کیا ایپل کروڑوں کا ٹیکس کھاتا رہا؟

کیا ایپل کروڑوں کا ٹیکس کھاتا رہا؟

November 07, 2017 - 23:45
Posted in:

پیراڈائز پیپرز میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش کمپنی کس طرح ایک مخفی ڈھانچے کی مدد سے کروڑوں کا ٹیکس بچاتی رہی ہے۔ان انکشافات سے واضح ہوتا ہے کہ کیسے 2013 میں ایپل نے آئرلینڈ میں ٹیکس کے حوالے سے اپنے متنازع اقدامات کے بعد حکومتی کارروائی سے بچنے کے لیے بیرونِ ملک رقوم منتقل کیں۔ جس کے بعد اس نے اپنی اس فرم کو جرسی نامی جزیرے پر منتقل کر دیا جس میں ایپل کی بہت سی غیر ٹیکس شدہ آف شور رقم تھی جس کی موجودہ مالیت 252 ارب ڈالر ہے۔تاہم ایپل کے مطابق اس کے اس نئے ڈھانچے کی وجہ سے ٹیکس میں کمی نہیں ہوئی۔اس کے بقول وہ اب بھی دنیا میں سب سے بڑی ٹیکس دینے والی کمپنی ہے جو گذشتہ تین برس کے دوران کارپوریشن ٹیکس کی مد میں 35 ارب ڈالر ادا کر چکی ہے۔ پیراڈائز پیپرز کے بارے میں یہ بھی پڑھیےپیراڈائز پیپرز لیکس: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟ دولت کیسے چھپا کر رکھی جاتی ہے؟امرا کی آف شور کمپنیوں میں چھپائی گئی دولت کا انکشاف

پیراڈائز پیپرز افشا ہونے والی وہ دستاویزات ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق قانونی کمپنی ایپلبی سے ہے جن میں سیاست دانوں، مشہور شخصیات، کاروباری اداروں اور شخصیات کے کاروباری سودوں اور سرگرمیوں کی معلومات شامل ہیں۔یہ 13.4 ملین دستاویزات جرمنی کے اخبار سویڈیوچے زیٹونگ نےحاصل کیں جس نے تحقیقاتی صحافیوں کے عالمی کنسورشیم سے انھیں شیئر کیا۔ بی بی سی کے لیے پینوراما سمیت 67 ممالک میں 100 دیگر میڈیا کے اداروں نے جن میں برطانوی اخبار گارڈیئن بھی شامل ہے ان دستاویزات پر عالمی تحقیق میں حصہ لیا۔ بی بی بی سی ان دستاویزات کے ماخذ سے لاعلم ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}