ڈی آئی خان واقعے سے تعلق جوڑنا شرمناک ہے، علی گنڈاپور

ڈی آئی خان واقعے سے تعلق جوڑنا شرمناک ہے، علی گنڈاپور

November 10, 2017 - 10:35
Posted in:

خیبر پختونخوا کے وزیر علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ڈی آئی خان میں لڑکی کے ساتھ پیش آنے والے انسانیت سوز واقعے سے تعلق جوڑنے کی کوشش شرمناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاملے پر کسی بھی طرح سے اثرانداز ہونا ثابت ہوجائے تووزارت سے نکالنے کی بجائے پھانسی دی جائے، تحریک انصاف کی صفوں میں داوڑ کنڈی کی حیثیت عائشہ گلالئی سے زیادہ نہیں۔
صوبائی وزیر علی امین گنڈا پورکی جانب سے ایک جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاسی عزائم کی خاطر بےبنیاد الزام تراشی قابل مذمت ہےاور اس مذموم مہم کے پیچھے گھٹیا مقاصد کارفرما ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ داوڑ کنڈی بھی عائشہ گلالئی جیسا کردار ادا کررہے ہیں،مجھ پر مجرموں کی سرپرستی کا الزام عائد کرنے والے پختونخوا میں پولیس کے نظام سے ناواقف ہیں۔
گنڈاپور نے بتایا کہ پختونخوا میں پولیس مکمل آزاد اور سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہے، کسی بھی وزیر یا سیاسی رہنما کے لیے پولیس کے کام میں مداخلت ممکن نہیں جبکہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
قبل ازیں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی داوڑ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ لڑکی کو برہنہ کرنے کے واقعے میں ان کی اپنی جماعت کے صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور ملوث ہیں۔
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی داوڑ خان کنڈی نے انکشاف کیا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کو برہنہ کرنے کے واقعے میں ان کے ساتھی اور خیبرپختونخوا میں وزیر مالیات علی امین گنڈا پور ملوث ہیں۔
داوڑ خان کا مزید کہنا تھا کہ کہ انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، جہانگیرترین اور دیگر پارٹی رہنماؤں کو خط لکھا ہے جس میں بتایا ہے کہ علی امین گنڈا پور ڈیرہ اسماعیل خان میں جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کررہے ہیں اور چند روز قبل لڑکی سے زیادتی کے واقعے میں بھی صوبائی وزیر ہی ملوث ہیں جس کی میں نے خود تحقیقات کی ہیں۔
داوڑ خان نے عمران خان اور دیگر سے درخواست کی کہ علی امین گنڈا پور پارٹی کا نام بدنام کررہے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کو انصاف دلایا جائے۔
داوڑ خان کنڈی کا کہنا تھا کہ 27 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے مٹ میں 16 سالہ لڑکی کو برہنہ کرکے گلیوں اور بازاروں میں گھمایا گیا تھا جس کی تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ واقعے میں علی امین گنڈا پور ملوث ہیں، میں نے پارٹی رہنماؤں کو خط لکھا لیکن 2 روز گزرنے کے باوجود تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔
واضح رہے کہ 27 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں یہ دلخراش واقعہ پیش آیا تھاجبکہ پولیس کے مطابق 27 اکتوبر کوہونے والا واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا۔
پولیس نے واقعے کا شکار ہونے والی لڑکی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے 8 افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے تاہم واقعے کا مرکزی ملزم سجاول تاحال مفرور ہے جس کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
 

googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-rectangle_belowpost_btf'); });

بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}