ہوائی میں میزائل کے غلط الارم پر افراتفری

ہوائی میں میزائل کے غلط الارم پر افراتفری

January 14, 2018 - 09:32
Posted in:

امریکی ریاست ہوائی میں سنیچر کی صبح میزائل داغے جانے کے انتباہ پر رہائیشیوں میں اس وقت تک افرا تفری رہی جب تک کہ یہ اعلان نہ کیا گیا کہ غلط انتباہ جاری کر دیا گیا تھا۔موبائل فون صارفین کو ایک میسیج آیا جس میں یہ لکھا تھا کہ 'بیلسٹک میزائل ہوائی کی جانب آ رہا ہے۔ فوراً چھپ جائيں۔ یہ کوئی ڈرل نہیں ہے۔'ریاست کے گورنر ڈیوڈ آئیگے نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ملازم کے غلط بٹن دبا دینے کے سبب ہوا جبکہ امریکی حکومت نے کہا ہے کہ اس کے متعلق مکمل تفتیش ہوگی۔ خیال رہے کہ ہوائی میں انتباہ کا ایک نظام نصب ہے کیونکہ یہ شمالی کوریا کے میزائل کی رینج سے بہت قریب ہے۔دسمبر میں سرد جنگ کے بعد سے پہلی بار ریاست میں جوہری وارننگ کے سائرن کا تجربہ کیا گيا تھا۔

@Hawaii_EMA کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

@Hawaii_EMA کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

غلط وارننگ کا میسیج لوگوں کے موبائل فون کے ساتھ ٹی وی اور ریڈیو سٹیشن سے بھی نشر ہوا۔ فون پر پہنچنے والا پیغام بڑے حروف میں تھا اور یہ مقامی وقت کے مطابق صبح 08:07 منٹ پر بھیجا گیا تھا۔ہونولولو سٹار ایڈورٹائزر نے بتایا کہ 18 منٹ بعد اس کو درست کیا گیا لیکن موبائل پر 38 منٹ تک کوئی اپ ڈیٹ نہیں تھی۔گورنر آئیگے نے کہا کہ ریاستی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی (ای ایم اے) میں تین شفٹ میں کام کرنے والے افراد سے یہ غلطی ہوئی۔

ہوائی ایوان نمائندہ گان کے رکن میٹ لوپریسٹی نے کہا کہ جب ان کے فون پر الرٹ آیا تو وہ گھر پر تھے اور انھوں نے اپنے بچوں کے ساتھ باتھ ٹب میں پناہ حاصل کی تھی۔وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اس غلط انتباہ کے وقت صدر ٹرمپ فلوریڈا میں تھے اور انھیں اس کے بارے تفصیل دی گئی۔ہوائی کے ڈیموکریٹ سینیٹر میزی ہیرونو نے کہا: 'آج کا انتباہ غلط تھا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اس زمانے میں ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ تمام معلومات درست ہوں۔۔۔ ہمیں اس بات کی یقین دہانی کرنی ہوگی کہ مستقبل میں پھر ایسا کبھی نہ ہو۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}