کالا باغ ڈیم ۔۔۔پاکستان کی آبی حیات یا موت

کالا باغ ڈیم ۔۔۔پاکستان کی آبی حیات یا موت

June 13, 2018 - 22:05
Posted in:

***
ارشد ملک
آج کل ’’کالا باغ‘‘ کا عنوان ہر خاص و عام کی زبان پر رواں ہے۔ اخبارات کا مطالعہ کریں تو فرنٹ پیچ پر کالا باغ شام میں گھر پہنچ کر ٹی وی چینلز دیکھیں تو بھی کالا باغ ۔اسی طرح رات میں چائے کی دُکان والا بھی کالا باغ اور چائے پینے والا بھی کالاباغ کا راگ الاپ رہا ہوتا ہے۔غرض یہ کہ اس وقت چاروں طرف کالا باغ ،کالا باغ چھایا ہوا ہے۔راقم کے کانوں میں جب یہ بات چاروں جانب سے پڑی کہ کالا باغ ڈیم صحیح ہے یا کالا باغ ڈیم غلط ہے وغیرہ وغیرہ ۔راقم سے رہا نہیں گیا اور سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کیوں نہ پاکستانی عوام کو کالاباغ ڈیم کے حوالے سے صحیح آگاہی اور معلومات فراہم کروں۔
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ بد قسمتی سے پاکستان کے چاروں صوبوں کی سادہ عوام کو چند سیاست دانوں، قوم پرست رہنماؤں اور سول سوسائیٹزکے نام نہاد رہنماؤں نے اُن کے ذہنوں میں غلط اور بے بنیاد باتیں ڈال دی ہیںیا کہ کالاباغ بن گیا تو یہ ہوجائے گا اس کا نقصان ہوجائے گااُس کا فائدہ جائے گا۔ جبکہ اس کے برعکس ایسا کچھ نہیں ہے۔
ابتدائی طور پر کالا باغ کے بارے میں یہ معلومات ہونی چاہئیں کہ کالاباغ کیا ہے ،کہاں واقع ہے اور اس کی وجہ شہرت کیا ہے:
کالا باغ : کالاباغ ایک قصبہ کا نام ہے ۔میانوالی شہر سے 20میل کے فاصلے پر واقع اس قصبہ کو ’’کالاباغ ‘‘کہتے ہیں۔اس قصبے میں پاکستان بننے سے پہلے بے شمار کیلوں کے باغات تھے۔ کیلوں کے یہ باغات دور سے سیاہ رنگ کے باد ل نظر آتے تھے ۔انہیں سیاہ بادلوں کی وجہ سے اس قصبے کا نام کالا باغ پڑگیا۔کالا باغ کی وجہ شہرت دو ہیں۔پہلی وجہ شہرت یہ ہے کہ مغربی پاکستان کے پہلے گورنر نواب امیر محمد خان آف کالا باغ تھے۔دوسری وجہ شہرت کالا باغ ڈیم ہے۔
کالا باغ ڈیم : کالا باغ کے مقام پر پہنچ کر دریائے سندھ نیشنل ڈیم بن جاتا ہے۔1953ء میں عالمی ماہرین نے کالاباغ کے علاقے کو ڈیم کے لئے انتہائی موزوں اور شاندار قرار دیا تھا۔
کالا باغ ڈیم کے التواء کی وجوہات: ایوب خان نے 1960 میں انڈیا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت پاکستان نے انڈیا کو دریائے راوی، دریائے ستلج اور دریائے بیاس کے پانی کے بدلے کالا باغ بنانے کی اجازت لی۔ کالا باغ ڈیم پر کام شروع ہونے سے پہلے ہی ایوب خان کی حکومت چلی گئی۔ایوب خان کے بعد یحییٰ خان آئے مگر پاکستان بد قسمتی سے دو حصّوں میں تقسیم ہوگیا۔اس کے بعد بھٹّو مرحوم آئے تووُہ داخلی سیاست کی نذر ہوگئے۔جنرل ضیا الحق آئے تو افغان جنگ شروع ہوگئی۔
کالاباغ ڈیم کے حوالے سے ایک واقعہ: 1984ء میں ضیاء الحق مرحوم نے کالا باغ ڈیم پر کام شروع کیا تو ایک برطانوی کمپنی کو ہائر کیا گیا۔کمپنی کے نوٹس میں یہ بات آئی کہ1929ء میں نوشہرہ شہر میں سیلاب آیا تھا۔ کمپنی نے سیلاب کے حوالے سے سروے کے لیے اپنے ملازمین کونوشہرہ بھیجا۔برطانوی کمپنی کے ملازمین نے سروے کے دوران معلومات اکٹھی کرنی شروع کیں اور کچھ گھروں پر نشانات بھی لگائے۔ان نشانات کو دیکھ کر نوشہرہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ کالاباغ ڈیم بننے سے نوشہرہ تباہ ہوجائے گا۔ صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والی جماعت اے این پی، جس کے سربراہ ولی خان مرحوم افغان جنگ پر پہلے ہی ضیاء الحق مرحوم سے ناراض تھے ۔چنانچہ اے این پی نے کالاباغ ڈیم کے ایشو کو اُٹھایااور اس طرح کالا باغ ڈیم کی تعمیر رُک گئی۔ 1984 ء سے2018 ء تک بہت سی حکومتیں آئیں مگر کالا باغ ڈیم کو مکمل نہ کرسکیں اور نہ ہی پاکستان کے معصوم اور سادہ عوام کو اس کے فوائد کے بارے میں آگاہی دی گئی اور یوں ایک نعمت سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے کفران نعمت کیا جاتا رہا ہے۔
