کیا میٹھی چیزیں واقعی آپ کے لیے نقصان دہ ہیں؟

کیا میٹھی چیزیں واقعی آپ کے لیے نقصان دہ ہیں؟

October 11, 2018 - 12:09
Posted in:

دور حاضر میں یہ تصور کرنا مشکل ہے لیکن آج سے 80 ہزار سال پہلے ایسا وقت بھی تھا کہ لوگوں کو سال کہ چند مہینے ہی مٹھاس میسر ہوتی تھی جس وقت پھلوں کا موسم ہوتا تھا۔ شکاری کبھی کبھار اور یہ پھل جمع کرتے تھے اور اس کے حصول میں ان کا مقابلہ پرندوں سے رہتا۔ لیکن اب ہمیں سارا سال میٹھا میسر رہتا ہے جس میں غذائیت بھی کم ہوتی ہے۔ میٹھے تک رسائی انتہائی آسان ہے، صرف ایک سیریئل کا ڈبہ یا سافٹ ڈرنک کا کین کھولنے پر بھی مٹھاس مل جاتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے کسی ماہر کی ضرورت نہیں کہ پرانے دور کی نسبت ہمارا میٹھے کا استعمال کم صحت مند ہے۔ آج یہی میٹھا لوگوں کی صحت کا اولین دشمن ہے۔ حکومتیں اس پر ٹیکس لگا رہی ہیں، سکول اور ہسپتال اسے وینڈنگ مشینوں سے ہٹا رہے ہیں اور ماہرین اسے ہماری خوراک سے مکمل ختم کرنے کے مشورے دے رہے ہیں۔ اسی بارے میں'چینی مکمل طور پر چھوڑنا ایک بڑی غلطی تھی'’ذیابیطس کی علامات مرض سے برسوں پہلے ظاہر ہو جاتی ہیں‘لیکن اب تک سائنسدان انتہائی کیلوریز کی حامل چینی کے صحت پر برے اثرات ثابت کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ گذشتہ پانچ برس میں کی جانی والی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پھلوں اور گنے سے حاصل ہونے والی مٹھاس فرکٹوز کی 150 گرام یومیہ مقدار پر مشتمل خوراک انسولین کی حساسیت کو کم دیتی ہے۔اسی وجہ سے صحت کے دیگر مسائل کا خطرہ ہوتا ہے جن میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کا مسئلہ شامل ہے۔ تاہم محققین کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب میٹھے کی زیادہ مقدار زیادہ کیلوریز کے ساتھ ملتی ہے تو صحت کو متاثر کرتی ہے۔ یعنی صحت زیادہ چینی اور زیادہ کیلوریز کے ایک ہی وقت میں لینے سے متاثر ہوتی ہے۔ خطرہ ہے کیا؟اسی اثنا میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ خوراک کے کسی ایک جزو کو بدنام کرنا خطر ناک ہے جس کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہو کر ہم خوراک میں شامل ایک اہم عنصر کو حذف کر دیتے ہیں۔وہ میٹھا جسے ہم اضافی مٹھاس کے طور پر استعمال کرتے ہیں اس میں چینی، سویٹنرز، شہد اور پھلوں کے جوس شامل ہیں اسے کشید کرنے کے بعد صاف کر کے خوراک اور مشروبات میں ذائقہ بڑھانے کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ مٹھاس کے مالیکیولز سے حاصل ہونے والے پیچیدہ اور سادہ دونوں طرح کے کاربو ہائیڈریٹس نظام انہضام میں جا کر گلوکوز کی شکل اختیار کرتے ہیں جنہیں جسم کے خلیے استعمال کر کے توانائی بناتے ہیں جو دماغ کو بھی طاقت فراہم کرتے ہیں۔ پیچیدہ کاربو ہائیڈریٹس میں اناج اور سبزیاں آتی ہیں جبکہ سادہ کاربو ہائیڈریٹس جلد مٹھاس کو خارج کرتے ہیں جو خون میں شامل ہو جاتی ہے ان میں قدرتی طور پر حاصل ہونے والی مٹھاس شامل ہے جیسا کہ فرکٹوس، لیکٹوس، سرکوس اور گلوکوز جبکہ انسان کے بنائے ہوئے ہائی فرکٹوس کارن سیرپ بھی ہیں۔ 16 ویں صدی سے پہلے صرف امیر لوگ ہی چینی خرید سکتے تھے لیکن نوآبادیاتی تجارت کے بعد یہ زیادہ لوگوں کو میسّر آنے لگی۔ 1960 کی دہائی میں بڑی پیمانے پر گلوکوز کو فریکٹوز میں تبدیل کیے جانے پر ہائی فریکٹوز کارن سیرپ کی تخلیق ہوئی جس میں گلوکوز اور فریکٹوز مجتمع ہیں۔یہ وہ طاقت ور مجموعہ ہے جو کسی بھی میٹھے کے مقابلے طبی ماہرین کے مطابق سب سے جان لیوا ہے اور بیشتر لوگ جب میٹھے کے بارے میں سوچتے ہیں تو انہیں اسی کا خیال آتا ہے۔

