چند گھونٹ پانی!

چند گھونٹ پانی!

December 03, 2017 - 06:49
Posted in:

گذشتہ ہفتے جب آدھا ملک کف اڑاتا، ڈنڈے لہراتا، گالم گلوچ کرتا، باقی آ دھے ملک کو ہنکائے پھر رہا تھا تو میں اپنے فارم پہ ڈرپ اری گیشن کا چوتھا سال منا رہی تھی۔ اس جشن میں میرے ساتھ، دو بھورے چوہے، تین نیل کنٹھ ، پانچ دھو بن چڑیاں اور ایک نیولا شامل تھے۔ پانی زندگی ہے اور ہمارے سیارے پہ زندگی معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ دریائے سندھ کی یہ وادی، جس میں ہمارے اب و جد ، جانے کہاں سے گھوڑے دوڑاتے، تلواریں لہراتے وارد ہوئے تھے، صدیوں بلکہ ان سے بھی پہلے کی صدیوں سے جن کا حال ہمیں معلوم نہیں بے حد زرخیز تھی اور یہاں کے رہنے والے زراعت اس وقت سے جانتے تھے، جب انسان ابھی خانہ بدوش ہی تھا۔ہزاروں سال قبل کے یہ انسان، اناج کاشت کرنے کے لیے، برسات سے قبل، کھیتوں میں بیج بکھیر کے کھیتوں کی مینڈھیں اونچی کر دیا کرتے تھے۔کھربوں روپے مالیت کا پانی ضائعنیل کے پانی سے میں بیمار ہو جاؤں گی: مصری گلوکارہکہتے ہیں کہ سیلاب کے دنوں میں سارے دریا مل کر ایک دریا بن جایا کرتا تھا اور ہر طرف بس پانی ہی پانی ہوتا تھا۔ آبادیاں ، ٹیلوں، ٹیکریوں اور ڈھکیوں پہ ہوتی تھیں۔ اس سیلابی پانی سے بیج پھوٹتے تھے اور سال بھر کی فصل حاصل ہو جایا کرتی تھی۔ انسان ترقی کرتے کرتے، چاند پہ پہنچ گیا ،وادئ سندھ میں تہذیب ترقی کرتے کرتے کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔ زراعت کی دنیا میں بھی کچھ سبز، نیلے، لال،پیلے انقلابات لائے گئے، جن کے ذریعے، ہائی برڈ بدیسی بیج، کھادیں اور جراثیم کش ادویات، ہمارے زرعی نظام کاحصہ بن گئیں۔ انگریز کا نہری نظام اور بعد ازاں سندھ طاس کا منصوبہ بظاہر دو انقلابی اقدامات تھے۔ لیکن بات کچھ بنی نہیں۔آبپاشی کا بنیادی طریقہ اب بھی وہی ہے جو ہزاروں سال قبل مستعمل تھا۔ زرعی اصلاحات کا مقصد بھی فقط زمین کو چھوٹے مزرعوں میں توڑنا ہوتا ہے، کسی نے بھی کبھی اس بات کی طرف توجہ نہیں دی کہ دنیا بھر میں میٹھے پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ٹیوب ویل، ٹربائن، چاہ، نہریا کاریز، کسی بھی طریقے سے حاصل ہونے والا پانی، جب کھیت میں لگایا جاتا ہے تو سیلابی پانی کی طرح ہی کھیت بھر دیے جاتے ہیں۔اس طریقے کو فلڈ اری گیشن کہا جاتا ہے۔ فلڈ اری گیشن میں بے شمار پانی کا ضیاع ہوتا ہے۔ بیج کو پھوٹنے اور نشونما پانے کے لیے اتنے زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جاٹ اندازے کے مطابق ایک چلو پانی روزانہ سے، کپاس کا بیج (جو نسبتاً سخت چھلکے کا ہوتا ہے ) بھی پھوٹ نکلتا ہے۔ باقی ماندہ پانی، بخارات کی صورت میں ضائع ہوتا ہے۔ ڈرپ اری گیشن، فلڈ اری گیشن کے مقابلے میں پانی کی بے شمار بچت کرتی ہے۔ ہم پانی پہ لڑ لڑ کے نڈھال ہو رہے تھے تو دنیا میں ڈرپ اری گیشن پہ کام ہو رہا تھا۔ گو یہ نظام، صدیوں سے مختلف شکلوں میں ذرا محدود پیمانے پہ ہو تو رہا تھا لیکن موجودہ نظام، اسرائیل میں بنایا گیا۔

سب سے بڑی وجہ تو ہمارے دماغ ہیں جو کسی بھی نئی چیز کو فوری قبول نہیں کرتے۔ دوسری اہم وجہ غیر تربیت یافتہ لیبر اور تیسری وجہ ہماری ازلی اور ابدی سستی اور اس بات پہ غیر متزلزل یقین کہ، کچھ نہیں ہوتا،بھلا پانی بھی کم ہونے والی چیز ہے؟نہر سے نہ نکلا تو ٹیوب ویل سے نکل آئے گا، ٹیوب ویل سے نہ نکلا تو ٹربائن اور ٹربائن ہمارے ہوتے ہوتے تو پانی نکالتی ہی رہے گی، آ گے کی اللہ جانے۔آپس کی بات ہے کہ سوالات تو میرے ذہن میں بھی یہ ہی اٹھے تھے لیکن جانے کیوں یہ نظام کامیاب رہا، گو چوہوں نے پائپ کترنے کی بہت کوشش کی، خاص کر جب اگلی فصل کے لیے اتار کر رکھا جاتا ہے۔ لیکن یہاں بھی میرے خوفناک تخیل نے میری مدد کی اور میں نے اپنی پالتو بلیوں کی استعمال شدہ ریت پائپوں کے اس ذخیرے پہ ڈالنا شروع کر دی ۔ بلی کی موت کی بو پا کر چوہے سر پہ پاؤں رکھ کر بھاگے۔ تو جب سارا ملک کافر کافر کہتا ایک دوسرے کے پیچھے دوڑا پھر رہا تھا میں دو بھورے چوہوں، تین نیل کنٹھوں، پانچ دھوبن چڑیوں اور ایک نیولے کے ساتھ ڈرپ اری گیشن کی چوتھی سالگرہ منا رہی تھی، دکھ اس بات کا رہا کہ آ ج بھی خون ارزاں اور پانی مہنگا رہا، ہم نے آ ج بھی کوئی سبق نہ سیکھا۔سبق نہ سیکھنے والوں کو تاریخ ایسا سبق سکھاتی ہے کہ نسلیں یاد رکھتی ہیں۔ ہم یاد رکھیں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}