کالا باغ ڈیم پر صوبوں کے اعتراضات: پاکستان کے چاروں صوبوں کے چند سیاست دان، قوم پرست رہنمااور نام نہاد سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے چند افراد اپنے نظریہ کے تحت وقتا فوقتا کچھ نہ کچھ اعتراضات اُٹھاتے رہتے ہیں، جو درج ذیل ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے اعتراضات: صوبہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے ایسے لوگ جو کالا باغ پر اعتراض کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، دراصل اِن لوگوں کو تو کالا باغ ڈیم کی اصل جگہ کا پتہ ہی نہیں ہے یا اُس کے بارے معلومات کی کمی ہے۔ایک طرف وُہ کہتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائن اور تعمیرات پنجاب میں تعمیر ہوں گی تو صوبہ پنجاب وفاق سے پیدا ہونے والی بجلی کی رائلٹی مانگے گا، صوبہ پنجاب کالا باغ ڈیم سے بننے والی بجلی کی رائلٹی سے پہلے ہی دستبراد ہوچکا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کادوسرا اعتراض: دوسرا نکتہ جو صوبہ خیبر پختونخواہ کی اکثریت کے ذہنوں میں بٹھادیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم بننے سے نوشہر ہ تباہ ہوجائے گا یا ڈوب جائے گا۔ایسا کچھ نہیں ہے جنرل ضیا کے دور میں اے این پی کی طرف سے اُٹھائے گئے اس اعتراض کو کالا باغ ڈیم کی اونچائی کم کر کے ختم کردیا گیاتھا۔اس کے بعد اے این پی کے ولی خان مرحوم کا اعتراض ختم ہوگیا تھا۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کا تیسرااعتراض: تیسرا نکتہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی عوام کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ کے پی کے کی زمین بنجر اور سیم زدہ ہوجائے گی۔ماہرین کے مطابق کالا باغ ڈیم سے زمین کو سیم و تھور کے خطرات لاحق نہیں ہیں۔لیکن اس کے باوجود خدشہ ہو کہ زمین بنجر یا سیم تھور زدہ ہو جائے گی تو ٹیوب ویل اور بڑے پیمانے پر نہریں بناکر اس خدشہ سے بھی باآسانی نمٹا جا سکتا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کا چوتھانقطہ یا اعتراض: چوتھا نقطہ جس کا شبہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے ہزاروں ایکڑ رقبہ زیر آب آئے گا۔اس کا جواب ہاں میں ہے لیکن آپ کو دُرست حقائق کی آگاہی دینے کے لیے عرض یہ ہے کہ ٹوٹل27500 ایکڑ زمین زیر آب آئے گی لیکن اس ٹوٹل میں سے 24500ہزارایکڑ زمین صوبہ پنجاب میں اور صرف 3000 ہزار ایکڑ زمین صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہوگی۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کاپانچواں اعتراض: پانچواں نکتہ یہ بھی اُٹھایا جاتا رہاہے کہ کالا باغ ڈیم بننے سے کچھ علاقوں کے رہائشیوں کو نقل مکانی کرنی پڑے گی۔اس کا جواب یہ ہے کہ جی ہاں کرنی پڑے گی۔دُنیا میں جب جب اور جہاں جہاں ڈیم تعمیر ہوتے ہیں وہاں راستے میں آنے والی رہائشی آبادیوں کو نقل مکانی کرنی پڑتی ہے اور وہ بھی اپنی آنے والی نسلوں کی آسانی کے لیے کیونکہ یہ ایک صدقہ جاریہ بھی ہے اور جس کا ثواب تاحیات اِن کو ملتار ہے گا۔
صوبہ سندھ کے اعتراضات: صوبہ سند ھ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے سادہ عوام کے ذہنوں میں خیال اس طرح سے بھردیا ہے کہ دریائے سندھ صوبہ سندھ کا حصہ ہے۔دوسرے یہ کہ پنجاب ہمارا پانی پہلے ہی منگلہ اور تربیلہ کے ذریعے سے چوری کرتا ہے ۔جبکہ یہ صرف اور صرف قیاس آرئیاں ہیں آج تک ایسی کوئی چیزثابت نہیں ہوئی ہے۔جبکہ کہ اصل بات یہ ہے کہ منگلہ اور تربیلہ ڈیم پر ہی پورا پاکستان چل رہا ہے۔
سندھ کی زمینوں کے بنجر ہونے میں انہی پالیسی میکرزکاہاتھ ہے جو کہ تقریباً ہر گورنمنٹ کا حصہ ہونے کے باوجودآج تک سندھ کی ان بنجر زمینوں اور ہاریوں کے لیے کچھ نہ کرسکے اوراُن سادہ ذہنوں کو گمراہ کرتے رہے ہیں۔ ایک اعتراض یہ نام نہاد لیڈرز یہ بھی اُٹھاتے ہیں کہ سندھ کا پانی کم ہوجائے گا تو یہ بھی بالکل غلط ہے کیونکہ 1991ء میں ڈیم کے حوالے معاہدہ طے پایا تھا کہ کسی صوبے کا پانی کم نہیں کیا جائے گااس لیے اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی اورہر صوبے کو اُس کے حصے کا پانی ملتا رہے گااور تقریباً 10ہزار ملین ایکڑ فٹ پانی ہر سال سمندر میں بھی گرتا رہے گا۔
اور آپ کی آگاہی کے لیے یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ کالا باغ ڈیم سے سندھ کی زمین کا تقریباً 8لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب ہو گا۔ دوسری طرف انڈین ڈیموں کی تعمیر کے نتیجے میں دریائے سندھ میں کم ہوتے ہوئے پانی سے پورے پاکستان اور خصوصاً سندھ میں خشک سالی کا خاتمہ ہوجائے گا۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}