کیا جنسی لت کا علاج ممکن ہے؟

کیا جنسی لت کا علاج ممکن ہے؟

October 20, 2017 - 09:39
Posted in:

’میں یہاں ہوں، جتنا میں اپنے آپ کو سنبھال سکتا ہوں، سنبھالا۔ میں اچھا نہیں ہوں لیکن میں سخت محنت کرتا ہوں۔ مجھے مدد کی ضرورت ہے ہم سب غلطی کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مجھے دوسرا موقع دیا جائے گا۔‘ہالی ووڈ میں فلموں کے اہم پروڈیوسروں میں سے ایک ہاروی وائن سٹین نے یہ الفاظ کچھ دن پہلے صحافیوں کے سامنے ادا کیے تھے۔ ہالی وڈ کی بہت سی اداکاراؤں نے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔اب خبر یہ ہے کہ ہاروی کا میڈوز میں ایریزونا کے ایک مشہور بحالی مرکز میں ’سیکس ایڈکشن‘ یا جنسی لت کا علاج شروع کیا گیا ہے۔ ماضی میں نامور شخصیات جیسے مائیکل ڈگلس اور ٹائیگر ووڈز بھی اپنا علاج کروا چکے ہیں۔مجھے عریاں قطار میں کھڑا کیا گیا: جینیفر لارنسجنسی ہراس کا الزام لگانے والی خواتین کون ہیں؟انھیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاج پورا کرنے کے لیے وہ بعد میں یورپ بھی جائیں گے۔ اسے انھوں نے اور ان کی ٹیم نے بہتری کا ایک طریقہ قرار دیا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگوں کے خیال میں یہ فرار اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہونے کی ترکیب ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ جنسی لت کو روکنے کا بہترین طریقہ تھراپی کی مدد سے جنسی خواہشات کو کنٹرول کرنا ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر اس مریض سے مخصوص وقت کے جنسی عمل نہ کرنے کے لیے کہتا ہے۔جنسی لت کی عام وجوہات میں نوجوانوں میں بچپن یا جنسی بدسلوکی کے واقعات ہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسی زندگی گزارنے والا شخص جنسی تعلقات کے بعد پچھتاوا محسوس کرتا ہے یا نہیں۔ ڈاکٹر الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ’ہم لوگوں کو ابھی جنسی تعلقات کو روکنے کے لیے نہیں کہتے ہیں۔ تاہم جیسا کہ ہاروی وین سٹائن کا کیس ہے، انھیں کسی بھی عورت کے ساتھ اکیلے نہیں ہونا چاہیے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}