کیا پیسہ آپ کو ورلڈ کپ جتوا سکتا ہے؟

کیا پیسہ آپ کو ورلڈ کپ جتوا سکتا ہے؟

June 14, 2018 - 08:01
Posted in:

ورلڈ کپ فٹبال کے مقابلوں میں کوئی ٹیم کیسا کھیلے گی اس کے بارے میں پیشگوئیاں کوئی نئی بات نہیں۔ یقین نہیں تو جوئے بازی کی صنعت سے پڑتال کر لیجیے۔ لیکن گذشتہ کچھ برسوں میں وہ ذرائع جو مالیاتی منڈیوں پر نظر رکھا کرتے تھے نہ صرف ایسی پیشگوئیاں کر رہے ہیں بلکہ ان کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ گذشتہ مہینے سوئس بینک یو ایس بی نے میزبان ملک روس میں سرمایہ کاری کے مواقع پر مرکوز ایک رپورٹ جاری کی لیکن رہورٹ کے صفحہ تین پر بینک کہتا ہے کہ سنہ 2018 کا ورلڈ کپ لگارتار دوسری مرتبہ بھی جرمنی کے جیتنے کے امکان ہیں۔ اگر جرمنی جیتا تو یہ پانچویں بار ہو گا کہ اس نے فٹبال کا عالمی کپ جیتا ہو۔بینک کے مطابق یہ پیشگوئی تجزیہ کاروں کی ایک 18 رکنی ٹیم نے کی ہے جس نے معاشی ریاضیات کے حساب کو استعمال میں لاتے ہوئے کمپیوٹر پر دس ہزار خاکے دیکھے جنھیں عام طور پر سٹاک مارکیٹ کی پیشگوئی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ بھی پڑھیےورلڈ کپ 2018: وہ سب کچھ جو آپ جاننا چاہتے ہیںآپ کے خیال میں 2018 کا فٹبال ورلڈ کپ کون جیتے گا؟ کیا آپ فٹبالرز کو ٹیٹوز کی مدد سے پہچان سکتے ہیں؟فٹبال ورلڈ 2018: کون کھیلے گا اور کون نہیں؟کیا پیشنگوئی کی جا سکتی ہے؟یہ کام ٹیکنالوجی کی معراج ہے لیکن ماہرینِ معاشیات کافی عرصے سے مطالعہ کر رہے ہیں کہ میدان کے باہر موجود عوامل کیسے میچ کے نتیجے پر اثرانداز ہوتے ہیں؟خاص طور پر اگر ہم ورلڈ کپ کی بات کریں تو تجزیہ کرنے والے یہ دیکھتے ہیں کہ کسی ملک کی آبادی اور اس کی فی کس مجموعی پیداوار کتنی ہے۔ماہرین کو یہ معلوم ہو گیا ہے کہ ان چیزوں کا اثر ضرور ہوتا ہے۔ لیکن اس میں ایک چھوٹی سے اور بات بھی ہے۔ ’ایسے معاشی اشارے ہوتے ہیں جن کے بارے میں ثبوت مل چکا ہے کہ وہ میچوں کے نتیجے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ آبادی، فی کس مجموعی ملکی پیداوار اور بنیادی ڈھانچہ ان اشاروں میں سے کچھ ہیں۔‘

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین وہ ملک ہے جہاں بہت زیادہ لوگ فٹبال کھیل رہے ہیں۔ یہ تعداد 26 ملین ہے جس کے بعد امریکہ کا نمبر آتا ہے۔ تیسرے نمبر پر انڈیا ہے جو فی الوقت 'خراب کھیل رہا ہے۔‘ ایک ارب سے زیادہ آبادی اور دنیا کی دسویں بڑی معیشت ہونے کے باوجود انڈیا کبھی فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل مقابلوں تک نہیں پہنچا۔ اس نے سنہ 1950 میں برازیل میں کھیلے جانے والے مقابلوں کے لیے کوالیفائی کیا تھا لیکن ٹورنامنٹ شروع ہونے سے قبل وہ اس سے علیحدہ ہو گیا تھا۔لیکن انڈیا جسے کرکٹ کے حوالے سے زیادہ بہتر جانا جاتا ہے اب فٹبال میں بھی بہتر ہو رہا ہے۔ فیفا رینکنگ میں اس کا نمبر 97 ہے جو سنہ 1993 میں ایسی رینکنگ کے آغاز کے بعد سے انڈیا کا سب سے اونچا درجہ ہے۔سنہ 2026 میں فٹبال کے عالمی مقابلوں میں موجود 32 کی بجائے 48 ٹیمیں شرکت کریں گی اور ہو سکتا ہے کہ ایشیائی ممالک کی نمائندگی چار کی بجائے آٹھ ٹیمیں کریں۔لیکن حیران کن باتیں بھی ممکن ہیں۔ جیسے کہ روس میں سنہ 2018 میں عالمی کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں اس وقت ہوا جب آئس لینڈ نے پہلی بار اس گروپ میں ٹاپ کیا جس میں کروئشیا، یوکرین اور ترکی شامل ہیں یا ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ شام کی ٹیم نے جہاں افراتفری کا عالم ہے، ان مقابلوں میں شرکت کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔سیز مینکسی کہتے ہیں 'فٹبال اب بھی انتہائی ناقابلِ پیشگوئی کھیل ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم آخر اتنی پرواہ کیوں کرتے؟'جرمنی کے فٹبال شائقین کے لیے ایک نوٹ: سوئٹزرلینڈ کے بینک یو ایس بی نے آخری مرتبہ فٹبال ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی درست پیشگوئی آ ج سے 12 سال پہلے سنہ 2006 دوہزار چھ میں کی تھی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}