کیمرہ کیپسول، چھوٹی آنت کی بیماری کا پتہ چلانے کی ’دوا‘

کیمرہ کیپسول، چھوٹی آنت کی بیماری کا پتہ چلانے کی ’دوا‘

July 10, 2018 - 16:03
Posted in:

سائنس کی روز افزوں ترقیات کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی بیماری اس کی پہنچ سے باہر نہیں رہے گی۔ایک عرصے تک کئی جان لیوا اور مہلک سمجھی جانے والی بیماریوں پر اب قابو پا لیا گيا ہے۔لیکن ہماری چھوٹی آنت میں اب بھی بہت سی بیماریاں پلتی ہیں جو ابھی تک سائنس کی گرفت میں نہیں آ سکی ہیں۔انڈوسکوپی سے بھی صرف بڑی آنت یا معدے تک ہی پہنچا جا سکتا ہے۔طلسمی دوااب تک چھوٹی آنت کی بیماریوں کی شناخت مشکل رہی ہے۔ لیکن اب ایک کیمرے کے وجود میں آنے سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چھوٹی آنت میں پیدا ہونے والی اور پلنے بڑھنے والی بیماریوں کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوگا۔

جس کیپسول میں یہ کیمرہ فٹ ہوگا اسے ایسی چیز سے تیار کیا گیا ہے جو کھانا ہضم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکل میں نہیں گلے گی۔ جانچ کے وقت مریض کے پیٹ پر ایک بیلٹ باندھی جائے گی جس میں ریڈیو سینسر اور ڈیٹا ریکارڈر نصب ہوگا۔کیپسول کھانے کے بعد سکرین پر ہر سیکنڈ دو تصاویر آتی رہیں گی اور اگر اس میں ویڈیو آپشن کو آن کر دیا جائے تو وہاں کی لائیو فیڈ دیکھی جا سکتی ہے۔یہ بھی پڑھیےایسپرن 'ٹیومر' سے بچاتی ہےکھانا بنانے کی شوقین ایک بغیر پیٹ والی لڑکی!مریض کے ہاضمے کے نظام سے یہ گولی دس سے 48 گھنٹے کے درمیان نکلتی ہے۔ 48 گھنٹے بعد مریض پھر سے ہسپتال آتا ہے جہاں تصاویر اور ویڈیو کی مدد سے کمپیوٹر سکرین پر چھوٹی آنت کی جانچ کی جاتی ہے اور کسی بیماری کے ہونے یا نہ ہونے کا پتہ لگایا جاتا ہے۔یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ کیپسول جیسے اس کیمرے سے چھوٹی آنت میں کینسر کی موجودگی کا پتہ چل سکے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}