’توقع نہیں کفر کے خلاف جنگ میں ریاض واشنگٹن کا ساتھ دے گا‘

’توقع نہیں کفر کے خلاف جنگ میں ریاض واشنگٹن کا ساتھ دے گا‘

July 12, 2018 - 06:41
Posted in:

افغانستان کے طالبان نے شاید پہلی مرتبہ اسلامی ملک سعودی عرب کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک سخت بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک اسلامی ملک اور ان کے علما سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ ’کفر اور اسلام کی جنگ میں وہ امریکہ جیسے حملہ آوار کا ساتھ دے گا۔‘ سعودیوں سے ناراضی کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے افغانستان میں امن سے متعلق دنیا بھر کے علما کی اپنی نوعیت کے پہلے اجلاس کا انعقاد ہے جس میں پہلے تو لڑائی کے خلاف فتوے کی توقع تھی لیکن اب محض اعلامیہ جاری کیا جا رہا ہے۔ یہ کانفرنس سعودی عرب اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی جانب سے متشرکہ طور پر منعقد کی جا رہی ہے۔ طالبان کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ پہلے پاکستان اور بعد میں افغانستان میں وہاں کے علما کی جانب سے اپنے اپنے ممالک میں لڑائی اور پرتشدد کارروائیوں کا غیراسلامی قرار دینا بھی ہے۔اس سے خدشہ ہے کہ افغان طالبان کا لڑائی کو جہاد قرار دینے کا جواز چھین لیا جانا ہے۔ یہ طالبان کے لیے یقیناً اب تک کا سب سے بڑا نقصان ہوگا۔ تقریباً ساڑھے اٹھ سو الفاظ پر مشتمل اپنے طویل بیان میں طالبان نے افغانستان میں جاری 17 سالہ مزاحمت کو ’جہاد‘ سے تعبیر کیا اور کہا ہے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ ان کے ’جہاد‘ کو فساد کے الفاظ سے پکارے اور نہ وہ ایسا کرنے دیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی کانفرنس کو ان کی ’جائز جدوجہد‘ کی حمایت کرنی چاہیے جیسے کہ وہ پہلے کرتے آئے ہیں۔سعودی عرب میں منقعد اس کانفرنس میں اطلاعات کے مطابق پاکستان کے ایک درجن علما بھی حصہ لے رہے ہیں۔اس بارے میں مزید پڑھیےحکمت یار کا منظرِ عام پر آنا کیا معنی رکھتا ہے؟کابل کی سڑکوں پر طالبان: ’ہم پاکستان کے لیے نہیں لڑ رہے‘’پاکستان کا طالبان پر پہلے جیسا اثر و رسوخ نہیں رہا‘طالبان کی مدد کی خبریں بے بنیاد ہیں: روساس کانفرنس کے دعوت نامے میں افغانستان میں جاری مزاحمتی کارروائیوں کو دہشت گردی سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس میں ملوث افراد کو غیرقانونی مسلح گروہ اور جرائم پیشہ افراد کے ناموں سے پکارا گیا ہے۔طالبان کے سب سے حامی سمجھی جانے والی سعودی حکومت اور افغان عسکریت پسندوں کے درمیان کچھ عرصہ سے تعلقات کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔ کابل میں تعینات ایک سعودی سفارت کار نے کچھ عرصہ قبل افغانستان میں جاری مسلح کارروائیوں کو ’دہشت گردی‘ سے تعبیر کیا تھا جس پر طالبان کی طرف سے سخت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔ خیال ہے کہ سعودی عرب کی ایک عرصے تک مالی معاونت بھی ملتی رہے تھی۔اسلام آباد میں مقیم افغان امور کے ماہر اور سینئیر صحافی طاہر خان کا کہنا ہے کہ طالبان ہمیشہ سے اپنی مزاحمت کو ’جہاد‘ کہتے آئے ہیں اور ماضی میں کئی اسلامی ممالک بشمول سعودی عرب اس جہاد کی حمایت بھی کرتے آئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب جیسا ملک جسے تمام اسلامی دنیا میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے، اگر وہ اس مزاحمت کو اسلامی نہیں کہیں گے تو یقینی طور پر اس سے طالبان کا جو 'جہادی بیانیہ' ہے وہ کمزور پڑے گا۔

تاہم بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور طالبان کے مابین حالیہ تناؤ کی وجہ صرف 'جہادی بیانیہ' کی تبدیلی نہیں ہے بلکہ خطے کے بدلتے ہوئے حالات بھی ہیں جس میں افغانستان کے اندر ایران کا تیزی سے بڑھتا ہوا اثرو رسوخ اور شاید طالبان کا ان کے قریب ہونا بھی ہے۔ افغانستان پر گہری نظر رکھنے والے سینئیر صحافی سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ ایران اور افغان طالبان میں قربت بڑھتی جا رہی ہے جس سے بظاہر سعودی عرب ناراض نظر آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب قطر میں طالبان کا دفتر بن رہا تھا تو اس وقت سعودی عرب نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ طالبان ان کے ملک میں آکر سیاسی دفتر کھولیں اور اس ضمن میں طالبان کا ایک گروپ آمادہ بھی ہوا تھا لیکن بعد میں اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے قطر سے بھی تعلقات کشیدہ ہیں شاید اس وجہ سے تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔سمیع یوسفزئی نے مزید کہا کہ افغان طالبان اپنے جاری 'جہاد' کے حوالے سے تمام باتوں کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور شاید اس وجہ سے ان کا ردعمل قدرے سخت آیا ہے۔سینئیر صحافی اور جیو ٹی وی کے مشہور اینکر حامد میر کا کہنا ہے کہ نوے کی دہائی میں بھی سعودی عرب نے اسامہ بن لادن کے ایشو پر افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی اور ان کو دہشت گرد قرار دیا تھا لیکن طالبان نے اس وقت بھی ان کی کوئی بات نہیں مانی تھی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اب یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب امریکہ کا غلام ہے اور یہ سب کچھ انہی کے کہنے پر کیا جا رہا ہے۔ تاہم سعودی عرب میں جاری تبدیلی کی پالیسی کا بھی اس میں عنصر شامل ہو سکتا ہے۔ نوجوان سعودی ولی عہد کی قیادت میں جو نئی اقتصادی اور سماجی اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں ان میں امریکہ کا کردار بھی انتہائی اہم ہو گا۔ ایسے میں سعودی عرب کا جھکاؤ امریکہ کی جانب زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ افعان طالبان کے لیے جہاں میدان جنگ میں دولتِ اسلامیہ جیسی مشکل تو میدان سیاست میں علماء کے فتووں اور اعلانات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ بظاہر طالبان کے ساتھی اپنی اپنی مصلحتوں کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}