گرجا گھروں پر حملہ کرنے والا خاندان کون تھا؟

گرجا گھروں پر حملہ کرنے والا خاندان کون تھا؟

May 15, 2018 - 06:00
Posted in:

انڈونیشیا میں سورابایا شہر میں تین گرجا گھروں پر خود کش حملے کرنے والا ایک ہی خاندان تھا جن میں ماں باپ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل تھے۔ پولیس کے سربراہ ٹیٹو کارناویان کے مطابق ماں اور اس کے دو بچوں نے ایک چرچ میں خود کو اڑایا جبکہ باپ اور دو بچوں نے دوسرے چرچوں کو نشانہ بنایا۔ان حملوں میں ماں باپ کا ساتھ دینے والی بچیوں کی عمریں محض نو اور 12 سال تھیں جبکہ لڑکوں کی عمریں 16 اور 18 سال تھیں۔ پولیس سربراہ ٹیٹو کارناوین کے مطابق اس حملے میں پہلی مرتبہ کامیابی سے ایک خاتون خود کش بمبار کو استعمال کیا گیا۔ اسی بارے میںانڈونیشیا: ماں، باپ اور بچوں کے گرجا گھروں پر خود کش حملےاگرچہ گذشتہ برس ایک خاتون نے صدارتی محل پر بم حملے کی منصوبہ بندی تو کی تھی لیکن وہ پکڑی گئی تھی اور اسے جیل ہو گئی تھی۔ چھ افراد پر مشتمل اس خاندان کے بارے میں پہلے حکام نے کہا تھا کہ یہ شام میں جاری لڑائی کے باعث واپس آنے والے سینکڑوں انڈونیشیئن باشندوں میں شامل تھا۔ تاہم اب کہا جا رہا ہے کہ یہ لوگ شام نہیں گئے تھے۔ ان حملوں میں 18 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ یہ گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں انڈونیشیا میں ہونے والا مہلک ترین حملہ تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والے خاندان کا سربراہ ڈیٹا اوئیپریتو انڈونیشیا میں دولتِ اسلامیہ سے متاثرہ گروہ جے اے ڈی کی مقامی شاخ کا سربراہ تھا۔ دونوں نوجوان بیٹوں نے موٹر سائیکل پر چرچ پر خودکش حملہ کیا۔ جبکہ باپ نے بارود سے بھری گاڑی سے دوسرے چرچ میں دھماکہ کیا۔ ماں نے اپنی دونوں بیٹیوں کے ہمراہ چند منٹ بعد تیسرے چرچ میں خود کش حملہ کر دیا۔ ان حملوں کے علاوہ اتوار کی رات کو ایک گھر میں ہونے والے دھماکے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ لوگ بھی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ یہاں سے پولیس کو پائپ بم ملے۔

جکارتہ پوسٹ نامی اخبار کے مطابق ان کے علاوہ پولیس نے چھ مزید افراد کو بھی حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ بچوں سے خود کش حملے کروانا نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے کے علاوہ نائجیریا میں بوکوحرام ایسا کر چکی ہے۔ غریب گھرانوں اور پناہ گزین کیمپوں سے بچوں کو بھرتی کرنے کے بعد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ انھیں اس مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ تاہم پورے کے پورے خاندان کا ایک ساتھ ایسا منظم حملہ کرنا ایک نئی بات ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}