ٹرمپ انتظامیہ کا ڈرون کارروائی اور کمانڈو چھاپوں پر لاگو پابندی اٹھانے پر غور

ٹرمپ انتظامیہ کا ڈرون کارروائی اور کمانڈو چھاپوں پر لاگو پابندی اٹھانے پر غور

September 22, 2017 - 22:26
Posted in:

روزنامہ ’نیو یارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایسی تبدیلی سے اُن ملکوں میں انسدادِ دہشت گردی کے مشن کی راہ ہموار ہوگی، جہاں اسلامی شدت پسند سرگرم عمل ہیں؛ لیکن امریکہ نے اس سے قبل اُنھیں ہلاک کرنے یا پکڑنے کا کام انجام نہیں دیا

واشنگٹن — 
روزنامہ ’نیو یارک ٹائمز‘ نے خبر دی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے روایتی میدان سے ہٹ کر ڈرون حملوں اور کمانڈو نوعیت کے چھاپوں سے متعلق اوباما دور میں عائد کردہ کلیدی قدغنوں کو اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ بات داخلی سوچ بچار سے مانوس اہل کاروں کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔

اِن تبدیلیوں سے اُن ملکوں میں انسدادِ دہشت گردی کے مشن کی راہ ہموار ہوگی، جہاں اسلامی شدت پسند سرگرم عمل ہیں؛ لیکن امریکہ نے اس سے قبل اُنھیں ہلاک کرنے یا پکڑنے کا کام انجام نہیں دیا۔

رپورٹ میں اہل کاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اِس ضمن میں صدر ٹرمپ کے چوٹی کے قومی سلامتی کے مشیروں نے دو عدد قوائد میں رعایت برتنے کی تجویز پیش کی ہے۔

اول یہ کہ اہداف کو نشانہ بنانے سے متعلق فوج اور سی آئی اے کے مشن، جو اِس وقت عام طور پر اعلیٰ سطحی شدت پسندوں تک محدود تھے، جن سے امریکیوں کو ’’مستقل اور کھلا خدشہ درپیش تھا‘‘؛ اُسے بڑھا کر اب پیدل جہادیوں تک وسعت دی جائے گی، جو خاص مہارت کے مالک نہیں یا جن کا کوئی قائدانہ کردار نہیں ہے۔

دوئم، مجوزہ ڈرون کارروائیوں اور چھاپوں کے لیے اب پیشگی اعلیٰ سطحی اجازت نامہ درکار نہیں ہوگا۔

VOA بشکریہa {display:none;}