقت ہونے کی وجہ سے میدان سے باہر چلے گئے، یا ان کی تشویش کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ ارے ایسا بھی نہیں کہ اس ہوا میں سانس لینے سے آپ مر جائیں گے، یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھائی یہ صرف ایک کھیل ہے، آپ اپنی صحت کا خیال کریں اگر سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے تو پویلین میں بیٹھ جائیے، یہ کرکٹ کی تاریخ کا آخری ٹیسٹ میچ نہیں ہے۔یہ بھی پڑھیےدہلی ٹیسٹ: جب ’سموگ‘ کے باعث کھیل روکنا پڑاکوہلی کا بطور کپتان سب سے زیادہ ڈبل سنچریوں کا نیا ریکارڈممبئی ٹیسٹ: کوہلی سال کے سب سے کامیاب بلےباز بن گئےوراٹ کوہلی نے سچن کا ریکارڈ برابر کر دیاکرکٹ کی تاریخ کا یہ آخری ٹیسٹ تو ہرگز نہیں لیکن ایسا پہلا ضرور ہے جہاں کھلاڑی ماسک پہن کر میدان میں اترے اور فضائی آلودگی کی وجہ سے دو مرتبہ کھیل روکنا پڑا۔میچ کے بعد سری لنکا کے کوچ نے کہا ’کھلاڑی پویلین میں آ کر الٹیاں کر رہے تھے، ڈریسنگ روم میں آکسیجن سلنڈر رکھے تھے ہمارے لیے یہ بتانا ضروری تھا کہ یہ انتہائی غیرممعولی صورت حال تھی۔‘لیکن دوسرے دن کے کھیل کے بعد انڈیا کے بولنگ کوچ بھارت ارون نے کہا ’سری لنکا کے کھلاڑیوں کی پریشانی پر انھیں حیرت ہو رہی ہے کیونکہ وراٹ کوہلی نے دو دن بیٹنگ کی اور انھیں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ آلودگی تو پورے ملک میں ہے، سری لنکا کے کھلاڑی صرف وقت برباد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

ارون صاحب، یہ سب مانتے ہیں کہ سگریٹ پینے سے کینسر ہوتا ہے لیکن سب سگریٹ پینے والوں کو کینسر نہیں ہوتا۔اگر وراٹ کوہلی کو آلودہ ہوا میں سانس لینے سے کوئی دقت نہیں ہوتی، یہ بہت خوشی کی بات ہے، وہ جوان ہیں، بہترین ایتھلیٹ ہیں اور ان کی فٹنس کا لیول دوسرے کھلاڑیوں سے بہتر ہو سکتا ہے، یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ احتیاط برتنے میں یقین نہ رکھتےہوں، سوچتے ہوں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن جن لوگوں کو دقت ہوتی ہے، یہ ان کی کمزوری کی نشانی نہیں ہے، بس شاید انھیں زہریلی ہوا میں سانس لینے کی عادت نہیں ہے۔انڈیا کے 12 ویں کھلاڑی کلدیپ یادو اور روہت شرما نے بھی ماسک پہنا اور یہ کہنے والے بہت سے لوگ آپ کو مل جائیں گے کہ یہ سمجھاداری کی بات تھی۔کسی بھی کھلاڑی کو اپنی حفاظت کا پیمانہ خود طے کرنے کا اختیار ہوتا ہے، جب آٹھ سال قبل لاہور میں سری لنکا کی ہی ٹیم پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد کھلاڑیوں نے پاکستان جانے سے انکار کرنا شروع کیا تو آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ وہ ڈرپوک ہیں، موت تو ایک دن آنی ہی ہے اور فائرنگ کے واقعات کوئی ایسی غیرمعمولی بات نہیں ہیں کہ کھیل ہی بند کر دیا جائے، یا آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ جان ہے تو جہان ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے تو ہم آپ کی فکر سمجھ سکتے ہیں، کرکٹ ایک کھیل ہے، آپ کا دل نہیں مان رہا تو کوئی بات نہیں پھر کبھی سہی۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ نومبر میں دلی کی ہوا اتنی زہریلی ہو گئی تھی کہ سکول بند کر دیے گئے تھے اور بہت سے دوسرے ہنگامی اقدمات کرنے پڑے تھے۔ اب حالات قدرے بہتر ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے جو یہاں رہتے ہیں اور جن کی یہ مجبوری ہے کہ انھیں اسی ہوا میں سانس لینا ہے۔دلی میں گذشتہ برس بھی رانجی ٹرافی کے دو میچ دیوالی کے بعد شہر کی زہریلی ہوا کی وجہ سے منسوخ کیے گئے تھے۔ کل کے میچ کی تصاویر دنیا بھر میں دیکھی جائیں گی اور لوگوں کے ذہن میں پھر نومبر کی وہ تصویر ابھرے گی جب دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کےمطابق شہر ایک ’گیس چیمبر‘ میں تبدیل ہو گیا تھا۔ماہرین بار بار کہہ رہے ہیں کہ اس ہوا میں ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے سانس پھولے، صبح کے وقت ٹہلنے سے بھی بچیں کیونکہ اس وقت ہوا سب سے زیادہ آلودہ ہوتی ہے لیکن انھیں شاید معلوم نہیں ہے کہ جب وراٹ کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا تو باقی کسی اور کو کیسے ہوسکتا ہے؟

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}