پشاور، اسلحے کی بھاری کھیپ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، ایک شخص گرفتار

پشاور، اسلحے کی بھاری کھیپ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، ایک شخص گرفتار

November 12, 2017 - 21:57
Posted in:

پشاور (آئی این پی) کوہاٹ جنگل خیل پولیس نے گلشن آباد چیک پوسٹ پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسلحے کی بھاری کھیپ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی ہے۔ کارروائی میں ہتھیاروں کے بین الصوبائی اسمگلر کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پکڑا گیا اسلحہ قبائلی علاقہ درہ آدم خیل سے کار کے ذیعے خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان اور بعد ازاں پنجاب اور سندھ کے مختلف شہروں کو منتقل کیا جارہا تھا۔ پکڑے جانیوالے اسلحے میں درجنوں پستول، چارجرز اور سیکڑوں کارتوس شامل ہیں۔ خود کو محکمہ فوڈ کا اہلکار ظاہر کرکے ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں ملوث گرفتار ملزم کا تعلق پشاور سے ہے جسکے خلاف تھانہ جنگل خیل میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کوہاٹ عبدالرشید خان نے ایس ایچ او تھانہ جنگل خیل قسمت خان کے ہمراہ نیوز بریفنگ میں کارروائی کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خفیہ اطلاعات پر ایس ایچ او تھانہ جنگل خیل قسمت خان نے پولیس نفری کے ہمراہ اتوار کی صبح گلشن آباد پولیس چیک پوسٹ میں ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی چیکنگ کا سلسلہ شروع کررکھا تھا کہ اس اثنا میں قبائلی علاقہ درہ آدم خیل سے خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان جانیوالی ایک مشکوک موٹر کار کو تلاشی کی غرض سے روک لیا گیا۔ پولیس نے تلاشی کے دوران کار کے خفیہ خانے سے مجموعی طور پر نائن ایم ایم کی 20 پستول، 37 چارجرز اور مختلف بور کے 800 کارتوس برآمد کرکے کار سوار اسلحہ اسمگلر سمید گل ولد حبیب گل سکنہ متنی پشاور کو گاڑی سمیت حراست میں لے لیا۔ ڈی ایس پی کے مطابق گرفتار ملزم نے خود کو محکمہ فوڈ کا اہلکار ظاہر کرکے موٹر کار پر جعلی سرکاری نمبر پلیٹ بھی لگا رکھی تھی جس کے قبضے سے کار کی اضافی نمبر پلیٹس اور ٹائنز کمپنی کا سروس کارڈ بھی برآمد کرکے قبضے میں لیا گیا ہے۔ ڈی ایس پی کے بقول اسلحے کی بھاری کھیپ برآمد کی گئی، ملزم کیخلاف تھانہ جنگل خیل میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جس نے ابتدائی پوچھ گچھ میں ناجائز ہتھیار قبائلی علاقہ درہ آدم خیل سے ڈیرہ اسماعیل خان اور بعد ازاں پنجاب اور سندھ کے مختلف شہروں کو منتقل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔ ملزم نے قبائلی اور بندوبستی علاقوں میں اسلحہ اسمگلر نیٹ ورک کے دیگر ارکان کے نام بھی اُگل دیے ہیں۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}