’بڑے ڈیموں کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے‘

’بڑے ڈیموں کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے‘

November 06, 2018 - 17:15
Posted in:

جہاں ایک جانب پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے چندہ جمع کرنے کی مہم زور و شور سے جاری ہے، وہاں دوسری طرف ایک نئی تحقیق کے مطابق بڑے ڈیم ماحول کے لیے نہایت تباہ کن ثابت ہوئے ہیں اور اس تحقیق کے مصنفین کہتے ہیں کہ انھیں ڈر ہے کہ ان بڑے منصوبوں کے نقصانات کا ترقی پذیر ممالک کو اندازہ نہیں ہے۔ امریکہ کی مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی میں کی گئی نئی تحقیق کے مطابق امریکہ اور یورپ میں تعمیر کیے گئے بڑے ڈیم ماحول کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ اس تحقیق میں ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب ہر سال درجنوں کے حساب سے بڑے ڈیموں کو اکھاڑا جا رہا اور اس کی وجوہات یہ دی گئی ہیں کہ وہ اقتصادی اور ماحولیاتی طور پر فائدہ مند نہیں ہیں اور ہر ہفتے امریکہ اور یورپ میں ایک سے زیادہ ڈیم ختم کیے جا رہے ہیں۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کا 71 فیصد حصہ پانی کی مدد سے پورا کیا جاتا ہے اور کئی ممالک کی ترقی میں اس کا بڑا ہاتھ ہے۔ ڈیمز کے بارے میں مزید پڑھیےکیا چندہ جمع کر کے ڈیم بن سکتا ہے؟’ڈیم کی مخالفت، آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے‘ایک اور ڈیم سے دریائے سندھ کا گلا گُھٹ جائے گا؟پاکستان کے دریا خشک کیوں ہو رہے ہیں؟محققین کہتے ہیں کہ 1960 کے عشرے میں امریکہ اور یورپ میں ڈیم بنانے کا کام عروج ہر تھا لیکن اس کے بعد سے اس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور زیادہ تر ڈیموں کو ختم کیا جا رہا ہے اور اس وقت پورے امریکہ میں استعمال ہونے والی بجلی کا صرف چھ فیصد حصہ پانی کی مدد سے بنتا ہے۔اس تحقیقی مقالے کے مصنفین کے مطابق حکومتیں سستی بجلی کی لالچ میں آ کر ڈیموں کی وجہ سے پیدا ہونے والے دیگر مسائل کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور یہ نہیں سوچتیں کہ ان کی تعمیر کی وجہ سے ماحولیاتی اور سماجی نقصانات کتنے زیادہ ہوں گے۔ یاد رہے کہ حالیہ چند ماہ سے پاکستان میں 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے دیامیر بھاشا ڈیم اور 800 میگا واٹ والے مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان نے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی ہوئی ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ ستمبر میں پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملک میں نئے ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والوں کو خبردار بھی کیا کہ جن لوگوں نے ڈیم کی تعمیر کو روکنے کی کوشش کی ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو ان دونوں ڈیموں کی تعمیر کے لیے 14 ارب ڈالر کی ضرورت ہے لیکن پانچ مہینے سے جاری اس چندہ مہم میں اب تک صرف پانچ کروڑ ڈالر ہی جمع ہو سکے ہیں۔

لیکن ان تمام خدشات کے باوجود بڑے ڈیموں کی تعمیر ابھی بھی جاری ہے۔ برازیل جہاں 67 فیصد بجلی پانی سے پیدا کی جاتی ہے، دریاؤں میں پانی کم ہونے کے باوجود بڑے ڈیم بنانے کے لیے تیار ہے۔ برازیل کے نئے صدر جئیر بولسو نارو کے منتخب ہونے کے بعد خدشہ ہے کہ ڈیموں کی تعمیر پر لگائے جانے والی عارضی پابندی اٹھا لی جائی گی اور وہ مزید 60 ڈیموں کی تعمیر پر کام دوبارہ شروع کر دیں گے۔ پروفیسر موران نے صاف لفظوں میں ڈیموں کی تعمیر کی مخالفت کی اور کہا کہ 'ہماری تحقیق سے اخذ کیے جانے والا واضح نتیجہ ہے کہ بڑے ڈیموں کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے۔ 21 ویں صدی میں ہمیں بجلی پیدا کرنے کے لیے مختلف ذرائع کا استعمال کرنا ہو گا۔ '

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}