ٹیلی کام اسکینڈل میں ملوث سابق بھارتی وزیر بری

ٹیلی کام اسکینڈل میں ملوث سابق بھارتی وزیر بری

December 22, 2017 - 00:37
Posted in:

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی ایک عدالت نے ایک سابق ٹیلی کام وزیر سیاستدان اور تاجر کو ٹیلی کام لائسنسز کے اجرا میں بد عنوانی کے الزامات کے تحت قائم کیے گئے مقدمے سے بری کر دیا ہے۔ عدالت کے مطابق ان کے خلاف ثبوت ناکافی تھے۔ اندی موتھو راجہ پر الزام تھا کہ جب 2008ء میں بھارت میں مختلف ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو موبائل فونز کی سیکنڈ جنریشن کے لیے حقوق فروخت کیے گئے تھے تو ان کی قیمتیں اس وقت کی معمول کی تجارتی قیمتوں سے دانستہ طور پر کم رکھی گئی تھیں، جن سے بھارتی حکومت کو مبینہ طور پر اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ ایک بھارتی وفاقی آڈیٹر کا کہنا ہے کہ اس سے ممکنہ طور پر حکومت کو 28 ارب ڈالر کی خطیر رقم کے محصولات کا نقصان ہوا ہے۔ وفاقی تحقیق کار کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی عدالت نے سابق وزیر اے راجا سمیت دیگر افراد پر عائد الزامات پر جمعرات کے روز اپنا فیصلہ سنایا۔ وکیل دفاع وجے اگروال نے صحافیوں کو جج کے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ استغاثہ اپنے لگائے الزامات کو ثابت کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو گیا ہے۔ اس اسکینڈل نے ملک کے اس وقت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ اور ان کی حکومت کے لیے بے پناہ مشکلات پیدا کر دی تھیں، جس نے مارکیٹ سے کم قیمت پر ٹیلی کام لائسنسز کی فروخت کی نگرانی کی تھی۔ اس اسکینڈل سے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔ اندی موتھو راجہ کے حوالے سے اس وقت کی ملکی اپوزیشن کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی یہ مطالبے کر رہی تھی کہ مبینہ طور پر بدعنوانی کے مرتکب اس وزیر کو اپنی ذمے داریوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ اس تمام صورت حال کے تناظر میں اے راجا نے نومبر 2010ء میں اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}