ٹور ڈی خنجراب بلوچستان کے سائیکلسٹ کے نام

ٹور ڈی خنجراب بلوچستان کے سائیکلسٹ کے نام

May 14, 2018 - 06:05
Posted in:

بلوچستان کے عبدالرزاق نے دنیا کی سب سے مشکل قرار دی جانے والی سائیکل ریس میں سے ایک ٹور ڈی خنجراب کا پہلا ایڈیشن اپنے نام کر لیا ہے۔ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سائیکلسٹ نے ریلی کے تیسرے اور آخری دن تجارتی قصبے سست سے چین کے ساتھ سرحدی مقام خنجراب پاس تک 84 کلومیٹر کا فاصلہ ابتدائی غیرحتمی وقت کے مطابق تین گھنٹے 18 منٹ اور 51 سیکنڈز میں مکمل کیا۔اگرچہ وہ اتوار کے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہے لیکن تینوں مراحل میں مجموعی سبقت کی وجہ سے وہ تمام ریلی کے فاتح قرار پائے۔
ٹور ڈی خنجراب
مجموعی راستہ 209 کلومیٹر
مراحل/دن تین
طویل ترین مرحلہ 110 کلومیٹر
مختصر ترین مرحلہ 66 کلومیٹر
شریک ٹیمیں نو
اتوار کے مرحلے میں دوسرے نمبر پر واپڈا کے نجیب اللہ رہے جنہوں نے عبدالرازاق سے چند سیکنڈز کے فرق سے یہ اعزاز حاصل کیا۔ ریلی کے شرکاء صبح ساڑھے سات بجے کے قریب سست سے راونہ ہوئے اور خدشہ تھا کہ راستے میں بارش ہو گی لیکن تمام راستے موسم خشک اور سائیکلسٹوں کے لیے کم از کم گرم رہا۔ کئی سائیکل سوار فنی یا جسمانی مسائل کی وجہ سے ریس مکمل نہیں کر سکے۔ سست جو کہ سطح سمندر سے تقریباً دس ہزار فٹ کی بلندی پر ہے وہاں سے سائیکلسٹوں نے مزید پانچ ہزار پانچ سو فٹ اونچائی تک سائیکلنگ کی۔ اس بارے میں مزید پڑھیےٹور ڈی خنجراب: پہلی سائیکل ریلی کا تاریخی دن ریلی کی واحد غیر ملکی ٹیم افغانستان نے ان کے کوچ کے مطابق مجموعی طور پر پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ کوچ عبدل صادق صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ریلی انتہائی دشوار تھی۔ تاہم وہ مقامی سطح پر اس ریلی کے انتظامات سے انتہائی مطمئن تھے۔ انھوں نے آئندہ برس زیادہ تیاری کے ساتھ آنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔

سوٹزرلینڈ کے ایک سفارت کار نے بھی اس ریلی میں آزاد حیثیت میں حصہ لیا۔ اس ریلی کا انتظام گلگت بلتستان کی حکومت نے پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے تعاون سے کیا تھا۔ فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل سید اظہر علی شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ باتیں کر رہے تھے کہ فیڈریشن بچوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے لیکن آج اس ریلی کے کامیاب انقعاد سے واضح ہو گیا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے شریک سائیکلسٹوں اور ان کے محکموں کی تعریف کی۔پہلی ٹور ڈی خنجراب سائیکل ریلی کا شمالی علاقہ جات میں انعقاد کئی ماہ کی عرق ریز تیاریوں کے بعد ہوا جسے ایک تاریخی دن مانا جا رہا ہے۔ اس ریلی کو دنیا کی سب سے اونچی پکی سڑک پر پہلی ریس قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس میں حادثے بھی ہوئے۔ اسلام آباد کے ایک سائیکلسٹ 24 سالہ اسد کو ایسے ہی ایک حادثے کے بعد اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}