’اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا‘

’اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا‘

May 15, 2018 - 10:22
Posted in:

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے اپنے انٹرویو کے بارے میں قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعلامیہ افسوسناک اور تکلیف دہ ہے اور حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ منگل کو احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ملک کےاندر اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اور پتہ لگنا چاہیے کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی تھی۔‘خیال رہے کہ پیر کو فوج کی درخواست پر بلائے گئے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والا بیان غلط اور گمراہ کن ہے۔یہ بھی پڑھیےنواز شریف آخر چاہتے کیا ہیں؟'لگتا ہے منصوبہ ساز بہت بے تاب ہیں‘غداری کے الزامات پر نواز شریف کا قومی کمیشن کا مطالبہاحتساب عدالت میں بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہوچکا ہے۔ انھوں نے سوال کیا ’آپ بتائیں کہ دنیا میں کون سا ملک دہشت گرد ہے؟‘انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے انٹرویو پر قومی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی کرے۔

12 مئی کو ڈان اخبار میں سابق وزیراعظم کا انٹرویو شائع ہوا تھا جس کے مطابق نواز شریف نے یہ بھی کہا تھا کہ 'عسکریت پسند تنظیمیں متحرک ہیں۔ آپ انھیں نان سٹیٹ ایکٹرز کہہ لیں۔ کیا ہمیں انھیں اجازت دینی چاہیے کہ وہ سرحد پار کریں اور ممبئی میں 150 لوگوں کو مار دیں۔'کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ غلط معلومات یا شکایات پر مبنی رائے کو حقائق کو نظرانداز کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔’قومی سلامتی کمیٹی نے غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے‘’ممبئی حملوں کے حوالے سے بیان غلط اور گمراہ کن ہے‘تاہم وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں سے متعلق ان کی جماعت کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور قومی سلامتی کمیٹی نے اس غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے اور اُنھوں نے کہا ہے کہ ان کے بیان کی غلط تشریح کی گئی ہے۔وزیراعظم عباسی نے کہا کہ وہ یہ وضاحت نہ تو آرمی چیف اور نہ ہی نوا ز شریف کی ایما پر دے رہے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}