ڈاکٹر شمشاد اختر امریکی ایجنڈے پر عمل کر رہی ہیں

ڈاکٹر شمشاد اختر امریکی ایجنڈے پر عمل کر رہی ہیں

August 10, 2018 - 14:34
Posted in:

گفتگو؛قاضی جاوید
qazijavaid@jasarat.com
ڈاکڑشاہد حسن چیئرمین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کراچی کے سربراہ ہیں ،ماہراقتصادیات اور خاص طور پر پاکستان کی معاشی اور تجارت و صنعت پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ وہ گزشتہ 20برسوں سے ملک کے حکمرانوں کومعیشت کی ترقی کے خدوخال سمجھانے کی کوششوں میں ہیں لیکن ہمارے حکمران جن کے اقتدار میں آنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ امریکااور اس کی ا تحادی آئی ایم ایف کی شرائط کو من و عن نافذ کیا جائے ۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کی تمام باتیں درست اور عملی طور پر نافذ کی جاسکتی ہیں لیکن نقار خانے میں توتی کی آواز کون سنتا ہے۔
جسارت: ڈاکٹر صاحب یہ بتائیں کہ ڈاکڑشمشاد اختر کس ایجنڈے پر عمل کر رہی ہیں؟
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی: ڈاکڑشمشاد اختر کا آج نہیں بلکہ وہ اُس وقت سے ملک کی اقتصادیات پر امریکی ایجنڈے پر عمل کرار ہی ہیں جب وہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اہم مالیاتی عہدے پر موجود تھیں اور ان کے لیے امریکا نے اسی وقت فیصلہ کر لیاتھا وہ شمشاد اختر کو اپنے مقاصد کے لیے استعما ل کرے اور ایسا ہی ہو۔ ڈاکڑشمشاد اختر کی اسی خوبی کی وجہ سے ان کو موجودہ نگراں حکومت میں وزیر خزانہ بنا دیاگیاہے۔
جسارت :ڈالر اور پیٹرول مصنوعات کے بھاؤمیں اضافہ ایک ہی دن کیا گیا ،اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی:درست کہا آپ نے ایسا ہی کیا گیا ۔اصل صورتحال یہ ہے ملک میں آنے والی ہر عبوری حکومت نے ایسا ہی کر تی ہے۔ملک کی تمام عبوری حکومت اپنے دور حکومت میں آئی ایم ایف کی تمام شرائط پو ری کر دیتی اور اس کی وجہ سے آنے والی حکومت کو بھاری بھر کم قر ض حاصل کر نے میں آسانی ہو تی ہے اور وہ بڑی آسانی سے قرض حاصل کر لیتی ہے ۔
جسارت : آپ کا مطلب یہ ہے کہ عبوری حکومت کو امریکا اورآئی ایم ایف اپنے ایجنڈے پر عمل کرانے کے لیے بھر پور انداز سے استعمال کرتی ہے ۔
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی:جی ایساہی ہے 1988ء کی عبوری حکومت نے بھی اپنے آخری دور میں پاکستانی عوام سے ایسا ہی دھوکا کیا تھا اور اپنے آخری دور میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کر دیا تھا ۔1988ء میں جب نئی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے آئی ایم ایف کی جاری شرائط پر سختی سے عمل درآمد کرایا اور آئی ایم ایف کو یقین دلایا کہ اس کے کہنے کے مطابق پیٹرول، گیس اور بجلی کے بھاؤ میں اضافہ کردیا جائے گا۔ اسی طرح 1993ء کی نگراں حکومت نے بھی اپنے آخری دور میں بہت ساری آئی ایم ایف ایسی شرائط تسلیم کی جس کیں وجہ سے ڈالر کے بھاؤ بلند ترین سطح پر پہنچے اور اسی طرح بجلی اور گیس کے نرخوں میں بھی اضافہ کیا گیا۔ 19 اگست 2013ء کو عبوری حکومت کی شرائط پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے ایک خط تحریر کیا۔اس خط میں انہوں نے آئی ایم ایف کو یہ لکھا کہ وہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک کے قومی اثاثوں کی بہت جلد اور تیز رفتاری سے نجکاری کریں گے۔ ان اثاثوں میں آئل اینڈ گیس کارپوریشن، پی ایس او، پاکستان اسٹیل، اور پی آئی اے کی نجکاری شامل تھی۔ اسحاق ڈار نے اپنے خط میں یہ لکھا کہ انہوں نے حکومتی اثاثوں کی نجکاری کے لیے وفاقی کابینہ اور صوبائی لیڈر شپ کی مشترکہ مفاد ات کی کونسل سے بھی منظوری لے لی ہے۔ بعد کے حالات سے یہ پتہ چلا کہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ صوبائی لیڈر شپ کی مشترکہ مفاد ات کونسل سے اس کی منظوری نہیں لی گئی تھی اور نہ ہی وفاقی کابینہ کے سامنے پاکستان اسٹیل، آئل اینڈ گیس کارپوریشن، پی ایس او اور پی آئی اے کی نجکاری کی منظوری لی گئی تھی۔
