’تم بائیک پر؟ تم ایک لڑکی ہو‘

’تم بائیک پر؟ تم ایک لڑکی ہو‘

June 13, 2018 - 05:23
Posted in:

ایک سال قبل تک سعودی خاتون کو چست جینز اور ہارلے ڈیوڈسن ٹی شرٹ پہنے ریاض سپورٹس سرکٹ میں موٹربائیکس چلاتے دیکھنے کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔لیکن 24 جون سے خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر عائد پابندی کے ختم ہونے سے قبل ہی کئی خواتین موٹرسائکلز سکھانے والے نجی ادارے (بائیکرز سکلز انسٹیٹیوٹ) میں ہر ہفتے جمع ہوتی ہیں تاکہ موٹر بائکس چلانا سیکھ سکیں۔31 سالہ نورا جو کہ ان کا فرضی نام ہے نے بتایا: ’مجھے بچپن سے ہی بائیک چلانے کا شوق ہے۔‘سعودی عرب: خواتین کو ڈرائیونگ لائسینس دینے کا آغازسعودی عرب میں خواتین کی پہلی سائیکل ریس خیال رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو مردوں سے بہت سے معاملات میں اجازت درکار ہوتی ہے۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کے حقوق اور اختیارات پر پہلے سے موجود عائد پابندیوں کو کم کرنے کا آغاز گذشتہ برس سے کیا جس کے تحت گاڑی چلانے کی اجازت، بغیر محرم کے سعودی عرب میں داخلے کی اجازت، تفریح کے لیے گھر کی بجائے کھیل کے میدان میں جانے اور سینیما گھروں میں جانے کی اجازت شامل ہے۔دوسری جانب اس پابندی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی گرفتاری کی خبریں بھی سامنے آئیں۔یہی وجہ تھی کہ مصنوعی روشنیوں میں موٹر سائیکل چلانا سیکھنے والی خواتین میں سے کسی نے بھی اس کریک ڈاؤن پر بات نہیں کی۔یاماہا ورگو پر سوار نورا نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’میں اپنے گھر والوں کو بائیکس چلاتا دیکھ کر بڑی ہوئی ہوں۔‘’اب مجھے امید ہے کہ میں اتنی مہارت حاصل کر لوں گی کہ گلیوں میں بائیک چلا سکوں۔‘

’خوف کے بادل‘ موٹر سائیکل چلانے والی خواتین کے لیے جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ لباس ہے۔اس نجی انسٹیٹیوٹ کے اندر بائیکرز چست جینز، گھٹنے کے بچاؤ کے لیے پیڈز پہن لیتی ہیں لیکن اس کے بارے میں عوامی مقامات پر سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ سعودی عرب میں خواتین کے عوامی مقامات پر عبایہ پہننا لازم ہے جو کہ موٹرسائیکل کے لیے موزوں نہیں، کیونکہ عبایہ موٹرسائیکل کے پہیوں میں پھنس سکتے ہیں۔ بہت سی خواتین کو یہ شکایت ہے کہ خاتون انسٹرکٹر کم ہیں اور یہ کورس کافی مہنگا ہے۔لیکن ان تمام خدشات سے بڑھ کر خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن ہے۔رواں ماہ سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے 17 افراد کو ریاست کی سکیورٹی ’خراب کرنے‘ کے جرم میں گرفتار کیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مشرق وسطی کی ڈائریکٹر سما حدید نے اے ایف پی کو بتایا: ’یہ مکمل تضاد ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ وہ خواتین کے لیے نئی آزادیوں کے حق میں ہے اور پھر انہی خواتین کو نشانہ بناتی اور جیل میں ڈال دیتی ہے جو ان آزادیوں کا مطالبہ کریں۔‘سما حدید کہتی ہیں: ’سعودی عرب پر خوف کے بادل عیاں ہیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}