ہندو مسلم منافرت کی دھیمی آنچ پر ابلتا بہار

ہندو مسلم منافرت کی دھیمی آنچ پر ابلتا بہار

November 08, 2018 - 05:00
Posted in:

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار کے سیتامڑھی شہر میں ہندوؤں کے تہوار درگا پوجا کے موقعے پر مشتعل ہجوم نے ایک 80 سالہ شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب جلوس نے اس حساس علاقے سے جانے کی کوشش کی جہاں سے انھیں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ پھر دوسرے راستے کا انتخاب کیا گیا تاہم جب یہ خبر شہر کے دوسرے حصے میں پہنچ تو بڑی تعداد میں لوگوں نے اس محلے پر حملہ کر دیا۔دونوں طرف سے پتھراؤ ہوئے۔ پولیس نے مداخلت کی، انٹرنیٹ بند کردیا گیا اور پولیس کا دعوی ہے کہ انھوں نے جلد ہی صورتحال پرکنٹرول کر لیا۔لیکن اسی دوران واپس ہونے والی بھیڑ نے 80 سالہ زین العابدین کو ہلاک کر دیا اور شواہد کو ختم کرنے کے لیے ان کی لعش کو جلانے کی کوشش بھی کی۔پولیس نے آدھی جلی ہوئی لاش برآمد کی۔ سیتامڑھی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وکاس برمن نے بی بی سی کو بتایا: 'اس واقعے کے بعد غیر سماجی عناصر نے لاش کو لکڑی ڈال کر جلانے کی کوشش کی۔ تفصیل جانچ میں سامنے آئے گی۔' اس کیس میں پولیس نے 38 افراد کو گرفتار کیا ہے۔یہ آج کے بہار کی تصویر ہے۔ تقریبا تین دہائی پہلے سنہ 1989 میں بھاگلپور میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں 1100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے لیکن اس کے بعد عام طور پر بہار پرسکون رہا۔

گریراج سنگھ نے کہا: '72 سال سے جب سے یہ معاملہ عدالت میں گیا ہے اس بعد کئی دہائیاں بیت چکی ہیں۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ ہندو نرم خو ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے صبر کا امتحان لیا جائے۔اس کے ساتھ انھوں نے الہ آباد کے نام کو تبدیل کیے جانے کے بعد بہار میں مغل سے تعلق رکھنے والے تمام شہروں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز دے ڈالی۔یہ بھی پڑھیےہندو مسلم تنازعے کی ایجاد کا سیاسی فارمولاگائے کے بعد اب ’محبت لنچنگ‘خیال رہے کہ بی جے پی کے رہنماؤں کی طرف سے ان متنازع بیانات سے وی ایچ پی اور بجرنگ دل جیسی سخت گیر ہندو تنظیموں کو جلا مل رہی ہے۔ 'ہندوؤں کو ذلیل کیے جانے' کے دعوے بھڑکائے جا رہے ہیں اور ان کی جانب سے ہندوؤں میں غصہ پیدا کرنے کی کوشش واضح طور پر نظر آتی ہے۔بہار میں وقفے وقفے سے ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات اور تہوار کے موقع پر بڑھتی ہوئی کشیدگی تشویش کا باعث ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ جمہوریت کے سب سے بڑے تہوار یعنی عام انتخابات میں فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ اس سے سیاسی مفاد حاصل ہوتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}