یہاں پلان اور سٹریٹیجی کیا بیچیں گے؟

یہاں پلان اور سٹریٹیجی کیا بیچیں گے؟

September 24, 2018 - 03:16
Posted in:

شیکھر دھون سینچری کر چکے تھے۔ روہت شرما ون ڈے میں سات ہزار رنز مکمل کر چکے تھے۔ پاکستانی بولروں کے چہروں پہ ہار نوشتۂ دیوار کی مانند رقم تھی اور مکی آرتھر سر نیہوڑائے اپنی کاپی میں کچھ لکھ رہے تھے۔نجانے مکی آرتھر کیا لکھ رہے تھے۔ شاید یہی کہ پچھلے میچ کی طرح ایک بار پھر پاکستان نے پلان کو فالو نہیں کیا۔ یہی لکھنے اور کہنے میں عافیت ہے کیونکہ اس سے کم از کم یہ بھرم تو رہ جاتا ہے کہ پلان تو تھا جی مگر شومئی قسمت کہ وہ شرمندۂ تعبیر نہ ہو پایا۔اور نہیں تو پریس کانفرنس میں اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ دیکھیں ناں جی اگر ہم بیس تیس رنز اور کر لیتے یا اگر ہم تین چار کیچز نہ چھوڑتے یا اگر وہ پاور پلے میں لیگ سپنر کو نہ لاتے یا کم از کم دھونی ہی روہت شرما کو ریویو لینے پہ مجبور نہ کرتے تو آپ دیکھتے ہمارے پلان کیسے تیر بہدف ثابت ہوتے۔ٹاس جیت کر بیٹنگ کا انتخاب کرتے ہوئے سرفراز کے ذہن میں تھا کہ آج کوئی بیٹنگ کا بحران نہیں آئے گا کیونکہ آج صرف کریز پر مسلسل جم کے جواب دیا جائے گا۔ رن ریٹ بھلے سست رہے مگر وکٹیں بچائی جائیں گی۔پچھلے دورۂ نیوزی لینڈ پہ جب پہلے ٹیسٹ میں پاکستانی بیٹنگ یکسر ریت کی دیوار ثابت ہوئی تو اسد شفیق نے اگلے میچ کے لئے لائحہ عمل یہ طے کیا کہ وکٹ پہ رکنے کی بجائے، اچھا گیند پڑنے سے پہلے پہلے رنز کر لیے جائیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ اچھا گیند کبھی بتا کر نہیں آتا۔ اور اگلے ٹیسٹ میں یہی ہوا کہ اچھا گیند بار بار بتائے بغیر آتا رہا اور رنز کہیں دور لبِ بام وصل کی آس لئے پڑے رہ گئے۔جب بھی کوئی سٹریٹیجی خوف کے حصار میں رہ کر تشکیل دی جاتی ہے تو اس کے اثرات بھی خوف کے سائے سے نہیں نکل پاتے۔

فیلڈنگ ہی کی طرح پاکستانی بیٹنگ نے بھی تاریخ میں بہت کم ایسے مواقع پیدا کئے ہیں کہ زریں حروف ڈھونڈنے کی نوبت آئے مگر پچھلے ڈیڑھ سال میں فخر زمان کی شکل میں پاکستان کو ایک ایسا چہرہ میسر آیا تھا کہ مڈل آرڈر کی کمیاں کوتاہیاں اس کے پیچھے چھپ گئی تھیں۔مگر اب کہ فخر زمان فارم سے آوٹ ہوئے ہیں تو وہی نوے کی دہائی کے بھوت پاکستانی کرکٹ کے سر پہ منڈلانے لگے ہیں۔ ڈریسنگ روم پہ سراسیمگی طاری ہے۔ گراؤنڈ میں سرفراز کا چہرہ سفید گلوز کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایک کونے میں مکی آرتھر سر جھکائے خاموشی سے اپنی کاپی میں کچھ لکھ رہے ہیں۔ شاید وہ لکھ نہیں رہے بلکہ اس دیوار پہ لکھے مستقبل کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی آڑی ترچھی لکیروں کا کوئی سرا نہیں مل رہا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}