پی ٹی ایم سوات جلسے میں رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں افراد شریک

پی ٹی ایم سوات جلسے میں رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں افراد شریک

April 29, 2018 - 13:00
Posted in:

پشاور — 
پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ سوات کی طرف آنے والے راستوں پر کڑی چیکنگ کے "نام پر" ان کے سیکڑوں حامیوں کو کئی گھنٹوں سے سکیورٹی فورسز نے روک رکھا ہے لیکن اس کے باوجود جلسے میں ہزاروں افراد شرکت کے لیے پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔
اس جلسے سے پی ٹی ایم کے رہنماؤں کے علاوہ بائیں بازو کے کئی ایک قانون ساز بھی شرکا سے خطاب کر رہے ہیں جس میں ملک میں جبری گمشدگیوں، پشتونوں کے ماوائے عدالت قتل کے خلاف موثر اور ٹھوس کارروائیوں کے مطالبات دہرائے جا رہے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ سوات آنے والوں راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور دیر، بنیر، شانگلہ، اور مالاکنڈ کی طرف سے سوات آنے والوں مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں گاڑیوں کی تفصیلی تلاشی لے رہے ہیں جس کے باعث گاڑیوں کی یہاں لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔
قبل ازیں درگئی کے مقام پر قائم سکیورٹی چیک پوسٹ پر انتہائی سخت چیکنگ کے باعث یہاں گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں اور یہاں پھنسے درجنوں نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے۔

جلسے میں شرکت کے لیے جبری گمشدہ افراد کے اہل خانہ بھی یہاں پہنچے ہیں جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

انتظامیہ کی طرف سے اس بارے میں تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
پی ٹی ایم نے حالیہ مہینوں میں ملک کے مختلف حصوں میں جلسے کیے جس میں وہ پشتونوں کے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور قبائلی علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے مبینہ ہتک آمیز رویے کے خلاف آواز بلند کرتی آئی ہے۔
اس تحریک کے جلسوں اور سرگرمیوں کو پاکستانی ذرائع ابلاغ میں کوریج نہیں دی گئی۔
ایک روز قبل ہی پی ٹی ایم کے ایک مرکزی رہنما محسن داوڑ نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ سوات میں ان کے جلسے کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں اور تحریک کے خلاف پروپیگنڈہ پر مبنی پوسٹرز اور بینرز بھی مختلف مقامات پر آویزاں نظر آ رہے ہیں۔
تاہم داوڑ کے بقول تحریک کے ماضی کے جلسوں میں بھی ایسی ہی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سوات میں بھی بھرپور جلسہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    VOA بشکریہa {display:none;}