پاکستان میں پہلی مرتبہ زندہ بلیو وہیل دیکھی گئی

پاکستان میں پہلی مرتبہ زندہ بلیو وہیل دیکھی گئی

September 14, 2017 - 21:27
Posted in:

div class="story-body" style="direction:rtl;"

div class="with-extracted-share-icons"

/button
/div
/li
/ul/div

/div
/div
/div
/div

div class="story-body__inner" property="articleBody"
figure class="media-landscape has-caption full-width"span class="image-and-copyright-container"

img src="https://ichef-1.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/15A4A/production/_97805688..." style="width=100%; max-width=640;"

/span

/figurepدنیا بھر میں ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی سمندری حدود میں ایک دیو ہیکل ’بلیو وہیل‘ اور اس کا بچہ دیکھا گیا ہے۔/ppڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ یہ ماں اور بچہ وہیل اس وقت چرنا جزیرے کے قریب دیکھا گیا جب ماہ گیر سعید زمان اور اس کے ساتھی، ٹونا مچھلی کے شکار کے لیے سمندر میں موجود تھے، اور انہوں نے فوارے کی طرح پانی کو نکلتے دیکھ کر وہاں کا رخ کیا اور تصویریں لیں جو ڈبلیو ڈبلیو ایف کو بھیجی گئیں جہاں ماہرین نے اس کی تصدیق کی۔/ppڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی زندہ بلیو وہیل کو پاکستان کی سمندری حدود میں پہلی بار دیکھا گیا ہے۔ /ppa href="/urdu/regional-39887343" class="story-body__link"کیا ہلسا مچھلی معدوم ہو رہی ہے؟/a/ppa href="/urdu/science-40102892" class="story-body__link"نئی مخلوط النسل مچھلی جاپانیوں کے لیے دردِ سر /a/ppماہی گیر کے مطابق بلو وہیل کی جسامت 17 میٹر لمبی تھی جو ان کی کشتی کے برابر تھی جبکہ بچے سطح پر نہ آنے کی وجہ سے اس کے سائز کا اندازہ نہیں ہوسکا۔/ppاس سے قبل متعدد بار بلیو وہیل پاکستان کے ساحل سے مردہ حالت میں پائی گئی ہے، آخری بار 3 سال قبل سندھ کے علاقے کھڈی کریک سے بلیو وہیل کا ڈھانچہ ملا تھا۔ /ppپاکستان کی سمندری حدود میں گذشتہ ایک سال کے دوران 47 بار وہیل کو دیکھا گیا ہے، جس میں سے بلیو وہیل ایک بار بھی نظر نہیں آئی۔/ppڈبیلو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ بلیو وہیل کو دنیا میں طویل ترین جانور تصور کیا جاتا ہے، جس کی لمبائی 30 میٹر تک رکارڈ کی گئی ہے۔ دنیا میں ان کی تعداد کا تخمینہ 10 ہزار سے 25 ہزار لگایا گیا ہے۔ آئی یو سی این کے مطابق اس کی نسل خطرے سے دوچار ہے اور یہ ناپید جانداروں کی ریڈ لسٹ میں شامل ہے۔/ppآئی یو سی این کی ریڈ لسٹ کے مطابق ایک مادہ بلیو وہیل دو یا تین سالوں میں ایک بار بچہ دیتی ہے جس کا ابتدائی وزن ڈھائی ٹن اور لمبائی سات میٹر ہوتی ہے۔/ppڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ بلیو وہیل کی خوراک جھینگے کی ایک مخصوص قسم ہے، جسے کرل کہا جاتا ہے اور یہ جہینگا بحریہ عرب میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ علاقے بلیو وہیل کے لیے باعث کشش ہے۔/ppڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنیکل ایڈوائیزر محمد معظم کا کہنا ہے کہ زندہ بلیو وہیل کا نظر آنا اس بات کی گمازی کرتا ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود میں کئی اقسام کی سمندی حیات موجود ہے۔/ppان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں وہیل کا نظر آنے کی بڑی وججہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی موثر نگرانی ہے جس میں سندھ اور بلوچستان میں کشتیوں کے سو سے زیادہ ماہیگروں اور خاص طور پر ناخداؤں کی تربیت کی گئی ہے۔ جو وہیل، شارک، ڈولفن اور دیگر نایاب جانوری کی نگرانی کرتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کی جال سے رہائی کو یقینی بناتے ہیں۔/ppڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر ڈائریکٹر رب نواز کا کہنا ہے کہ چرنا جزیہ وہیل، شارک سن فش سمیت کورال یعنی ساحلی مرجان کی آماجگاہ ہے، حکومت بلوچستان کو اس جزیرے کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان حکومت استولا جزیرے کو محفوظ قرار دے چکی ہے۔/p
/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style