یہ گلیڈی ایٹرز کی قسمت نہیں تھی

یہ گلیڈی ایٹرز کی قسمت نہیں تھی

March 21, 2018 - 03:50
Posted in:

پچھلی بار جب پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہوا تھا تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں مد مقابل تھیں۔ بشمول غیرملکی کھلاڑی، پشاور زلمی کے پورے سکواڈ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے برعکس کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سبھی غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا۔کوئٹہ گلیڈیایٹرز کے لیے بہت بڑا دھچکا کیون پیٹرسن کا انکار تھا، جس کو مہمیز انھوں نے اپنے ٹویٹ سے کر ڈالا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ ’بیسٹ آف لک میری ٹیم کوئٹہ! میچ میں صرف گیند کو دیکھیے گا، گیند کو ہٹ کیجیے گا، گیند کو کیچ کیجیے گا۔‘اپنے تئیں وہ جانتے تھے کہ جس طرح سے ان کے دیگر غیر ملکی ساتھیوں نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے وننگ کمبی نیشن کو عین منزل کے قریب آ کے چھوڑا، ٹیم کے ٹائٹل تک رسائی کے امکانات بہت سے اگر مگر میں گھر چکے تھے۔ گراونڈ میں تو جو بھی ہوتا، بعد کی بات تھی، وہ جانتے تھے کہ ان کے نہ آنے سے ہی ٹیم کے حوصلے پست ہو چکے تھے، جنھیں وہ اپنے ایک نیک خواہشات بھرے ٹویٹ سے بلند کر کے انگلینڈ روانہ ہو گئے۔کچھ روز پہلے معین خان پی ایس ایل مینیجمنٹ پہ کافی برہم نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوں عین آخری لمحے پہ جب تین چار میچ وننگ پلیئرز ٹیم کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تو اہم ترین میچز میں ٹیم کے چانسز پہلے ہی کم ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی ان کھلاڑیوں کو ڈرافٹ میں شامل ہی کیوں کرتا ہے جو پاکستان آنے پہ رضامند نہیں ہوتے۔معین خان کا یہ اعتراض اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ اگر پی ایس ایل کا مقصد ہی پاکستان میں کرکٹ کی واپسی ہے تو ایسے کھلاڑیوں کو ڈرافٹ کرنے کا کیا مطلب جو پاکستان آنا ہی نہیں چاہتے؟

لیکن جونہی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی بیٹنگ شروع ہوئی تو نفسیاتی دباؤ ذہنوں سے نکل کر بلے میں جھلکنا شروع ہو گیا۔ یہ دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ ابتدائی انتشار کے بعد جب سرفراز اور نواز ایک شاندار پارٹنرشپ لگا چکے تھے، تب بھی سر ویوین رچرڈز کے چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔اگر وہ پارٹنرشپ دو اوورز مزید چل جاتی تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میچ لے جاتا لیکن یہ اسی نفسیاتی دباؤ کی کارستانی تھی کہ جونہی سرفراز نے نواز کو وکٹ پہ جمے رہنے کی نصیحت کی، اگلی ہی گیند پہ نواز آؤٹ ہو گئے۔ اس سے اگلی گیند پہ سرفراز خود ایک بے معنی شاٹ کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔آخری اوور میں انور علی نے بلاشبہ کمال ہٹنگ کی۔ سرفراز کے چہرے پہ مسکراہٹ بھی لوٹ آئی لیکن جو نفسیاتی دباؤ یہ پورا ڈریسنگ روم دبئی سے اپنے ہمراہ لایا تھا، اس کے بعد شکست اس ٹیم کا مقدر تھی بھلے وہ ایک رن سے ہی ہوتی۔پہلے دونوں سیزنز کے فائنل کھیلنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اس بار فائنل نہیں کھیل پائے گی۔ مگر یہ صرف قسمت کی بات نہیں ہے، غلط پلاننگ کا کرشمہ ہے۔ معین خان کا شکوہ بالکل بجا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ڈرافٹ کرتے ہوئے انھیں کیون پیٹرسن کا وہ ٹویٹ کیوں نہ یاد آیا؟

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}