کیا چندہ جمع کر کے ڈیم بن سکتا ہے؟

کیا چندہ جمع کر کے ڈیم بن سکتا ہے؟

July 11, 2018 - 12:45
Posted in:

پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر آنے والی ایک رپورٹ کے بعد حال ہی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا کہ دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر فوری شروع کی جائے اور اسی سلسلے میں انھوں نے عوام سے چندے کی اپیل بھی کی۔ اس مقصد کے لیے چیف جسٹس نے فنڈ بنانے کا حکم دیا اور ’دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ 2018‘ کے نام سے قائم کیے گئے بینک اکاؤنٹ میں خود دس لاکھ روپے دیے۔ ثاقب نثار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے 15 لاکھ روپے اس فنڈ میں ڈال دیے۔ پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی اعلان کیا کہ فوج کے افسران دو دن اور سپاہی ایک دن کی تنخواہ اس ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں گے۔ اسی بارے میںپاکستان کے دریا خشک کیوں ہو رہے ہیں؟کھربوں روپے مالیت کا پانی ضائعاس کے علاوہ خیبرپختونخواہ کے سرکاری افسران نے تین دن جبکہ پمز ہسپتال، سٹیٹ بینک اور واپڈا کے اہلکاروں نے بھی اپنی تنخواہوں سے رقم اس فنڈ میں جمع کروانے کا اعلان کیا۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر چندے کی تفصیلات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 11 جولائی کی صبح تک تقریباً ایک کروڑ روپے کی رقم جمع ہو چکی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا چندہ جمع کر کے کوئی ڈیم بنایا گیا ہے یا ایسا ممکن بھی ہے؟ دیامیر بھاشا ڈیمدیامیر بھاشا ڈیم کے قیام کا منصوبہ فوجی آمر اور صدر، جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیش کیا گیا جو کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان میں بھاشا کے مقام پر تعمیر ہونا ہے۔ لیکن متعدد بار تعمیر کا افتتاح ہونے کے باوجود فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ڈیم ابھی تک صرف ابتدائی مراحل میں ہے۔ 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے ڈیم کے منصوبے کے آغاز پر اس کا تخمینہ 12 ارب ڈالر لگایا گیا تھا لیکن مختلف ماہرین کے مطابق اس ڈیم کی کل لاگت 18 سے 20 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔واضح رہے کہ دریاؤں کے تحفظ کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل ریورز کے مطابق دنیا بھر میں بڑے ڈیم بنانے کا رجحان کم سے کم ہوتا جا رہا ہے اور اس کی مختلف وجوہات میں سے ایک وجہ ڈیم کی تعمیر کے لیے لگائے گئے ابتدائی تخمینے میں مسلسل اضافہ ہونا ہے۔ حکومت پاکستان کو بھی دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایے کی رہی جس کے لیے انھوں نے مختلف عالمی مالیاتی ادارے جیسے ورلڈ بینک، ایشین ڈیویلپمینٹ بینک، آغا خان فاؤنڈیشن وغیرہ شامل ہیں لیکن ان تمام اداروں نے سرمایہ دینے سے معذرت کر لی اور اس کی وجہ ڈیم کی متنازع علاقے میں موجودگی بتائی۔

لیکن حصار فاؤنڈیشن سے وابستہ ماہر معاشیات ڈاکٹر پرویز عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کیے گئے فنڈ سے ڈیمز کی تعمیر کی کل لاگت کا بمشکل پانچ فیصد حصہ جمع ہو سکتا ہے۔ساتھ ساتھ انھوں نے مزید کہا کہ اگر سپریم کورٹ بونڈ جاری کر دے تو مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر فنانشل منصوبہ بنایا جا سکتا ہے اور اس کی مدد سے زیادہ رقم حاصل ہو سکتی ہے۔’عوام سے چندے کی اپیل کرنا جذباتی فیصلہ لگتا ہے، نہ کہ کوئی سنجیدہ مشورہ۔‘یہ بھی پڑھیے’ہنہ جھیل خشک، ہزاروں مچھلیاں ہلاک‘پانی ذخیرہ کرنے کے اہلیت اور پانی کا ضیاع پاکستان میں 15 میٹر سے زیادہ بلند ڈیموں کی تعداد 150 ہے جس میں تربیلا اور منگلا سب سے پرانے ہیں جو کہ بالترتیب 1974 اور 1967 میں مکمل ہوئے تھے۔ حال ہی میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی جانب سے کہا گیا تھا کہ تربیلا ڈیم ’ڈیڈ لیول‘ پر پہنچ گیا ہے جبکہ منگلا ڈیم میں اب صرف آٹھ لاکھ ایکڑ فیٹ پانی رہ گیا ہے۔ ارسا نے مزید کہا کہ اگر ملک میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں تو پانی کا بحران مزید بڑھ جائے گا۔ دوسری جانب آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر اداروں کی اسی سال آنے والی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے۔ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے اور پورے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف دو بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے محض 30 دن کا پانی جمع کیا جا سکتا ہے۔ ارسا کے مطابق پاکستان میں بارشوں سے ہر سال تقریباً 145 ملین ایکڑ فِٹ پانی آتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف 13.7 ملین ایکڑ فِٹ پانی بچایا جا سکتا ہے۔ گذشتہ سال ارسا نے سینیٹ میں بتایا تھا کہ پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہو جاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لیے منگلا ڈیم کے حجم جتنے تین اور ڈیم کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ پانی کے ضیاع کی چند بڑی وجوہات میں موسمی حالات کی تبدیلی اور بارشوں کی کمی، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی بچانے کے انتہائی ناقص ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے بھی بڑی تعداد میں پانی کی ضیاع ہوتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}