’انڈیا نہیں کھیلنا چاہتا تو آئی سی سی کیا کرے؟‘

’انڈیا نہیں کھیلنا چاہتا تو آئی سی سی کیا کرے؟‘

November 14, 2017 - 12:08
Posted in:

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ آئی سی سی بہت اچھے کام کر رہی ہے لیکن اگر انڈین حکومت نہیں مان رہی کہ پاکستان سے نہیں کھیلنا تو انڈین کرکٹ بورڈ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔2012 سے اب تک پاکستان اور بھارت نے کوئی دو طرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلی تو کیا آئی سی سی اس حوالے سے کوئی اقدامات کر رہی ہے؟انھوں نے کہا: ’میرے خیال سے آئی سی سی ان (انڈیا) کو نہیں کہہ سکتی یا منا سکتی۔ ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں لیکن یہ میری رائے ہے۔ میں آئی سی سی کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھا رہا۔ آئی سی سی بہت اچھے کام کر رہی ہے لیکن اگر انڈین حکومت نہیں مان رہی کہ پاکستان سے نہیں کھیلنا تو انڈین کرکٹ بورڈ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ ویسے انڈین اور پاکستانی کرکٹ کا اپنا مزہ ہے۔ بہت کہتے ہیں کہ ایشز سیریز کا بہت پریشر ہوتا ہے لیکن جہاں ایک ارب لوگ میچ دیکھ رہے ہوں، اس کے دباؤ کا کسی اور سیریز سے کوئی مقابلہ ہی نہیں کر سکتے۔‘کیا انڈین کرکٹ ٹیم پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ کھیلنے کی خواہش مند ہے؟ وسیم اکرم کا خیال ہے کہ یہ عوام یا کھلاڑیوں کے چاہنے کی بات نہیں، معاملہ تو دونوں حکومتوں کا ہے۔ ’کھلاڑیوں کو تو کوئی بھی ٹیم ملے گی، وہ کھیلیں گے۔ بات حکومتوں کی ہے۔ سیاست اپنی جگہ ہے اور کھیل اپنی جگہ۔ میں نے بھی انڈیا میں 12، 13 سال کام کیا ہے، بدقسمتی سے پچھلے دو سال سے وہاں نہیں جا سکا۔ ’میرے وہاں پر بہت سارے دوست ہیں۔ میں وہاں جانا، وہاں کا کلچر، کھانا اور اپنے دوستوں کو مِس کرتا ہوں۔ مجھے انڈیا میں بھی بہت پیار ملتا ہے، میرے اتنے دوست وہاں ہیں جتنے یہاں ہیں۔ اگر ہم نے اپنے حالات بہتری کی طرف لانے ہیں تو پاکستان اور انڈیا کے لوگوں کا آپس میں رابطہ بہت اہم ہے۔‘سوئنگ کے سلطان ملتان سلطانز میںوسیم اکرم نے پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن میں وسیم اکرم نے نئی ٹیم ملتان سلطانز کی کرکٹ کی کمان سنبھالی ہے۔ وہ اس سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم کے ساتھ منسلک تھے۔ اس فیصلے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وسیم اکرم نے بتایا کہ ’اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ میرا بہت اچھا وقت گزرا، فیملی جیسا ماحول تھا، ٹیم مالکان بہت پروفیشنل تھے اور دوستی بھی ہے، ان سے لیکن یہ ایک پروفیشنل فیصلہ تھا۔ کوئی بھی نیا کام مجھے بہت پرجوش کر دیتا ہے۔ صفر سے نئی ٹیم کو بنانا، نئے کھلاڑی اور کپتان چننا، نئی مینیجمنٹ چننا۔’یہ سب آسان نہیں تھا لیکن میں نئی چیزیں کرنا پسند کرتا ہوں۔ میں نے اس کو چیلنج کے طور پر لیا۔ میرے لیے سب سے اہم ہیں پاکستان کرکٹ اور پاکستان سوپر لیگ۔‘پی ایس ایل کا کردارپاکستانی کرکٹ کی بہتری میں پی ایس ایل کے کردار کے بارے میں وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ’اگر پی ایس ایل نہ ہوتی تو ون ڈے میں دنیا کا سب سے بہترین بولر حسن علی نہ ملتا، سب سے دلچسپ نوجوان کرکٹر شاداب نہ ملتا، آپ کو مختلف طرز کی بولنگ کرنے والا رومان رئیس نہ ملتا۔’شرجیل خان کا پہلے پی ایس ایل کے بعد کریئر نئے طریقے سے شروع ہوا، تو یہ سب پی ایس ایل کا ہی تو جادو ہے۔ آہستہ آہستہ دیکھیں اگر پی ایس ایل کے 50 فیصد میچ بھی پاکستان آ جاتے ہیں تو آپ کو اس سے اور کھلاڑی بھی ملیں گے اور نوجوان کھلاڑی اس کھیل کی طرف رجحان کریں گے۔‘

برطانیہ میں ہونے والے 2019 کرکٹ ورلڈ کپ کی تیاری کے بارے میں جب وسیم اکرم سے پوچھا گیا کہ کیا پی ایس ایل کے ذریعے جو ٹیلنٹ سامنے آیا ہے اس سے پاکستان کرکٹ ٹیم اتنی مضبوط ہو گئی ہے کہ اب وہ ورلڈ کپ کے لیے تیار ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’جس طریقے سے پاکستان کرکٹ ٹیم نے چیمپئینز ٹرافی میں پرفارم کیا اور کپ جیتا ہے، اس سے لگ رہا ہے کہ یہ صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔ ’ٹیم میں کچھ تجربہ کار کھلاڑی ہیں، کپتان کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ وہ ٹیم اور کھیل دونوں میں بہت دلچسپی لیتے ہیں اور وہیں نوجوان کھلاڑی ہیں جو بہت اچھا پرفارم کر رہے ہیں۔ تو یقیناً ٹیم صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ورلڈ کپ 2019 کون سی ٹیم جیتے گی لیکن جب تک ہماری ٹیم تیار ہے اور 2019 آئے گا تو یہی نوجوان کھلاڑی تجربہ کار بھی ہو جائیں گے اور جوش سے کھیلیں گے بھی۔‘ بین الاقوامی کرکٹ کی واپسیپی ایس ایل 2017 کا فائنل لاہور میں ہوا، ورلڈ الیون ٹیم اور سری لنکن کرکٹ ٹیموں نے بھی دورۂ پاکستان کیا تو کیا اب واقعی انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان میں واپسی ہو گئی ہے؟اس حوالے سے وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ’ایک ایک قدم کر کے ہم کامیابی تک پہنچ رہے ہیں۔ نجم سیٹھی نے اعلان کیا ہے کہ پی ایس ایل 2018 کا فائنل کراچی میں ہو گا، یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کیونکہ کراچی والے ہمیشہ سے کہتے تھے کہ ان کے ہاں میچ کیوں نہیں ہوتا۔ ’معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں اور ایک بار پی ایس ایل صحیح معنی میں پاکستان لوٹ آیا اور 60 فیصد میچ بھی ملک میں ہوں گے تو اس کا مثبت اثر آپ دیکھیے گا کہ جس طرح آئی پی ایل نے انڈین کرکٹ میں کیا ہے وہی اثر پی ایس ایل کا پاکستان کرکٹ پر ہو گا۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}