پجارا کو ایسی کیا خوش فہمی تھی؟

پجارا کو ایسی کیا خوش فہمی تھی؟

January 08, 2018 - 22:43
Posted in:

نیولینڈز ٹیسٹ کے تیسرے روز اچانک کہیں سے بادل امڈ آئے۔ میچ کے آغاز سے پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ جس طرح کی قحط سالی مہینوں سے کیپ ٹاون میں بسیرا ڈالے بیٹھی ہے، اس سے انڈیا کو ہوم کنڈیشنز کی سی پچ دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ لیکن دو دن گزرنے سے پہلے ہی دو اننگز ختم ہو چکی تھیں۔ پہلے دو دن میں بائیس وکٹیں گریں۔تیسری صبح کا آغاز ہی بارش سے ہوا۔ پیشگوئیاں جاری رہیں کہ اب تھمے گی، تب تھمے گی۔ لیکن جب تک بارش تھمتی، کھیل کا وقت سمٹ چکا تھا۔ اسی شام دونوں کیمپس سے دو بیان سامنے آئے۔ کگیسو ربادا سے جب پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں پچ کا رویہ بارش کے بعد کیسا رہے گا، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ پچ پہلے دن سے ہی مشکل رہی ہے اور بارش سے قطع نظر، میچ میں آگے بڑھتے یہ مشکل تر ہوتی جائے گی۔اس کے برعکس انڈین کیمپ سے یکسر متضاد خیال سننے کو ملا۔ چتیشور پجارا نے نجانے کس ترنگ میں یہ کہہ دیا کہ وہ اس وکٹ پہ چوتھی اننگز میں 350 کے حصول کو ممکن سمجھتے ہیں۔ ان کا ماننا یہ تھا کہ چوتھے روز تک پچ میں توڑ پھوڑ شروع ہو جائے گی اور بیٹنگ کے لیے حالات آسان تر ہو جائیں گے۔چوتھی صبح تک میچ کافی متوازن تھا۔ بھارتی بولرز نے بہترین بولنگ کی۔ ساوتھ افریقن بیٹسمین اپنی ہوم کنڈیشنز میں اتنے پریشان کم ہی دکھائی دیتے ہیں جتنے آج صبح نظر آئے۔ جب ساوتھ افریقن بیٹنگ دوسری اننگز میں صرف 130 کے مجموعے پہ ڈھیر ہو گئی تو وراٹ کوہلی کی خوشی دیدنی تھی۔ یہ وہ وکٹ تھی جس پہ بھارت کو 350 کا ہدف بھی تر نوالہ دکھائی دے رہا تھا، اور ہدف ملا بھی تو کیا؟ صرف 209 رنز۔ اس پہ طرہ یہ کہ اب ساٰؤتھ افریقہ کا پیس اٹیک بھی ڈیل سٹین سے محروم ہو چکا تھا۔ اب صرف پجارا ہی نہیں، کوہلی کی ٹیم سمیت ڈیڑھ ارب بھارتیوں کا بھی یہی خیال تھا کہ جیت ان سے صرف دو سیشنز کے فاصلے پہ ہے۔دنیا کی کسی بھی وکٹ پہ چوتھی اننگز میں 200 کا ہدف آسان نہیں ہوتا۔ ابھی تین ماہ پہلے ابوظہبی میں ہی جب سری لنکن ٹیم دوسری اننگز میں 138 پہ آل آوٹ ہوئی اور پاکستان کو جیت کے لئے صرف 136 رنز کا ہدف ملا تو ٹی وی پہ ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر یہ امید بندھاتے نظر آئے کہ یہ 136 تو پاکستان کے دونوں اوپنر ہی کر لیں گے۔

دو گھنٹے بعد پاکستان 21 رنز سے ہار چکا تھا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کا اس قدر وسیع تجربہ رکھنے کے بعد بھی ایسی خوش فہمیوں کی گنجائش کیسے رہ جاتی ہے۔ پجارا پچھلے سال بھارت کے کامیاب ترین ٹیسٹ بیٹسمین رہے ہیں۔ اس کے پیچھے ایک طویل فرسٹ کلاس کرئیر کا تجربہ بھی موجود ہے۔ پجارا یہ بھی جانتے ہیں کہ بیرون ملک ان کی اوسط ناگفتہ بہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ کیسے آسانی سے کہہ گئے کہ 350 کا ہدف بھی عین ممکن ہے۔لیکن اگر پچھلے ڈیڑھ سال کی انڈین ٹیسٹ کرکٹ کو بنظر غائر دیکھا جائے تو پجارا بے قصور نظر آتے ہیں۔ کیونکہ جب ایک ٹیم پچھلے ڈیڑھ سال میں گھر سے باہر نکلی ہی نہیں ہے، تو اس میں اکیلے پجارا ہی کیا، پوری الیون ایسی خوش فہمیوں میں خود کفیل ہو سکتی ہے۔ انڈین ٹیم کا المیہ یہ ہے کہ مسلسل ہوم گراونڈز پہ کھیل کھیل کر انہیں یہ یاد ہی نہیں رہا کہ اپوزیشن بھی ویسے ہی ہتھیار رکھتی ہے جو ان کے پاس ہیں۔ اگر ان کے بولر 286 پہ ساوتھ افریقہ کو آوٹ کر سکتے ہیں تو ساوتھ افریقن بولنگ اٹیک بھی پچھلی دو دہائیوں کا مہلک ترین کمبی نیشن ہے۔ اگر بھمرا، شامی، پانڈیا اور کمار ہی 130 کے عوض دس وکٹیں لے سکتے ہیں تو فلینڈر، مورکل اور ربادا کے پاوں میں بھی موچ نہیں ہے۔انڈیا نے بری کرکٹ نہیں کھیلی۔ پانڈیا کی اننگز ماسٹر کلاس تھی۔ پیس اٹیک نے ایسی مہارت دکھائی کہ کوہلی کو سر کھجانے کی بھی ضرورت نہیں پڑی۔ لیکن یہ تمام تر اچھی کرکٹ توقعات کے بوجھ اور اندازے کی غلطیوں تلے دب گئی۔ اگلے چند روز صرف پجارا ہی نہیں، پورے انڈین ڈریسنگ روم کو غور کرنا ہو گا کہ پچھلے ڈیڑھ سال کی فتوحات اور پجارا کی سی خوش فہمیوں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھنا ہے

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}