پاک ترک سکولوں کے سابق ڈائریکٹر اہلخانہ سمیت ’اغوا‘

پاک ترک سکولوں کے سابق ڈائریکٹر اہلخانہ سمیت ’اغوا‘

September 27, 2017 - 19:43
Posted in:

لاہور میں منگل کی رات ترک شہری میسوت کاچماز اور ان کے اہلخانہ کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔لاہور میں واقع پاک ترک سکولوں کے سابق ڈائریکٹر میسوت کاچماز ایک ماہ قبل ہی واپڈا ٹاؤن کے علاقے میں منتقل ہوئے تھے جبکہ پاکستان میں پچھلے 10 سال سے رہائش پزیر تھے۔٭ ترک اساتذہ اور طلبا کی پاکستان بدری روکنے کی ہدایت٭’یہ اردوغان کا ملک نہیں‘٭ پاکستان چھوڑنے کا حکم عدالت میں چیلنج‘بی بی سی نے جب متعلقہ تھانے سے رابطہ کیا تو ستوکتلہ تھانے کے محرر محمد حنیف نے کیس کی تفصیلات فراہم کیں۔'ہم کیس کی تفتیش کر رہے ہیں، ان چار افراد کو کوئی ایجنسی اٹھا لے گئی ہے، کون سی ایجنسی، یہ پتا نہیں ابھی۔ ہم اردگرد کے گھروں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہمیں ان کے ساتھیوں نے اطلاع دی ہے لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی کیونکہ کوئی مدعی نہیں بنا۔ البتہ ہم اپنی طور پر تفتیش جاری رکھیں گے۔'دوسری جانب عینی شاہد اور میسوت کاچماز کے ساتھی ٹیچر فاتِح اوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے درج نہیں کی البتہ فتح کے خود سے لکھے ہوئے بیان کی کاپی رکھ کر تسلی کروائی کہ تفتیش کر رہے ہیں۔فاتِح اوج نے بی بی سی کی نامہ نگار حنا سعید کو بتایا کہ وہ محسوت کے گھر کی اوپر والی منزل پر قیام پذیر ہیں اور رات کے دو بجے شور کی آواز سے اٹھے۔'میسوت کے گھر کا دروازہ کھلا تھا، داخل ہوا تو دیکھا سادہ لباس میں ملبوس دس آدمی اور پانچ عورتیں میسوت، اس کی بیوی اور دو بیٹیوں کو زبردستی لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میسوت کی اہلیہ زمین پر گری ہوئی تھیں اور دو عورتیں ان کو زبردستی گھسیٹ رہی تھیں جبکہ ان کی بیٹیاں رو رہی تھیں۔ میں نے مداخلت کی تو انہوں نے کہا ہم پولیس والے ہیں۔ پھر میسوت کی فیملی اور مجھے گاڑی میں ڈال کر ہماری آنکھوں پر پٹیاں اور چہرے پر کالا کپڑا ڈال دیا گیا۔'

پاکستان میں 1995 میں پاک ترک فاؤنڈیشن کے تحت بننے والے پاک ترک سکول اور کالجز کے 28 کیمپس ہیں اور تقریباً 11 ہزار بچے یہاں زیر تعلیم ہیں۔کسی بھی عالمی دباؤ یا تنازعے سے محفوظ رکھنے کی لیے نومبر 2016 میں ترک سٹاف کو اس تعلیمی ادارے سے الگ کر دیا گیا تھا۔ لیکن ترکی لوٹ کر گرفتاری اور سزا کے خطرے کے باعث زیادہ تر سٹاف یو این کے مہاجر سٹیٹس پر پاکستان میں قیام پذیر ہے۔ فاتِح اوج کا الزام ہے کہ رجب طیب اردوغان ان سکولوں کا چارج پاک ترک فاؤنڈیشن سے لے کر اپنے داماد کو دینا چاہتے تھے۔'ایسا نہیں ہوا، اسی لیے ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔ اگر یہ محسوت کی فیملی کے ساتھ ہو سکتا ہے تو کل ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم قانونی جنگ لڑیں گے اور کورٹ میں کیس کریں گے۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}