کوئی ہے جو شاداب کی گُگلی کو سمجھے؟

کوئی ہے جو شاداب کی گُگلی کو سمجھے؟

November 05, 2018 - 06:20
Posted in:

پنجابی زبان کا ایک مقولہ ہے کہ آگے دوڑنے کا یہی نقصان ہے، بندہ اکیلا رہ جاتا ہے۔ کین ولیمسن یقیناً پنجابی زبان نہیں جانتے۔ لیکن اگر جانتے بھی ہوتے تو کیا وہ خود کو ایسا کرنے سے روک پاتے؟ٹاس کے وقت جب ڈینی موریسن نے ان سے سوال کیا کہ آج ٹاس پہ تو کوئی قسمت نہیں جاگی، بعد میں کوئی امکان ہے؟ تو ولیمسن نے ذرا شکستہ نظروں سے وہی کہا جو عموماً ایسی صورت حال میں انسان کہہ سکتا ہے کہ ہم کوشش کریں گے۔ایسا نہیں کہ ولیمسن نے کوشش نہیں کی۔ پاور پلے میں ان کے بولرز نے بھرپور جان لگائی۔ بالخصوص فخر زمان کے خلاف جس طرح کا تزویراتی جال بُنا گیا، خدشہ تھا کہ اتوار کو کیوی بولنگ پاکستان کو بڑا ٹوٹل نہیں بنانے دے گی۔مگر یو اے ای کی کرکٹ میں پاور پلے کچھ زیادہ معنی نہیں رکھتے۔ اصل گیم طے ہوتی ہے مڈل اوورز میں، جہاں سپن یہ تعین کرتی ہے کہ کون کس رفتار سے بھاگے گا اور کہاں تک پہنچ پائے گا۔اور جونہی محمد حفیظ کریز پر آئے، وقت ولیمسن کی مٹھی سے پھسلنے لگا۔ ایک تو پہلے ہی وہ آدھے پونے بولنگ اٹیک کے ساتھ میدان میں اتر رہے ہیں، اس پہ جب محمد حفیظ ایسی بہترین فارم کے ساتھ کریز سے نکل کر قدموں کا استعمال کرنے لگتے ہیں تو کسی بولر کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔جس طرح کی بولنگ کیویز نے پاور پلے میں کی، ایک موقع پہ ایسا لگ رہا تھا کہ شاید وہ پاکستان کو ڈیڑھ سو بھی نہ کرنے دیں گے۔ مگر جس طرح سے حفیظ نے سست رن ریٹ کو مہمیز دی اور پھر جس انداز سے بابر اعظم نے ایک اور ریکارڈ شکن اننگز کھیل ڈالی، کیوی ارمانوں پہ اوس پڑنا ہی مقدر ٹھہرا۔اس بارے میں مزید پڑھیےبابر نے کوہلی کا ریکارڈ توڑ دیا، نیوزی لینڈ کو وائٹ واش’آسٹریلیا شاداب کا جواب نہ دے پایا‘ولیمسن یہ میچ جیت کیوں نہ پائے؟ٹی 20 کرکٹ: ولیمسن مسکرا کیوں رہے تھے؟آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ہم نے دیکھا کہ پاکستانی مڈل آرڈر کچھ غیر یقینی کیفیت کا شکار تھا مگر حالیہ سیریز میں محمد حفیظ کی فارم کی بدولت شبہات کے سارے بادل چھٹتے دکھائی دیے ہیں جو کہ آمدہ ون ڈے سیریز میں بھی پاکستان کے لیے نیک شگون ہے۔کجا یہ کہ ڈیڑھ سو کا ٹوٹل بھی مشکل دکھائی دے رہا تھا، کجا یہ کہ بات اتنی آگے نکل گئی کہ کوئی معجزہ ہی ولیمسن کو وائٹ واش کی ہزیمت سے بچا سکتا تھا۔پہلے دونوں میچز کے برعکس کولن منرو ذرا سا بور کیا ہوئے کہ ساری تراکیب بھول بیٹھے۔ سرفراز نے بہترین سٹریٹیجی اپناتے ہوئے نیا گیند عماد وسیم کی بجائے محمد حفیظ کو دیا۔ محمد حفیظ کی بولنگ ہمیشہ بلے بازوں کے لیے بوریت کا ہی باعث بنتی ہے کہ نہ تو رنز ملتے ہیں اور نہ ہی اس لامتناہی اذیت سے جان خلاصی۔اس کے بعد یہ سارا قضیہ ولیمسن کو ہی نمٹانا تھا۔ وائٹ واش سے اگر کیویز کو بچنا تھا تو ذمہ داری ولیمسن کو ہی ادا کرنا تھی۔ یہاں جیت کے لیے جو معجزہ درکار تھا، وہ ولیمسن کو ہی بپا کرنا تھا ورنہ نتیجہ نوشتۂ دیوار تھا۔ولیمسن نے کوئی کسر چھوڑی بھی نہیں۔ کریز پہ جمنے میں انہوں نے بھرپور وقت لیا مگر جب وہ میچ کی صورت حال سے ہم آہنگ ہو گئے تو انہی کے بلے سے نہایت دلکش اور سودمند سٹروکس ایسے نکلے کہ یکبارگی محسوس ہوا یہ میچ سرفراز کی گرفت سے نکل جائے گا۔

دھیرے دھیرے اننگز کو ترتیب دیتے اچانک ولیمسن ایسی فارم میں آ گئے کہ کوئی بھی پاکستانی بولر انہیں آوٹ نہیں کر سکتا تھا۔ حتی کہ سرفراز کے ٹرمپ کارڈ شاداب خان بھی جب سامنے آئے تو ولیمسن گھبرائے نہیں، قدموں کا استعمال کیا اور سیدھے بلے سے خوبصورت چھکا جڑ دیا۔جس رفتار سے ولیمسن میچ کو لے کر بھاگ رہے تھے، وائٹ واش کا خوف کیوی ڈریسنگ روم سے ہوا ہوتا جا رہا تھا۔ مگر بھاگنے میں بھی کہیں تو خود پہ قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ انسان تنہا رہ جاتا ہے۔ولیمسن مگر بہت جلدی میں تھے۔ جبھی شاداب خان نے پوری پلاننگ کے ساتھ ایک ایسی گگلی پھینکی کہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کے مصداق ولیمسن نے چھ رنز بٹورنے کی ہی ٹھانی اور اپنی تمام تر امیدوں کو ہوا میں اچھال دیا۔ باؤنڈری لائن پہ ہی ولیمسن کے سارے خواب بابر اعظم کے ہاتھوں میں محفوظ ہو گئے۔ذرا دیر بعد گلین فلیپس بھی گُگلی کے آگے بے بس دکھائی دیے۔ یہی روس ٹیلر کے ساتھ ہوا۔ چند لمحوں بعد ہی شاداب خان رواں سال کے کامیاب ترین ٹی ٹونٹی بولر بن چکے تھے اور ولیمسن بادل نخواستہ وائٹ واش کی خفت کا سامنا کرنے کو تیار ہو رہے تھے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}