جسارت:۔ ڈاکٹر صاحب یہ ساری صورتحال اپوزیشن گروپوں کے سامنے نہیں ہے؟
ڈاکٹرشاہد حسن:۔ یہ ساری صورتحال پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو اچھی طرح معلوم تھی لیکن اس کے باوجود یہ دونوں پارٹیاں ٹک ٹک دیدم نہ کشیدم کے مصداق خاموش رہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے اس بارے میں ان پارٹیوں کی قیادت ہی کو معلوم ہوگا۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ اگر آئی ایم ایف کی شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہ کیا جاتا تو دوسری صورت میں زرعی شعبے کی جائیداد پر ٹیکس لگانا لازمی ہوجاتا۔ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے اکثر ارکان کا تعلق زراعت کے شعبے سے ہے اور وہ اس طرح کا کوئی بل منظور نہیں کرتے جس کی وجہ سے زرعی شعبوں کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا۔
جسارت:۔ ڈاکٹر صاحب 2013ء میں جو نگراں حکومت تھی اس نے بھی اسی طرح کی صورتحال پیدا کی جس کی وجہ سے آنے والی حکومتوں کو آئی ایم ایف سے قرض لینے میں آسانی ہوجائے؟
ڈاکٹر شاہد حسن:۔ بالکل صحیح کہا آپ نے 2013ء کی عبوری حکومت نے وہ تمام شرائط منظور کیں جس کا مطالبہ آئی ایم ایف پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے کرتی رہی ہے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان شرائط کی اس لیے منظوری نہیں دی کہ اس کی وجہ سے ان کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا۔ 2013ء کی نگراں حکومت نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے واشنگٹن جا کر آئی ایم ایف سے بھرپور انداز سے مذاکرات کیے اور قرض حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی تمام تر شرائط من و عن تسلیم کرلیں۔
جسارت:۔ معین قریشی کی عبوری حکومت میں ایسا ہی ہوا تھا؟
ڈاکٹر شاہد حسن:۔ معین قریشی کی عبوری حکومت میں تو بہت بڑا کام ہوا جس کی پاکستان اور دنیا کی تاریخ میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ معین قریشی نے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف کے ایک ملازم کو کنسلٹنٹ کے طور پر ہائر کیا اور اس کو بھاری رقم دی کہ وہ پاکستان کو قرض دلانے کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات کرے اور ان مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کو بھاری قرض حاصل ہوسکے اور ایسا ہی ہوا۔ آئی ایم ایف سے عبوری حکومت کے دور میں آئی ایم ایف کے ایک ملازم نے مذاکرات کیے اور اس کی وجہ سے واشنگٹن سے آئی ایم ایف نے قرض جاری کیا۔ واشنگٹن سے جاری ہونے والے قرض سے قبل 2013ء کی نگراں حکومت نے آئی ایم ایف کی وہ تمام شرائط کے تسلیم کیں جس کی وجہ سے اسحاق ڈار کو آئی ایم سے قرض حاصل کرنے میں آسانی ہوئی۔
جسارت:۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کے بارے میں آپ نے بتایا کہ انہیں آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک میں بھی تعینات کیا تھا اور اب نگراں حکومت میں بھی وزیرخزانہ آئی ایم ایف کے کہنے پر بنایا گیا ہے۔
ڈاکٹر شاہد حسن:۔ بالکل صحیح ہے یہ بات اور ایسا ہی ہوا ہے، ڈاکٹر شمشاد اختر نے 20 نومبر 2008ء کو آئی ایم ایف کو خط لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے بجلی اور گیس کے بھاؤ میں اضافہ کردیا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی ہے۔ اس لیے پاکستان اس بات کا حقدار ہے کہ اسے فوری طور پر قرض جاری کیا جائے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے یہ خط فرینڈ آف پاکستان گروپ کو بھی بھیجا تھا۔ ا ن کوششوں کی وجہ سے پاکستان کو بہت بڑا قرض بھی ملا لیکن بہت بھاری سود کی ادائیگی بھی پاکستانی عوام کے ذمے لگادی گئی۔ یہ سودا پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور سب سے بڑا دھوکا ہے جو قوم کو دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کے اقدامات سے 2008-09 ء کے مالی سال کے دوران پاکستانی معیشت کی شرح نمو0.04 فیصد رہی اور یہ شرح نمو 1947ء کے بعد سب سے سست ترین شرح نمو تھی۔ اس دوران حکومت عوام سے یہ کہتی رہی ہے کہ انہوں نے آئی ایم ایف سے نرم شرائط پر قرض حاصل کیا ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ بلکہ حقیقت یہ تھی کہ پاکستانی عوام سے غلط بیانی کی گئی اور آئی ایم ایف کی بھاری بھرکم شرائط کو من و عن تسلیم کیا گیا ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر مغرب کی سوچ کی عکاسی کرر ہی ہیں۔ مغرب کی سوچ اور امریکاکے مفادات کا تحفظ کرنے والی ڈاکٹر شمشاد اختر خود وزیرخزانہ ہیں تو ان کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط کو من و عن تسلیم کرنا اور اس کو نافذ کرنا بہت آسان ہے۔ان حالات کی وجہ سے ملکی برآمدات کو شدید مالی نقصان پہنچا۔ گیس، بجلی اور پیٹرول کے بھاؤ میں اضافے سے درآمدی مصنوعات کے پیداواری اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے برآمدکنندگان کے اربوں روپے کے ریفنڈ کی صورت میں واپس کرنے تھے گزشتہ تین سال سے تواتر کے ساتھ ادا نہیں کیے۔ حکومت سے برآمدکنندگان بار بار مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ان کے ریفنڈادا کیے جائیں لیکن حکومت نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ 2015-16 میں ملکی برآمدات میں بہت زیادہ کمی ہوئی لیکن اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نومبر 2016ء میں جو رپورٹ جاری کی اس میں اصل حقائق چھپانے کی کوشش کی گئی۔
جسارت:۔ ڈاکٹر صاحب آپ کیا سمجھتے ہیں کہ نواز حکومت کی ایمنسٹی اسکیم سے قومی خزانے کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا؟
ڈاکٹر شاہد حسن:۔ جیسا کہ آپ کو اچھی طرح علم ہیں کہ سابقہ ادوار میں ایمنسٹی اسکیم کا نفاذ کیا جاتا رہا ہے لیکن ڈھاک کے تین پات کی طرح ان ایمنسٹی اسکیموں کا کوئی فائدہ نہ پاکستانیوں کو حاصل ہوا اور نہ ہی حکومت پاکستان کے ٹیکسوں میں اس طرح کی اسکیموں سے کوئی فائدہ پہنچا۔ حکومتی خزانے میں چند ہزار روپے کے اضافے کے سوا نہ پہلے کچھ حاصل ہوا نہ اور اب آئندہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔
جسارت:قومی مفادات سے متصادم ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو نگراں حکومت جاری رکھے گی؟
ڈاکٹر شاہد حسن:۔ملک سے ہوئی لوٹی ہوئی دولت بیرون ممالک سے واپس لانے کے لیے کئی ماہ سے ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس مقصد کے لیے سرمایے کے فرار کو روکنا اور قوانین میں متعدد تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے عدالتِ عظمیٰ نے ایک کمیٹی بھی بنا دی تھی جس کی سفارشات آنا ابھی باقی ہیں۔ یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قوانین میں ان تبدیلیوں اور سرمائے کے فرار کو روکنے کے اقدامات سے پہلے ٹیکس ایِمنسٹی اسکیم کا اجرا تباہ کن ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس ملک میں معیشت دستاویزی نہ ہو‘ کالے دھن کو سفید کرنا اور جائز و ناجائز رقوم کو ملک سے باہر منتقل کرنا ممکن ہو وہاں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اجرا تباہی کا نسخہ ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اب سے دو ماہ قبل کہا تھا کہ وہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا جائزہ لے گی اس سلسلے میں ایک سماعت 12 جون 2018 کو ہوئی جس میں عدالتِ عظمیٰ کو اس ایمنسٹی اسکیم کے تباہ کن مضمرات سے آگاہ ہی نہ کیا گیا چنانچہ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ اسے اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر اعتراض نہیں ہے۔
