یو ایس اوپن: سرینا ولیمز کو غصہ کیوں آیا؟

یو ایس اوپن: سرینا ولیمز کو غصہ کیوں آیا؟

September 09, 2018 - 19:40
Posted in:

گرینڈ سلام اپنے نام کرنے والی ٹرافی سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی نومی اوساکا نے رونا شروع کر دیا تھا۔ 20 سالہ جاپانی نے اپنے بچپن کی پسندیدہ کھلاڑی سرینا ولیمز کو یو ایس اوپن کے فائنل میں شکست دی تھی۔ سرینا ولیمز کی نظریں اپنے کیریئر کے 24ویں اور بچے کی پیدائش کےبعد پہلے گرینڈ سلام پر تھیں۔ اوساکا کسی اہم ٹونامنٹ میں فتح حاصل کرنے والی پہلی جاپانی خاتون ہیں، انھوں نے وہی سیاہ رنگ کا وزر پہن رکھا تھا جو اس میچ کے دوران بھی پہنا ہوا تھا، اپنے جذبات چھپنانے کے لیے اسے انھوں نے اپنے چہرے سے نیچے سرکا دیا۔ یہ ان کے کیریئر کا خوش گوار ترین لمحہ ہونا چاہیے تھے اور بظاہر یہ ان کے آنسو خوشی کے آنسو نہیں تھے۔ آرتھر ایش سٹیڈیم میں آوازیں کسیں گئی لیکن ان کا نشانہ اوساکا نہیں بلکہ ناانصافی کا وہ احساس تھا جسے 24000 کے مجمعے میں سے بیشتر افراد نے سرینا ولیمز کے خلاف محسوس کیا تھا۔ 36 سالہ سیرینا ولیمز کا کہنا تھا کہ 'مجھے ایک موقع پر برا محسوس ہوا کیونکہ میں رو رہی ہوں اور وہ بھی رو رہی ہے۔ آپ جانتے ہیں، وہ جیت چکی ہے۔' سابق ومبلڈن چیمپیئن پیٹ کیس نے بی بی سی ریڈیو کو بتایا کہ 'یہ آج تک کا عجیب ترین میچ اور تقریب تھی جو میں نے دیکھی۔' لیکن معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا؟

کیا امپائر صحیح تھے؟ تینوں موقع پر راموس نے سرینا کو قانون کے مطابق خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تھا۔ آئی ٹی ایف گرینڈ سلام کے قواعد کے مطابق آپ کسی آفیشل، سپانسر یا تماشائی کے خلاف بدزنابی نہیں کرسکتے، اپنے ریکٹ سمیت کھیل کے استعمال کی اشیا کو نقصان نہیں پہنچا سکتے اور میچ کے دوران اپنے کوچ سے کوچنگ نہیں لے سکتے۔ 'آوازیں نہ کسیں' یوایس اوپن کی فاتح اوساکا کہتی ہیں کہ 'جب میں نے نیٹ میں سرینا کو گلے لگایا تو مجھے ایسا لگا میں چھوٹی بچی ہوں۔' ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تیسری جماعت میں سرینا ولیمز پر ایک مضمون لکھا تھا۔ اس کے باوجود ایسا لگ رہا تھا کہ یہ خاص موقع ایسا نہیں ہے جیسا ہونا چاہیے تھا۔ میچ کے اختتام اور انعام تقسیم کرنے کی تقریب کے دوران بھی آوازیں کسی جا رہی تھیں۔ اوساکا نے رونا شروع کر دیا۔ یہ ایک دل خراش منظر تھا۔ اس وقت ان سے عمر میں 16 سال بڑی سرینا ولیمز نے ان مداخلت کی اور کہا 'اور آوازیں نہ کسی جائیں۔ مبارک ہو، نومی۔ اب آوازیں نہ کسی جائیں۔' تماشائیوں نے بھی اس کا ردعمل ظاہر کیا اور نومی اوساکا نے مائیک تھام لیا۔ انھوں نے کہا 'میں جانتی ہوں ہر کوئی ان کے لیے پرجوش تھا اور مجھے افسوس ہے کہ اس کا اختتام ایسے ہوا۔' کورٹ کے باہر عاجزی اور معصومانہ انداز لیکن کورٹ میں دھواں دار ہٹنگ اور مضبوطی سے ظاہر ہے کہ مستقبل میں گرینڈ سلام میں مزید کامیابیاں نومی اوساکا کی منتظر ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}