پاکستان کے لیے 33 کروڑ ڈالر کی امریکی امداد کی تجویز کا خیر مقدم

پاکستان کے لیے 33 کروڑ ڈالر کی امریکی امداد کی تجویز کا خیر مقدم

February 14, 2018 - 15:04
Posted in:

امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے مجوزہ امداد کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ عسکری امداد کا دار و مدار پاکستان کی طرف سے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی پر ہوگا۔

اسلام آباد — 
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے آئندہ سال کے بجٹ میں پاکستان کے لیے 33 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی امداد تجویز کی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے رواں ہفتے کانگریس کو بھیجے جانے والے بجٹ کے مسودے میں 25 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سویلین جب کہ آٹھ کروڑ ڈالر عسکری امداد کی مد میں مختص کیے گئے ہیں۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین شیخ روحیل اصغر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے امداد کی تجویز کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
’’یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ میں تو اس کو بہت مثبت سمجھتا ہوں۔ اگر امریکہ یہ چاہتا کہ دنیا میں امن ہو۔۔۔ تو پاکستان کے لیے یہ کرنا پڑے گا، کرنا چاہیے تھا۔ میرے خیال میں ان کو سمجھ آ گئی ہے پاکستان کتنی اہمیت رکھتا ہے۔‘‘
اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون صرف پاکستان اور امریکہ ہی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ہے۔
امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے مجوزہ امداد کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ عسکری امداد کا دار و مدار پاکستان کی طرف سے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی پر ہوگا۔
امریکی بجٹ میں پاکستان کے لیے امداد کی تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کچھ ہفتے قبل ہی امریکہ نے پاکستانی فورسز کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے الزام پر پاکستان کے لیے لگ بھگ دو ارب ڈالر کی سکیورٹی امداد معطل کر دی تھی۔
وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو معطل کی گئی امداد بحال ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کانگریس کو بھیجی گئی بجٹ تجاویز کے مطابق پاکستان کو آٹھ کروڑ ڈالر کی امداد کی فراہمی سے دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں مدد ملے گی اور ایسا کرنا جنوبی ایشیا سے متعلق امریکہ کی پالیسی کے عین مطابق ہے۔
تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید نذیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان کو بالکل الگ یا تنہا کر دینے سے افغانستان میں امریکہ کے اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔
’’پاکستان دباؤ میں ہے اور اسے دیکھنا ہو گا کہ اس کا اپنا قومی مفاد کیا ہے۔ لیکن ایک حد تک تو پاکستان چاہے گا کہ امریکہ سے رابطے اور انگیجمینٹ کی پالیسی اختیار کرے۔‘‘
پاکستان کا کہنا ہے کہ اُس نے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی ہے۔ ایک روز قبل ہی کابل میں ’چیفس آف ڈیفنس کانفرنس' کے موقع پر بھی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ملک میں دہشت گردوں کی تمام محفوظ پناہ گاہیں ختم کر دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ماہ دورۂ امریکہ کے موقع پر پاکستان کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے کہا تھا کہ اسلام آباد واشنگٹن کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف اور افغانستان میں امن کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔

VOA بشکریہa {display:none;}