1970 سے 1990 کے دوران امریکہ میں ہائی فریکٹوز کارن سیرپ کا استعمال کسی بھی دوسری خوراک کے مقابلے میں دس گنا بڑھا ہے۔ محققین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ملک میں موٹاپا بھی بڑھ رہا ہے۔ اسی اثنا میں میٹھے مشروبات جن میں ہائی فریکٹوز کارن سیرپ کا استعمال ہوتا ہے محققین کی تحقیق کا مرکزی نکتہ رہے تاکہ ان کے صحت پر اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ 88 مطالعوں کے میٹا ڈیٹا کے مطابق میٹھے مشروبات اور جسمانی وزن میں تعلق پایا گیا۔ یعنی لوگ دوسری خوراک کے مقابلے میں ان مشروبات سے توانائی حاصل نہیں کر پائے کیونکہ شاید یہ مشروبات بھوک مزید بڑھا دیتے ہیں اور سیر ہو جانے کے کیفیت کو کم کرتے ہیں۔ لیکن سبھی لوگ اس بات پر متفق بھی نہیں کہ ہائی فریکٹوز کارن سیرپ موٹاپے کے بحران کی وجہ ہے۔ کچھ ماہرین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ گذشتہ 10 برسوں میں امریکہ سمیت کئی ممالک میں میٹھے کے استعمال میں کمی آئی ہے۔ اگرچہ موٹاپے کی شرح بڑھ رہی ہے۔ حالانکہ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں ہائی فریکٹوز کارن سیرپ کم یاب یا نایاب ہے پھر بھی وہاں موٹاپے اور ذیابیطس موجود ہے۔ جیسا کہ آسٹریلیا اور یورپ کے علاقے۔

میٹھا اور بیماریاںصرف ہائی فریکٹوز کارن سیرپ ہی وہ واحد میٹھا نہیں جو مسائل کی وجہ ہے۔ اضافی میٹھا جیسا کہ فریکٹوز کو بذاتِ خود کئی مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ جب جگر کے خلیے ان فریکٹوز کو توڑتے ہیں تو اس سے بننے والی چیزوں میں سے ایک ٹرائی گلیسرائڈ ہوتا ہے جو کہ چکنائی کی ایک قسم ہے یہ وقت کے ساتھ ساتھ جگر میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ جب یہ خون کے بہاؤ میں شامل ہوتا ہے تو یہ دل کی شریانوں میں بھرنے والی چکنائی کو بڑھا دیتا ہے۔ ایک 15 سالہ مطالعہ اس بات کی تائید کرتا ہے جس کے مطابق روزانہ 25 فیصد کیلیوریز اضافی میٹھے سے حاصل کرنے والے افراد میں دل کے عارضے کے باعث مرنے کے امکان دوگنا ہو جاتے ہیں۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس کو بھی اضافی میٹھے سے جوڑا جاتا ہے۔ 1990 کی دہائی میں کیے جانے والے دو مطالعوں کے مطابق روزانہ ایک سے زیادہ مرتبہ سافٹ ڈرنک یا فروٹ جوس لینے والی خواتین میں ایسی خواتین کے مقابلے میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے واقعات دو گنا تھے جو ایسا کبھی کبھار ہی کرتی تھیں۔ لیکن پھر بھی یہ بات غیر واضح ہے کہ کیا واقعی دل کی بیماری اور ذیابیطس کی اصل وجہ میٹھا ہی ہے۔ یونیورسٹی آف لوزان میں فزیولوجی کے پروفیسر لیوک ٹیپی ان لوگوں میں شامل ہیں کہ جو کہتے ہیں کہ دل کے عارضے، موٹاپے اور ذیابیطس کی وجہ کیلوریز کی زیادہ مقدار ہے اور میٹھا صرف اس کا ایک جزو ہے۔ان کا کہنا ہے ’زیادہ عرصے تک ضرورت سے زیادہ توانائی کا حصول جسم میں چکنائی جمع ہونے کا باعث بنتا ہے جس کا نتیجہ انسولین کی مزاحمت اور چکنائی سے بھرپور جگر کی صورت میں ملتا ہے اب اس کے لیے خوراک کی نوعیت کچھ بھی ہو سکتی ہے۔‘’ایسے افراد جو زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں ان کے زیادہ تونائی والی غذائیں کھانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا چاہے اس میں ہائی فریکٹوز یا میٹھا شامل ہو۔‘مجموعی طور پر اضافی میٹھے کے باعث ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کے عارضے، موٹاپے یا کینسر کے شواہد بہت کم ہیں۔ پروفیسر ٹیپی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ ایتھلیٹ زیادہ میٹھا استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے دل کے عارضے کے امکانات کم ہوتے ہیں کیونکہ ان کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی ورزش کے دوران یہ زیادہ فریکٹوز ہضم ہو جاتے ہیں۔