نگراں حکومت اور اس کے وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم انصاف‘ قانون اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور اس کے اجرا سے قومی سلامتی اور قومی مفادات کو زبردست نقصان پہنچے گا۔ لیکن نگراں حکومت نے عدالتِ عظمیٰ کے سامنے اس اسکیم کے تباہ کن اثرات بتانا ہی ضروری نہ سمجھا۔ حقیقت بہرحال یہ ہے کہ اگر عدالتِ عظمیٰ کو آگاہ کیا جاتا تو وہ اس اسکیم کو مسترد کر دیتی۔یہ قومی المیہ ہے کہ نگراں حکومت نے اپنی یہ ذمے داری پوری نہیں کی۔
قومی مفادات کے تحفظ کے لیے یہ اشد ضروری ہے کہ نگراں وزیر خزانہ سپریم کورٹ کو مندرجہ ذیل حقائق سے مطلع کریں۔
1 ۔ملک میں جائیدادوں‘ بینکوں کے ڈپازٹس‘ قومی بچت اسکیموں میں لگائی گئی رقوم‘ حصص اور گاڑیوں وغیرہ میں لوٹی ہوئی اور ٹیکس چوری کی دولت سے بنائے ہوئے کئی ہزار ارب روپے کے اثاثے موجود ہیں جن کی تفصیلات ریکارڈ میں موجود ہیں۔ یہ اثاثے مکمل طور پر حکومت کی دسترس میں ہیں۔ اگر ان اثاثوں پر ٹیکس اور حکومتی واجبات وصول کیے جائیں اور جائیدادوں کے ڈی سی ریٹ کو مارکیٹ کے نرخ کے برابر لایا جائے تو چند ماہ میں حکومت کو دو ہزار ارب روپے کی اضافی آمدنی ہو سکتی ہے جسے عوام کی فلاح و بہبود اور بجٹ خسارے کو کم کرنے بشمول پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سابقہ حکومت کو یہ قدم اٹھانا چاہیے تھا جو طاقت ور طبقوں کے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لیے اس نے نہیں اٹھایا چنانچہ نگراں حکومت کو عدالتِ عظمیٰ سے درخواست کرنی چاہیے کہ اس ضمن میں احکامات فوری طور پر جاری کیے جائیں۔
2 ۔بھارت میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت 45 فیصد ٹیکس طلب کیا گیا تھا لیکن پاکستان میں صرف 2 سے 5 فیصد ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا ہے جو کہ ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے۔
۔3 ملک کے اندر موجود اثاثوں پر کسی قسم کی ایمنسٹی دینے کا قطعاً کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ یہ اثاثے مکمل طور پر حکومت کی دسترس میں ہیں۔
۔4 اس اسکیم کے تحت ایک شخص 5 ملین روپے کی نقد رقم ظاہر کرسکتا ہے جو اس کے پاس موجود ہی نہیں ہے۔ اس طرح وہ صرف ڈھائی لاکھ روپے ٹیکس دے گا۔ چنانچہ آئندہ برسوں میں ہونے والی 5 ملین کی آمدنی پر وہ ٹیکس ادا ہی نہیں کرے گا جس سے قومی خزانے کو 10 لاکھ روپے کا نقصان ہوگا۔ متعدد افراد ایسا کریں گے۔
۔5 اس اسکیم کے تحت ایک شخص باہر سے دو لاکھ ڈالر منگوا کر تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ روپے وصول کرے گا جس پر اسے صرف 2 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ وہ یہ رقم ہنڈی یا دوسرے متعدد طریقوں سے باہر بھیج سکتا ہے۔ چنانچہ اس کے پاس کتابوں میں تو رقم موجود ہوگی مگر دراصل نقد رقم ہوگی ہی نہیں۔ اس طرح آئندہ برسوں میں ہونے والی آمدنی پر ٹیکس بچا کر وہ قومی خزانے کو 40 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔
6 ۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر اعتراضات اٹھائے ہیں جن سے سپریم کورٹ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے جائزہ لینے کا عندیہ 12 اپریل 2018 کو دیا تھا۔ اگر مندرجہ بالا مضمرات سے نگراں حکومت عدالتِ عظمیٰ کو مطلع کرتی اور اس بات کو پرزور طریقے سے کہتی کہ سپریم کورٹ کی قائم کردہ کمیٹی برائے سرمائے کے فرار کو روکنے اور قوانین میں تبدیلیوں کے ضمن میں سفارشات آنے اور ان پر عمل درآمد سے پہلے کسی بھی قسم کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے اجرا کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ نگراں حکومت فوری طور پر مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائے:
