کرکٹروں کی دس مشہور توہم پرستیاں

کرکٹروں کی دس مشہور توہم پرستیاں

November 03, 2017 - 06:59
Posted in:

چند دن پہلے سری لنکن ٹیسٹ ٹیم کے کپتان چندی مل نے یہ انکشاف کر سب کو حیران کر دیا کہ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش دراصل ایک عاملہ کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔ چندی مل کا کہنا تھا کہ 'آپ کے پاس ٹیلنٹ ہو سکتا ہے، تاہم آپ دعا کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔'سوشل میڈیا پر سری لنکن کپتان کی توہم پرستی کا خوب مذاق اڑایا گیا، لیکن بےچارے چندی مل اس ضمن میں ہرگز اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں متعدد کرکٹر ایسے ہیں جو کسی نہ کسی قسم کی توہم پرستی میں مبتلا ہیں۔ مثال کے طور پر جب 2015 کے ورلڈ کپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی وردیوں کے نمبر الاٹ ہونے لگے تو عمر اکمل نے کوشش کر کے اپنا نمبر 96 سے تبدیل کر کے 3 کروا دیا۔ میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق عمر اکمل نے کہا تھا کہ ان کے 'پیر' نے انھیں یہ نمبر استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

9 مشہور برطانوی امپائر ڈیوڈ شیپرڈ کی ایک عجیب عادت تھی۔ جب بھی ان کی امپائرنگ کے دوران کسی ٹیم کا سکور 'نیلسن' (یعنی 111، 222، 333، وغیرہ) پر پہنچتا تو وہ اپنا ایک پاؤں اوپر اٹھا دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح بلائیں ٹل جاتی ہیں۔10 برازیلی فٹبال سٹار پیلے دس نمبر کی قمیص پہنتے تھے۔ بعد میں میراڈونا نے یہی نمبر اپنایا۔ یہی نمبر بوم بوم آفریدی کو بھی اس قدر پسند ہے کہ کھیلتے وقت وہ اسے اپنی کمر سے الگ نہیں ہونے دیتے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}