’بھائی جان موبائل توڑ دیں گے ویڈیو نہ بنائیں‘

’بھائی جان موبائل توڑ دیں گے ویڈیو نہ بنائیں‘

November 14, 2017 - 18:39
Posted in:

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو جڑواں شہر راولپنڈی بلکہ دیگر شہروں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ اسلام آباد ایکسپریس وے پر فیض آباد انٹرچیج کے مقام پر گذشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہرے کے دوران ٹریفک کے ساتھ ساتھ موبائل سگنلز اور موبائل کیمرے کا استعمال بھی بند ہے۔اسلام آباد ایکسپریس وے 10 لین کی مرکزی شاہراہ ہے جسے منگل کے روز ڈنڈا بردار نوجوانوں نے ایک قطار میں کھڑے ہوکر مکمل طور پر بند کیا ہوا تھا اور وہ 'لبیک یا رسول اللہ' کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہی صورتحال فیض آباد انٹر چینج کی طرف آنے والے دیگر راستوں کی بھی تھی۔ احتجاج کے بارے میں یہ بھی پڑھیے1500 افراد کا دھرنا، حکومت خاموش تماشائی کیوں؟ ’اسلام آباد کو تین ہزار مولویوں نے یرغمال بنا رکھا ہے‘’احتجاج کرنے والوں کی وجہ سے بچہ ہلاک ہوا‘ایکسپریس وے پر فیض آباد کے علاقے میں ٹریفک احتجاج کی وجہ سے اور موبائل سگنلز سیکیورٹی اداروں کی منطق کی وجہ سے بند ہیں لیکن یہاں موبائل کیمرے کا استعمال اس لیے بند ہے کہ وہ مظاہرین کی منفی تصویر کشی لیے استعمال ہوتا ہے۔جب ان مظاہرین کی کوریج کے غرض سے میں نے موبائل سے نکالا اور ویڈیو بنانی شروع کی تو ایک نوجوان عدنان (فرضی نام) میرے پاس آیا اور کہا 'بھائی جان موبائل توڑ دیں گے ویڈیو نہ بنائیں'۔عدنان نے بتایا کہ وہ بھی احتجاج کرنے والوں کی وجہ سے پریشان تھا اور ان کی ویڈیو بنا رہا تھا کہ چند مظاہرین نے انھیں گھیر لیا اور دھکے دینے کے بعد ان کا موبائل توڑدیا۔

اس سوال کا جواب ملا 'ترقی یافتہ ممالک کی مثال صرف پیسے کھانے کے منصوبوں میں دیتے ہیں ایسے غلطی پر وہاں خود استعفی دے دیا جاتا ہے یہاں تومانگنے پر بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔' الٹا ایک سوال داغ دیا گیا 'آپ کو کبھی سگنل توڑنے پر معافی ملی ہے؟'سات دن بعد بلاآخر وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے یہ تو کہہ دیا ہے کہ مذاکرات کی کوشش کریں گے لیکن مظاہرین سن لیں 'راستہ تو دینا ہوگا۔'لیکن ہوگا کب اور کیسے اس کی وضاحت شاید وقت ہی کرے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}