1 ۔سپریم کورٹ کو ٹیکس ایمنسٹی کے ضمن میں مندرجہ بالا مضمرات سے آگاہ کرنے کے بعد یہ درخواست کرے کہ چونکہ سپریم کورٹ کی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات آنے میں وقت لگے گا اور ان پر عمل درآمد اگلی منتخب حکومت کے دور میں ہی ممکن ہوگا اس لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو فی الحال معطل کر دیا جائے اور اگلی حکومت کو موقع دیا جائے کہ وہ نئے قوانین اور نئی صورت حال کی روشنی میں اگر ضروری سمجھے تو ایک نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم وضع کرے۔
2 ۔ایف بی آر اب بھی لوٹی ہوئی دولت اور ٹیکس چوری کی دولت سے بنائے ہوئے اثاثوں کا انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے تعین کرکے مروجہ قوانین کے تحت ان اثاثوں پر ٹیکس اور واجبات وصول کر سکتا ہے جس سے قومی خزانے کو دو ہزار ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔
اگر مندرجہ بالا اقدامات اٹھائے جائیں اور کچھ دانش مندانہ پالیسیاں وضع کی جائیں جو نگراں حکومت کے اختیار میں ہے تو معیشت تیزی سے ترقی کرے گی‘ موجودہ بیرونی شعبے کا بحران بغیر آئی ایم ایف سے قرضہ لیے حل ہو جائے گا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خطیر رقوم دستیاب ہوں گی۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان کو اگلے چند ماہ میں تباہ کن معاشی شرائط اور امریکا کی ’’مزید اور کرو‘‘ کے مطالبات منظور کرنا پڑیں گے جس سے قومی مفادات اور قومی سلامتی بری طرح متاثر ہوگی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مندرجہ بالا نکات پر قومی سلامتی کمیٹی بھی غور کرے۔
جسارت:۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اہم چیز آپ کی نظر میں کیا ہے؟
ڈاکٹر شاہد حسن:۔ پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اہم بات سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ ہے جس میں سپریم کورٹ نے دو ٹوک الفاظ میں حکومت پاکستان کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ ملک سے سودی معیشت کا خاتمہ کردے لیکن حکومت نے یونائٹیڈ بینک کی مدد سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرنے کے بجائے آئی ایم ایف اور امریکا کے کہنے پر اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر سپریم کورٹ سے اپنی اپیل واپس لے اور ملک میں سود سے پاک معیشت کے نفاذ کو عملی جامہ پہنائے۔ لیکن وہ لوگ جو آئی ایم ایف اور امریکا سے اپنے خرچے چلانے کے لیے ان کی شرائط پر بھاری بھاری قرض وصول کررہے ہیں وہ ایسا کیسے کرسکتے ہیں۔ سودی معیشت کا خاتمہ نہ پہلے کبھی مشکل تھا اور نہ اب مشکل ہے لیکن ہماری حکومت امریکا کو خوش کرنے اور آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے ملکی معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
جسارت:۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت جو اسلامی بینکاری کے نام سے کھیل کھیلا جارہا ہے اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ڈاکٹر شاہد حسن:۔ بہت سارے لوگوں کو یہ بات نہیں معلوم کہ بلا سود معیشت اور اسلامی معیشت میں بہت فرق ہے۔ یورپی ممالک اور برطانیہ میں بھی بلا سود بینکاری کی جارہی ہے اور ہمارے بینکوں نے بھی اسی طرح کی کچھ چیزیں عوام کے سامنے رکھی ہیں۔ لیکن یہ بینکاری ابھی اسلامی بینکاری نہیں کہی جاسکتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے تمام طور طریقے اور قرض کی ادائیگی کے طریقہ کار کو سودی بینکاری کے مطابق رکھا گیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اصل مسئلہ تو وہی ہے کہ حکومت سودی معیشت کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپنی دائر درخواست فوری طور پر واپس لے تا کہ ملک کو اسلامی معیشت بنایا جاسکے۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}