چھاتی کا کینسر علاج کے 15 سال بعد بھی لوٹ سکتا ہے

چھاتی کا کینسر علاج کے 15 سال بعد بھی لوٹ سکتا ہے

November 12, 2017 - 06:57
Posted in:

div class="story-body" style="direction:rtl;"

div class="with-extracted-share-icons"

/button
/div
/li
/ul/div

/div
/div
/div
/div

div class="story-body__inner" property="articleBody"
figure class="media-landscape has-caption full-width lead"span class="image-and-copyright-container"

img class="js-image-replace" alt="چھاتی کا کینسر" src="https://ichef.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/EAD9/production/_98712106_01..." style="width=100%; max-width=640;"

/span

/figurep class="story-body__introduction"ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق چھاتی کا سرطان کامیاب علاج کے 15 سال بعد بھی دوبارہ نمودار ہو سکتا ہے۔/ppاس تحقیق میں 20 سال کے عرصے تک 63 ہزار ایسی خواتین کی صحت اور علاج کا جائزہ کیا گیا، جن کو چھاتی کے سرطان کی سب سے عام قسم کی تشخیص ہوئی تھی۔/ph2 class="story-body__sub-heading"مزید پڑھیے/h2pa href="/urdu/science-40517614" class="story-body__link"کینسر کے پھیلاؤ کی عکس بندی /a/ppa href="/urdu/world-38679179" class="story-body__link"’آخری قہقہہ ہمارا ہی ہو گا'/a/ppa href="/urdu/science-40878030" class="story-body__link"’خواتین رسوائی کے ڈر سے کینسر چھپا رہی ہیں‘/a/ppایسی خواتین جن کی رسولیاں بڑی تھیں یا سرطانی خلیے ان کے لمف غدودوں تک پھیل گئے تھے، ان میں کینسر کے لوٹنے کا 40 فیصد امکان تھا۔/ppتاہم محققین نے امریکی طبی حریدے 'نیوانگلنڈ جرنل آف میڈیسن' میں لکھا ہے کہ اگر ہارمون کے علاج کی مُدت بڑھا دی جائے تو اس مرض کے دوبارہ ہوجانے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔/ppچھاتی کے سرطان کی سب سے عام قسم میں ایسٹروجن ہارمون سے کینسر کے خلیوں میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔ اس کے علاج میں مریضوں کو ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو ایسٹروجن کے اس عمل کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔/pfigure class="media-landscape has-caption full-width"span class="image-and-copyright-container"

/span

/figurepعام طور پر اس علاج کے پانچ سال تک جاری رکھے جانے سے یہ کینسر ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ جن خواتین میں پانچ سال بعد یہ کینسر ختم ہو گیا تھا، ان میں سے کئی میں اگلے 15 سال تک یہ واپس آ گیا۔/ppاس تحقیق کے اہم محقق آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ہونگ چاؤ پین نے کہا کہ 'یہ بات حیران کُن ہے کہ چھاتی کا کینسر اتنے سالوں تک خاموش شکل میں جسم میں رہ سکتا ہے، اور اتنے سالوں کے بعد پہلے جیسی شدت کے ساتھ دوبارہ نمودار ہو سکتا ہے۔'/ppالبتہ جن خواتین کی رسولی چھوٹی تھی یا ابھی ان کا کینسر لمف غدودوں تک نہیں پھیلا تھا ان میں اس مرض کے دوبارہ لوٹنے کے امکانات صرف دس فیصد تھے۔/ppتحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ہونگ چاؤ پان نے کہا کہ’یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ چھاتی کا سرطان اتنا عرصہ خاموش رہنے کے بعد دوبارہ نمودار ہو سکتا ہے، اور اس بات کا خطرہ سالہا سال بعد بھی رہتا ہے۔‘/p
/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style