ٹیچر نے ریپ کر کے اسقاط حمل بھی کروا دیا

ٹیچر نے ریپ کر کے اسقاط حمل بھی کروا دیا

September 21, 2017 - 01:54
Posted in:

وہ اپنا مستقبل سنوارنے کے لیے سکول میں داخل ہوئی تھی لیکن اسی سکول میں ریپ ہونے اور پھر ابورشن کے بعد متاثرہ کی حالت نازک ہے۔یہ واقعہ انڈین ریاست راجستھان کے سیکر شہر میں ایک نجی سکول میں پیش آیا۔ ریپ کے الزام میں سکول کے ایک منتظم اور ٹیچر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سکول کو فی الحال بند کر دیا گیا ہے۔ ریاست میں خواتین کے کمیشن نے بھی معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔پولیس کے مطابق سکول کے ٹیچر پر الزام ہے کہ وہ 12ویں جماعت کی طالبہ کو سکول کے ایک دوسرے کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کر رہا تھا۔’میری بیٹی کا کیس کیوں اچھال رہے ہیں؟‘ 'چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا‘متاثرہ لڑکی کا جے پور کے ایک ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ سیکر پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب متاثرہ کے پیٹ میں درد ہوا۔ اس کے رشتے دار اسے ایک نجی ہسپتال میں لے گئے۔ الزام ہے کہ ہسپتال سے ملی بھگت کر کے سکول کے منتظم نے لڑکی کا اسقاط حمل کروا دیا۔لیکن جب متاثرہ لڑکی کی حالت بگڑی تو اسے جے پور کے سوائی مان سنگھ ہسپتال لے جایا گیا۔ متاثرہ لڑکی کا بیان لینے کے لیے پولیس اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق سیکر ضلعے کے ایک گاؤں میں واقع نجی سکول ‘جنتا بال نکیتن‘ کے منتظم جگدیش یادو اور ٹیچر جگت سنگھ گرجر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘انڈیا: گینگ ریپ کی شکایت پر پولیس کے غیرمہذب سوالعلاقے کے پولیس اہلکار کشل سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں ملزمان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ کشل سنگھ نے کہا ‘یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس میں مجرمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘پولیس اس نجی ہسپتال کے خلاف بھی تحقیقات کر رہی ہے جہاں متاثرہ لڑکی کا ’دھوکے‘ سے اسقاط حمل کروایا گیا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں تناؤ ہے۔ لوگوں نے سکول کے باہر احتجاج کیا۔ گاؤں والوں نے سکول میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}