پیرس: معروف مسلمان مذہبی اسکالر پر جنسی زیادتی کا الزام

پیرس: معروف مسلمان مذہبی اسکالر پر جنسی زیادتی کا الزام

November 15, 2017 - 05:18
Posted in:

پچپن برس کے رمضان نے فرانسیسی بولنے والے ملکوں اور سیکولر یورپ میں بیشمار نوجوانوں کو اسلام اور شہریت کی تعلیم دی۔ بہت سارے مذہبی علما کے برعکس وہ اجلاسوں اور محافلِ مذاکرہ میں عربی نہیں بلکہ فرانسیسی زبان میں خطاب کیا کرتے تھے، جہاں بیشمار لوگ اُنھیں سننے کے متمنی رہتے تھے

واشنگٹن — 
ایک نامور مسلمان مذہبی اسکالر کے خلاف زنا بالجبر کے الزامات لگنے کے بعد متعدد یورپی مسلمان ششدر رہ گئے ہیں، جس بنا پر اس مختلف النوع کمیونٹی کا رد عمل انتہائی منقسم نوعیت کا ہے، جب کہ متعدد لوگوں کو اس کے گہرے نتائج برآمد ہونے کا ڈر ہے۔
سوٹزرلینڈ میں پیدا ہونے والے مذہبی تعلیم داں، طارق رمضان نے گذشتہ ہفتے آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہٴ تدریس سے چھٹی لے لی ہے، جس سے قبل اُن پر دو فرانسیسی خواتین نے جنسی زیادتی اور حملے کی شکایت درج کرائی، اور ایسی ہی شکایات سوٹزرلینڈ میں بھی درج ہوئیں۔
یونیورسٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ باہمی رضامندی کا معاملہ تھا۔ رمضان نے اِن الزامات کی تردید کی ہے۔
چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران رمضان کی قسمت خراب ہوتی ہوئی نظر آئی، چونکہ الزامات کا اُن پر بہت گہرا اثر دکھائی دیتا تھا۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ فرانسیسی بولنے والے ملکوں اور سیکولر یورپ میں 55 برس کے رمضان نے بہت سارے نوجوانوں کو اسلام اور شہریت کی تعلیم دی۔ بہت سارے مذہبی علما کے برعکس وہ اجلاسوں اور محافلِ مذاکرہ میں عربی نہیں بلکہ فرانسیسی زبان میں خطاب کیا کرتے تھے، جہاں بیشمار لوگ اُنھیں سننے کے متمنی رہتے تھے۔
پیرس میں اسلام کے ایک ماہر، الیگزینڈر پیرے کے بقول، ’’میں سمجھتا ہوں کہ معاملہ بہت بڑی تبدیلی کا باعث بنے گا‘‘۔
اُنھوں نے کہا کہ ’’وہ وحدت کے مکالمے کی علامت تھے، جس کے بغیر، سیاسی قدامت پسندی بڑھے گی، جس پر اُن کا مکالمہ حاوی آتا تھا؛ قدامت پسند مغرب میں گھل مل جانے کو مسترد کرتے ہیں اور مسلمان ملکوں کی جانب واپسی کی باتیں کرتے ہیں، ہجرہ، یہاں تک کہ مسلح جہاد کی باتیں کرتے ہیں‘‘۔
رمضان، مصر کے ’اخوان المسلمون‘ کے بانی حسن البنا کا پوتا ہے جو ایک عرصے سے اختلافی شخص خیال کیا جا رہا تھا۔ ناقدین نے الزام عائد کر رکھا تھا کہ اُنھوں نے وحدت کے بیانیے میں سیاسی اسلام چھپا رکھا تھا۔
بش انتظامیہ کے دوران عارضی طور پر اُنھیں امریکہ میں داخل ہونے سے روکا گیا تھا، جن احکامات کو اوباما دور میں واپس لیا گیا۔
اُن کے گرد گھیرا تنگ ہونے والا مباحثہ فرانس میں ہوا، جہاں اندازاً 50 لاکھ مسلمان بستے ہیں، جو یورپ کی سب سے بڑی اسلامی برادری ہے۔
اپریل میں، فرانسیسی حکام نے رمضان کے متنازع بڑے بھائی، ہانی رمضان کو ملک کی امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کے الزام پر ملک بدر کیا گیا، جن کا تعلق سوٹزرلینڈ سے تھا۔
مذہبی عالم نے 2002ء میں اُس وقت ہنگامہ آرائی کو ہوا دینے کی بات کی تھی جب اُنھوں نے فرانس کے رزنامے ’لے موندے‘ میں ایک مضمون شائع کیا تھا، جس میں زانی کے لیے سنگ باری کی سزا کی حمایت کی گئی تھی، جس کی اُن کے سگے بھائی، طارق نے بھی مذمت کی تھی۔

VOA بشکریہa {display:none;}