یروشلم: فرانس کے صدر کا دارالحکومت کی منتقلی پر انتباہ

یروشلم: فرانس کے صدر کا دارالحکومت کی منتقلی پر انتباہ

December 05, 2017 - 10:38
Posted in:

فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ انھیں یروشلم کو یکطرفہ طور پر اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے منصوبے پر 'تشویش' ہے۔میکخواں نے کہا کہ شہر کی متنازع حیثیت پر کوئی بھی فیصلہ 'اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بات چیت کے دائرۂ کار' کے اندر ہونا چاہیے۔اس سے قبل کئی عرب اور مسلم ممالک نے اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکی صدر رواں ہفتے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے والے ہیں۔یہ بھی پڑھیں٭ ’یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے نتائج خطرناک ہوں گے‘٭ یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے منصوبے پر محمود عباس ناراضخیال رہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی دونوں اس شہر کے اپنا دارالحکومت ہونے کا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی میں تاخیر کے دستاویزات پر دستخط کے لیے پیر کی ڈیڈ لائن کی پاسداری نہیں کر پائيں گے۔

بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے یروشلم پر اختیار کو کبھی قبول نہیں کیا گیا ہے اور اسرائیل کے قریب ترین حلیف امریکہ سمیت تمام ممالک کے سفارت خانے ابھی تک تل ابیب میں ہی ہیں۔سنہ 1967 کے بعد سے اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں کئی بستیاں آباد کی ہیں جن میں دو لاکھ یہودیوں کے لیے مکانات تعمیر کیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ تعمیرات غیر قانونی ہیں۔اگر امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی برادری سے علیحدہ اسرائیل کے دعوے کی تائید کرے گا کہ مشرق میں تعمیر ہونے والی اسرائیلی آبادیاں جائز ہیں۔ بین الاقوامی رد عملسعودی عرب نے پیر کو کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حتمی تصفیے سے قبل ایسا کوئی قدم 'امن مذاکرات پر مضر اثرات مرتب کرے گا۔'فلسطینی صدر محمود عباس نے عالمی رہنماؤں سے مداخلت کی اپیل کی ہے کہ اس قسم کا امریکی فیصلہ 'امن کے عمل کو تباہ کر دے گا۔'اردن نے اس کے 'سنگین نتائج' پر متنبہ کیا ہے جبکہ عرب ليگ کے سربراہ ابوالغیث نے کہا کہ اس قسم کے اقدام سے تشدد اور مذہبی جنون کو تقویت ملے گی۔ترکی کے نائب وزیر اعظم بکیر بوزداغ نے کہا ہے کہ اس سے بڑی تباہی آئے گی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}