پاکستان میں رواں ماہ بجلی کا دوسرا بڑا بریک ڈاؤن

پاکستان میں رواں ماہ بجلی کا دوسرا بڑا بریک ڈاؤن

May 16, 2018 - 15:49
Posted in:

پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بڑے حصے کو مظفر گڑھ کے قریب ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کی وجہ سے بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پاور ڈویژن کے ترجمان ظفریاب خان کا کہنا ہے کہ بدھ کو 'گُدو اور مظفر گڑھ کے درمیان ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کی وجہ سے دو صوبوں میں بجلی کی فراہمی بند ہوگئی ہے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ علم نہیں ہو سکا کہ یہ ٹرِپنگ کس وجہ سے ہوئی ہے۔ بی بی سی اردو کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق ترجمان ظفریاب خان نے مقامی میڈیا میں آنے والی ان اطلاعات کی تردید کی کہ بریک ڈاؤن کی وجہ تربیلا پاور ہاؤس میں ٹرِپنگ تھی۔'تربیلا کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ تحقیقات کے بعد معلوم ہو گا کہ لائن میں خرابی کسی پاور پلانٹ کی وجہ سے ہوئی یا کوئی اور تکنیکی مسئلہ تھا۔‘واضح رہے کہ نظام میں فالٹ کے بعد ملک بھر میں بجلی کی ترسیل کا نظام دو حصوں یعنی شمال اور جنوب میں تقسیم ہو گیا جس کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں بجلی کا بلیک آؤٹ ہو گیا۔ اس بارے میں مزید پڑھیے کراچی میں لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار کون ؟پاکستان کے’ 40 فیصد علاقوں میں اب بھی گھنٹوں بجلی بند‘لوڈ شیڈنگ، سندھ اسمبلی کی چوکھٹ پر چوڑیاںترجمان کے مطابق اس فالٹ کے باعث دونوں صوبوں میں موجود اکثر پاور پلانٹس بند ہو گئے ہیں۔ بجلی کے بریک ڈاؤن سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب، صوبہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔ترجمان نے کہا ہے کہ اس وقت دونوں صوبوں میں بجلی بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے اور اب تک ’پشاور اور مردان میں مکمل طور پر بجلی بحال کر دی گئی ہے جبکہ اسلام آباد کے اسی فیصد حصے میں بھی بجلی بحال کی گئی ہے تاہم فریکوئینسی قائم رکھنے کے لیے بجلی کی فراہمی منقطع بھی کی جا رہی ہے‘۔ انھوں نے بتایا کہ لاہور میں بھی بحالی کا کام جاری ہے۔ فیصل آباد، شیخوپورہ میں بھی کام جاری ہے جبکہ ملتان میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'چار سے پانچ ہزار میگاواٹ کی ٹرپنگ کے بعد سسٹم کو بچانے کے باعث پورا ملک متاثر نہیں ہوا'۔

خیال رہے کہ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بار بار بجلی جانے سے ایوان اندھیرے میں ڈوبتا رہا۔وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے ایوان کو بتایا کہ بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی کیونکہ اس طرح کا واقعہ پہلے بھی رونما ہوچکا ہے۔اس سے پہلے یکم مئی کو بھی ملک بھر بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن اس وقت ہوا تھا جب نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی اہم ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہوگئی تھی۔ اس کی وجہ سے سسٹم سے 5 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی اور بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گیا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}