پاکستانی تاریخ کی ’تاریک ترین‘ رات

پاکستانی تاریخ کی ’تاریک ترین‘ رات

October 10, 2018 - 07:17
Posted in:

سات اکتوبر 1958 کو لگائے جانے والے پاکستان کے پہلے مارشل لا کے 60 سال مکمل ہونے کے موقعے پر خصوصی تحریرجنرل ایوب خان اپنی آپ بیتی فرینڈز ناٹ ماسٹرز میں لکھتے ہیں: 'میں پانچ اکتوبر کو کراچی پہنچا اور سیدھا جنرل اسکندر مرزا سے ملنے گیا۔ وہ لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تلخ، متفکر اور مایوس۔ میں نے پوچھا۔'کیا آپ نے اچھی طرح سوچ بچار کر لیا ہے سر؟''ہاں۔''کیا اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں؟''نہیں۔ اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں۔''میں نے سوچا کہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ حالات ایسے موڑ تک پہنچ گئے ہیں کہ یہ سخت قدم اٹھانا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس سے کوئی مفر نہیں تھا۔ یہ ملک بچانے کی آخری کوشش تھی۔'اس گفتگو کے دو دن بعد سات اور آٹھ اکتوبر 1958 کی درمیانی شب پاکستان کے پہلے صدر (جنرل) اسکندر مرزا نے آئین معطل، اسمبلیاں تحلیل اور سیاسی جماعتیں کالعدم قرار دے کر ملک کی تاریخ کا پہلا مارشل لا لگا دیا اور اس وقت کے آرمی چیف ایوب خان کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ چوں کہ پہلی پہلی کوشش تھی، اس لیے اس اولین مارشل لا میں 'میرے عزیز ہم وطنو' وغیرہ کے عنوان سے ریڈیو (ٹی وی تو خیر ابھی آیا ہی نہیں تھا) پر کوئی تقریر نہیں ہوئی۔ بس ٹائپ رائٹر پر لکھا ایک فیصلہ رات کے ساڑھے دس بجے سائیکلوسٹائل کر کے اخباروں کے دفتروں اور سفارت خانوں کو بھیج دیا گیا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ چند فوجی دستے احتیاطاً ریڈیو پاکستان اور ٹیلی گراف کی عمارت کو گھیرے میں لینے کے لیے بھیج دیے گئے تاکہ سند رہیں اور بوقتِ ضرورت کام آئیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}