کھچڑی کے چار یار، قیمہ، پاپڑ، گھی، اچار

کھچڑی کے چار یار، قیمہ، پاپڑ، گھی، اچار

November 13, 2017 - 12:27
Posted in:

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں چار نومبر کو منعقدہ کھانوں کے فیسٹیول میں عام طور پر غریب کی کٹیا میں پکنے والی کھچڑی کو وہ اعزاز بخشا کہ لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔ اس موقعے پر 918 کلو گرام کی کچھڑی انڈیا گیٹ کے لان میں بنائی گئی اور 60 ہزار بچوں میں تقسیم کی گئی۔ ساتھ ہی کھچڑی کا ہندوستان کی غذا کے طور پر اعلان کیا گيا۔چاول اور انواع و اقسام کی دالوں کے میل سے بننے والی کھچڑی اصل میں غریبوں کا من و سلویٰ تھی۔ یہ ہندوستان کا قدیم پکوان ہے اور کئی جگہ اس کا ذکر ملتا ہے۔ پندرہویں صدی میں روس کے منچلے سیاح آفانا سیانکی تن نے اپنے جنوبی ایشیا کے سفر کے دوران کھچڑی کے مزے لوٹے۔ سیلوکس کے یونانی سفیر نے دال اور چاول سے بنے اس پکوان کو جنوبی ایشیا کے لوگوں کی محبوب غذا بتایا اور ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ ان سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ کھچڑی اصل میں ہندوستان کی اولین غذا ہے۔مغل بادشاہوں کے عہد حکومت میں شاہی باورچیوں نے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا اور اسے شاہی پکوان کا درجہ دیا۔ اکبر بادشاہ کے دربار کے نورتن ابوالفضل کی تصنیف آئین اکبری میں سات قسم کی کھچڑی کا ذکر ملتا ہے جو بادشاہ کے خاصے میں شامل ہوتی تھیں۔

اس کا پکانا آسان اور ایک ہنڈیا کا کھیل ہے۔ یہ ایک ہی ہانڈی میں کم محنت سے تیار ہو جاتی ہے۔ کھچڑی اب ہندوستان کی پہچان بن چکی ہے۔ عوام کے ساتھ ساتھ اسے سرکاری اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اس مہنگائی کے زمانے میں کھچڑی کا پکانا دیگر غذاؤں کے مقابلے میں کم قیمت اور صحت مند ہے۔٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}