میٹھے کا نشہ اور دماغی صحتمیٹھے کے استعمال کو ایک ’لت‘ بھی قرار دیا گیا۔۔۔ لیکن یہ نتیجہ بھی وہ نہیں جو بظاہر نظر آتا ہے۔ برٹش جنرل آف سپورٹس میڈسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ اگر چوہوں کی خوراک سے میٹھا نکال دیا جائے تو ان پر اس کی طلب کے ویسے ہی اثرات ہوتے ہیں جیسے کہ کوکین کے ہوتے ہیں۔تاہم اس جریدے پر مطالعے کے نتائج کو غلط طریقے سے بیان کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ ایک بڑی تنقید یہ تھی کہ ان چوہوں کو دن کے مخصوص وقت میں میٹھا دیا جاتا تھا اور اگرانہیں یہ کسی بھی وقت لینے کی اجازت ہوتی جیسا کہ انسان کرتا ہے تو شاید یہ لت جیسی علامات ظاہر نہ ہوتیں۔ تاہم مختلف مطالعوں میں یہ بتایا گیا کہ کس طرح میٹھا دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ آسٹریلیا میں سوینبرنز سنر فار ہیومن سائکوفارماکولوجی کے ایک محقق میتھو پیز نے میٹھے مشروبات اور دماغ کی صحت کے درمیان تعلق کو ایم آر آئی سکین کی مدد سے جانچا۔ جو لوگ باقاعدگی سے سافٹ ڈرنکس اور پھلوں کے جوس لیتے ہیں ان کے دماغ کے حجم نسبتاً کم اور یاداشت خراب ہوتی ہے۔ دن میں دو مرتبہ میٹھے مشروبات پینے والوں کا دماغ دو سال زیادہ بوڑھا ہوتا ہے ان لوگوں کی نسبت جو یہ بالکل نہیں لیتے۔لیکن پیز نے وضاحت کی کہ چونکہ انھوں نے پھلوں کے جوسز لینے پر تحقیق کی اس لیے وہ نہیں جانتے کہ تنہا چینی کے دماغی صحت پر کیا اثرات ہوں گے۔ تحریک کا باعث ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ میٹھا کھانے سے معمر افراد کو مشکل کام کرنے کے لیے تحریک ملتی ہے۔ جبکہ ایک دوسری حالیہ تحقیق میں کہا گیا کہ میٹھا بالغوں میں یاداشت اور کارکردگی بہتر بنانے میں مدد گار ہوتا ہے۔ اس مطالعے کے دوران ماہرین نے شرکا کو ایسے مشروبات دیے جن میں گلوکوز شامل تھا اور انہیں یادداشت سے متعلق کئی کام دیے۔ جبکہ دوسرے شرکا کو مصنوعی مٹھاس والے مشروبات دیے۔ اس کے بعد ان افراد کی مصروفیت کے سطح، ان کی یادداشت اور ان کی کوشش کے بارے میں ان کے خیالات کو جانچا گیا۔ نتائج کہ مطابق میٹھا لینے سے معمر افراد میں مشکل کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا اور انھیں یہ محسوس نہیں ہوا کہ انہیں اس کے لیے زیادہ کوشش کرنی پڑی۔ خون میں شوگر لیول بڑھنے سے انہیں ٹاسک کے دوران خوشگواریت کا احساس رہا۔ نوجوانوں میں گلوکوز والے مشروب سے ان کی توانائی تو بڑھی ہوئی محسوس ہوئی لیکن اس سے ان کے مزاج اور یاداشت پر کوئی فرق ہیں پڑا۔

