ہاشمی نے نہیں پوچھا کہ ’مجھے کیوں بلایا؟‘

ہاشمی نے نہیں پوچھا کہ ’مجھے کیوں بلایا؟‘

December 06, 2017 - 17:43
Posted in:

مخدوم جاوید ہاشمی قومی سیاست کے ایک باعزت مِس فٹ بزرگ ہیں۔ ایسے بزرگ جن کے سبق آموز جرات مندانہ تجربات کی دھاک محلے میں ہر کسی پر ہوتی ہے۔ ان کی بات کو کوئی نہ نہیں کرتا اور دل ہی دل میں ہاں بھی نہیں کہتا۔ بابا جی کی نصیحت محلے کے بڑے چھوٹے سر جھکا کے کھڑے کھڑے سنتے ہیں اور پھر پیڈل مارتے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مخدوم صاحب میں 66 برس کی عمر میں بھی اتنی ہی توانائی ہے جتنی 45 برس پہلے کی پنجاب یونیورسٹی کے 21 سالہ طلبا یونین کے صدر میں تھی۔ سدابہار توانائی نے اگر کہیں ڈیرہ ڈالا ہے تو وہ جاوید ہاشمی کا ڈیرہ ہے۔ برین ہیمبرج کا حملہ بھی ان کی شعلہ صفتی نہ بجھا سکا۔یہ بھی پڑھیںجاوید ہاشمی: سٹوڈنٹ یونین سے تحریکِ انصاف تک'جاوید ہاشمی تحریکِ انصاف میں شامل'سنہ 1972 میں گورنر پنجاب مصطفیٰ کھر کو دو لڑکیوں کے اغوا کے شبہے میں رگیدنے سے لے کر اسلامی سربراہ کانفرنس کے موقعے پر بنگلہ دیش نامنظور چیختے ہوئے لاہور میں شاہ فیصل کے قافلے کے سامنے سڑک پر آجانے تک، بھٹو دشمنی کے جوش میں ضیا الحق کی پہلی کابینہ میں چند ماہ کے لیے یوتھ منسٹر ہونے اور پھر سنہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی بار ایم این اے بننے اور پھر سنہ 1988 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اور پھر 23 برس بعد پاکستان تحریکِ انصاف میں ڈھائی برس گزار کے دوبارہ مسلم لیگ ن میں واپسی پر اصولی رضامندی تک۔۔۔ اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی

اب نواز شریف ایک بار پھر مصیبت میں ہیں اور جاوید ہاشمی کی کمزوری ہے کہ کسی گاؤں کی دور دراز دخانی چکی سے آتی کوک کوک کوک کی آواز بھی اگر انھیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ محسوس ہو تو دوڑے چلے جاتے ہیں۔ یہ جاوید ہاشمی کی بڑائی ہے کہ مجھے کیوں نکالا فیم نواز شریف سے سات برس بعد ہونے والی ملاقات میں انھوں نے نہیں پوچھا ’مجھے کیوں بلایا؟‘مجھے انتظار ہے اس وقت کا جب نواز شریف کے برے دن ختم ہوں اور کوئی چوہدری نثار علی پھر معاملات خوش اسلوبی سے سنبھال لے اور جاوید ہاشمی ایک بار پھر ’ہاں میں باغی ہوں‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سوٹا گھماتے ہوئے کسی پگڈنڈی پر چلتا جا رہا ہو۔مسافر کون ہے تیرا جائے گا کہاں دم لے لے گھڑی بھر یہ چھئیاں پائے گا کہاں

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}