کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری

کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری

May 17, 2018 - 13:45
Posted in:

انڈیا میں کانگریس اور جنتا دل پارٹی کے احتجاج اور سپریم کورٹ میں نصف شب کی سماعت کے درمیان کرناٹک میں بی جے پی کے رہنما بی ایس یدی یوروپا ریاست کے نئے وزیر اعلی بن گئے ہیں۔ انھیں گورنر نے گذشتہ روز حکومت سازی کی دعوت دی تھی اور جمعرات کو انھوں نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔بی ایس یدی یوروپا کو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ دوسری جانب کانگریس اور جنتا دل نے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے۔ مزید جاننے کے لیے یہ بھی پڑھیےکرناٹک میں بی جے پی جیت کر بھی ہار گئی’کرناٹک کی انتخابی بساط پر بہت کچھ داؤ پر‘کانگریس نے بی ایس یدی یوروپا کی حلف برداری رکوانے کے لیے بدھ کی رات سپریم کورٹ میں ایک ہنگامی پٹیشن دائر کی تھی۔سپریم کورٹ نے نصف شب تک سماعت کے بعد یدی یوروپا کی حلف برداری پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا۔عدالت نے بی جے پی سے کہا ہے کہ حکومت سازی کے لیے ارکان کی حمایت کی جو فہرست اور خط اس نے گورنر کو پیش کیا ہے وہ عدالت کے روبرو پیش کرے اور اس پر آئندہ سماعت جمعے کو ہو گی۔بی جے پی ریاستی اسبملی کی 222 میں سے 104 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے لیکن اسے اکثریت کے لیے مزید آٹھ سیٹوں کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب کاںگریس اور جنتا دل کی مشترکہ نشستوں کی تعداد 116 ہے جو اکثریت سے زیادہ ہے۔یدی یوروپا کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے کانگریس اور جنتا دل کے ارکان کو اپنی جانب لانا ہو گا۔ جنتا دل کے رہنما ڈی کمار اسوامی نے بدھ کو بی جے پی پر ان کے ارکان کو خریدنے کا الزام عائد کیا تھا جس کی بی جے پی نے اس الزام کی تردید کی تھی۔سیاسی تجزیہ کار اور مبصرین کا خیال ہے کہ گورنر نے ایک اقلیتی پارٹی کو حکومت سازی کی دعوت دی ہے جسے بظاہر اضافی حمایت حاصل نہیں ہے اور وہ صرف 'ہارس ٹریڈنگ' یعنی دوسری جماعتوں کے ارکان کو خرید کر مطلوبہ اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔کانگریس اور جنتا دل نے اپنے تمام نو منتخب ارکان اسمبلی کو بی جے پی کے 'شکار' سے بچانے کے لیے بنگلور کے نواح میں دو الگ الگ ریزورٹ اور ہوٹل میں رکھا ہے۔ دونوں جماعتوں کے ارکان اور رہنماؤں نے اسمبلی کے سامنے مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}