ایک چمچ چینی اگرچہ ہدایت کی جاتی ہے کہ ہے ہماری یومیہ کیلوریز میں اضافی میٹھے کی مقدار کو 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے تاہم غذائی ماہر رینی مکگریگر کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر انسان کے لیے ایک الگ صحت مند متوازن غذا ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’میں ایتھلیٹس کے ساتھ کام کرتی ہوں انہیں زیادہ میٹھے کی ضرورت ہوتی ہے خصوصاً جب وہ سخت کام کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ یہ جلد ہضم ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ رہنمائی کے مطابق اسے لیتے ہیں۔‘جو لوگ ایتھلیٹ نہیں ہوتے ان کے لیے صحت مند غذا میٹھے کا ہونا ضروری نہیں۔ لیکن بعض ماہرین کہتے ہیں کہ اسے زہر قرار دے کر بالکل ترک نہیں کر دینا چاہیے۔ مک گریگر کہتی ہی کہ کسی بھی خوراک کو اچھا یا برا قرار دینا ٹھیک نہیں۔ اور میٹھے کو ممنوع قرار دینا اسے مزید پرکشش بناتا ہے۔ ’جب آپ کوئی چیز نہیں لے سکتے آپ اسے لینا چاہتے ہو۔ اس سے لیے میں نے کبھی کسی چیز کی حد بندی نہیں کی۔ میرے خیال میں اگر کسی خوراک کی کوئی غذائی اہمیت نہیں تو اس کی کوئی دوسری اہمیت ضرور ہوگی۔‘

سائنس اور مذہب کا تعلق یونیورسٹی ایلن لیونوٹز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جیمز میڈسن سائنس اور مذہب کے باہمی تعلق کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میٹھے کو ایک برائی کے طور پر دیکھے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تاریخ میں ہم نے ہر اس چیز کو شیطانی قرار دے دیا جس سے مزاحمت مشکل ہو۔ (وکٹورین دور میں جنسی تسکین کا یہی معاملہ تھا)آج ہم یہ میٹھے کے ساتھ کرتے ہیں اس کی طلب پر قابو پانے کے لیے۔ ایلن لیونوٹز کا کہنا ہے کہ ’میٹھا ایک فوری تسکین کا باعث ہے اس لیے ہم اسے عظیم گناہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘’جب ہم چیزوں کو اچھے یا برے گروہوں میں دیکھتے ہیں تو یہ ناقابلِ تصور ہوتا ہے کہ بری چیز کبھی معتدل بھی ہو سکتی ہے۔ یہی سب میٹھے کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ‘ان کا کہنا ہے کہ خوراک کو اس انتہا پسندی کے ساتھ دیکھنا ہمیں اس قدر فکرمند بنا دیتا ہے کہ ہم کیا کھا رہے ہیں اور روزانہ کی خوراک کے ضروری اجزا کے بارے میں اخلاقی فیصلہ کرنا کہ کیا کھانا چاہیے کیا نہیں۔‘

غذائیت اور مٹھاس والی خوراک میں ابہام میٹھے سے متعلق جاری بحث کے دوران ہم ایسی خوراک اور مشروبات جن میں اہم غذائیت نہیں ہوتی اور صحت مند مٹھاس والی خوراک جیسا کہ پھلوں میں ابہام کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ 28 سالہ ٹینا گروڈن کے ساتھ ہوا جو کہتی ہیں کہ انھوں نے تمام صحت مند میٹھے ترک کر دیے اور اس کی جگہ زیادہ پروٹین اور چکنائی والی سبزیوں کی خوراک شروع کر دی جس کی وجہ سے ان کے کھانے کا معمول تباہ ہو گیا۔ ’جب مجھے کھانے کے فورا بعد قے آنے لگی تو میں نے جان لیا کہ ایسا مزید نہیں چل سکتا۔‘’میں میٹھے کی ہر شکل سے خوفزدہ ہو گئی تھی۔ لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ اضافی میٹھے اور کاربوہائیڈریٹ کی صورت میں میٹھے میں فرق کیا ہوتا ہے۔ پھر میں نے قدرتی مٹھاس کی حامل ہائی فریکٹوز، ہائی سٹارچ والی خوراک اپنائی جن میں پھل، سبزیاں، نشاستے اور پھلیاں شامل تھیں۔ ’پہلے دن ایسا لگا دھند چھٹ گئی ہو اور اب مجھے صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ بالآخر میں نے اپنے خلیوں کو کچھ ایندھن دیا۔`جہاں ایک طرف مختلف طرح کی مٹھاس کے صحت پر اثرات کے حوالے سے اختلاف رائے جاری ہے تو ہمارے لیے بہتر یہ ہے کہ ہم اس کے بارے میں کم سوچیں۔ مک گریگر کہتی ہیں ’ہم نے غدائیت کو ضرورت سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ بنیادی طور پر سب جس چیز کی تلاش میں ہیں وہ ہیں تکمیل کا احساس، کامیاب اور بہترین محسوس کرنا۔ لیکن یہ چیز وجود ہی نہیں رکھتی۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}