'یقین نہیں آرہا کہ یہ وہی وزیرستان ہے'

'یقین نہیں آرہا کہ یہ وہی وزیرستان ہے'

September 22, 2017 - 22:47
Posted in:

تقریباً ایک دہائی تک دنیا بھر کے جہادیوں اور شدت پسندوں کا گڑھ رہنے والے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں چند سال پہلے تک شاید یہ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ جس جگہ شدت پسند تربیت حاصل کرتے تھے وہاں کبھی مقامی لوگ ڈھول کی تھاپ اور قومی دھنوں پر رقص کریں گے اور وہاں غیر ملکی کھلاڑی آکر کرکٹ کھیلیں گے۔ ویلکم بیک ہوم کرکٹبالکل ایسا ہی منظر گذشتہ روز شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں واقع یونس خان کرکٹ سٹیڈیم میں دیکھنے میں آیا جہاں برطانیہ الیون اور پاکستان الیون کے درمیان نمائشی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ کھیلا گیا۔ پاکستانی فوج، پشاور زلمی اور پی سی بی کی طرف سے 'امن کپ' کے نام سے مشترکہ طورپر منعقدہ اس ایک روزہ کرکٹ میلے کا مقصد شمالی وزیرستان کے مثبت تاثر کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا تھا۔شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وہاں ایک ایسے کرکٹ میلے کا انعقاد کیا گیا جس میں نہ صرف پاکستان کے سٹار کھلاڑیوں بلکہ برطانیہ کے نامور صحافیوں، اراکین پارلیمینٹ اور کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی۔یونس خان کرکٹ سٹیڈیم کے سبزہ زار میں ہر طرف جشن کا سماں تھا۔ کئی برسوں تک گولیوں کی گھن گرج اور خوف کی کیفیت میں زندگی گزارنے والے قبائلی نوجوان آج بظاہر ہر قسم کے خوف سے آزاد ہو کر میچ سے محضوض ہو رہے تھے۔

نامور سنئیر صحافی اور اینکرپرسن حامد میر نے کہا کہ اس سے پہلے وہ جب بھی وزیرستان آئے تو گولیوں کی گھن گھرج کا منظر ہوا کرتا تھا اور واپسی پر وہی صورتحال ہوتی تھی لیکن آج یہاں کا نقشہ ہی تبدیل ہے اور ہرطرف امن ہی امن ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'صرف کرکٹ میچ کا انعقاد ہی سب کچھ نہیں بلکہ ہمیں یہاں کے نوجوانوں کو اعتماد میں لینا ہوگا، ان کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے تب جاکر ہمیں اصل کامیابی نصیب ہوگی۔' میرانشاہ کے ایک قبائلی سردار محمد جاوید خان نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ وزیرستان میں مثالی امن قائم ہو چکا ہے لیکن علاقے میں جگہ جگہ قائم چیک پوسٹوں پر اب بھی لوگوں کو جاتے ہوئے مشکلات کا سامنا رہتا ہے جس پر سکیورٹی فورسز کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}