وراٹ کوہلی کے بغیر ایشیا کپ کا رنگ پھیکا

وراٹ کوہلی کے بغیر ایشیا کپ کا رنگ پھیکا

September 13, 2018 - 15:50
Posted in:

کچھ کرکٹرز ایسے ہوتے ہیں جو کسی بھی مقابلے کی جان ہوتے ہیں اور ان کی موجودگی اس مقابلے کی اہمیت کو بڑھا دیتی ہے جبکہ ان کی غیر موجودگی سے اس مقابلے کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کو عصر حاضر کا بہترین بیٹسمین سمجھا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنی ٹیم کی سب سے بڑی امید ہیں بلکہ شائقین کے نقطۂ نظر سے بھی زبردست کشش رکھنے والے کرکٹر ہیں۔انڈیا کی کرکٹ ٹیم 12 سال کے طویل عرصے کے بعد متحدہ عرب امارات آئی ہے لیکن اس میں وراٹ کوہلی شامل نہیں ہیں۔انڈین سلیکٹرز نے وراٹ کوہلی کو ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز سے پہلے آرام دیتے ہوئے ایشیا کپ کھیلنے والی ٹیم میں شامل نہیں کیا ہے۔یہ بھی پڑھیےہم ہار کے ہی لائق تھے: وراٹ کوہلییہاں کوہلی کے سوا کوئی محفوظ نہیں’صرف ایک کوہلی کافی نہیں ہے‘کوہلی کی سینچری کام نہ آئی، انڈیا کو انگلینڈ نے ہرا دیاکامیابی کوہلی کی، کریڈٹ انوشکا کو

کوہلی کے ایشیا کپ میں نہ ہونے سے انڈین کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر کتنا فرق پڑے گا؟ یہ سوال تو اپنی جگہ موجود ہے لیکن ایک اور اہم بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میں شائقین کو کوہلی کے نہ ہونے سے بہت زیادہ مایوسی ہوئی ہے۔پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیض راجہ کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ انڈیا کو چیمپیئنز ٹرافی میں جس مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے ازالے کے لیے انڈیا وراٹ کوہلی کے ساتھ ایشیا کپ میں آئے گا۔رمیض راجہ کا کہنا ہے کہ وراٹ کوہلی انگلینڈ کے خلاف سیریز میں اچھی فارم میں رہے ہیں اگر وہ ایشیا کپ کھیلتے اور اس میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کردیتے تو وہ اور انڈین ٹیم زبردست حوصلے کے ساتھ آسٹریلیا کے خلاف آنے والی سیریز میں حصہ لیتی لیکن سلیکٹرز نے یہی بہتر جانا ہے کہ انھیں ٹیسٹ سیریز کے لیے تازہ دم رکھا جائے۔رمیض راجہ کا کہنا ہے کہ نہ صرف شائقین بلکہ کمنٹیٹرز کے نقطۂ نظر سے بھی کوہلی کا ایشیا کپ میں نہ آنا مایوسی کا سبب بنا ہے کیونکہ کمنٹیٹرز بھی ان کی مثبت انداز کی بیٹنگ کو بیان کرتے ہوئے اچھا محسوس کرتے ہیں لہذا انھیں بھی مایوسی ہوئی ہے۔خلیجی اخبار گلف نیوز کے سینیئر صحافی کے آر نائر اس صورت حال کو شائقین کے نقطۂ نظر سے انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہیں۔کے آر نائر کا کہنا ہے کہ شائقین عصرحاضر کے بہترین بیٹسمین کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتے تھے۔ انڈین کرکٹ بورڈ کو کوہلی کی ٹیم میں شرکت کو یقینی بنانا چاہیے تھا کیونکہ ایشیا کی تمام بڑی ٹیموں کی موجودگی کی وجہ سے ایشیا کپ ایک لحاظ سے منی ورلڈ کپ کا درجہ رکھتا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کا میچ 19 ستمبر کو ہو گا۔ اس کے بعد دونوں روایتی حریف سپر 4 میں بھی مدمقابل ہوں گے۔ ان دونوں کے فائنل میں پہنچنے کی صورت میں شائقین کو اسی ٹورنامنٹ میں دونوں کا تیسرا میچ بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

پاکستان اور انڈیا آخری بار گذشتہ سال چیمپیئنز ٹرافی میں مدمقابل آئے تھے جب گروپ میچ میں انڈیا نے 124 رنز کی جیت سے پاکستان کو آؤٹ کلاس کردیا تھا۔ اس میچ میں وراٹ کوہلی نے آؤٹ ہوئے بغیر 81 رنز بنائے تھے لیکن جب دونوں ٹیمیں فائنل میں مدمقابل ہوئیں تو پاکستانی ٹیم نے 180 رنز کے بھاری فرق سے کامیابی حاصل کرکے حساب برابر کردیا تھا۔اس فائنل میں محمد عامر کا طوفانی سپیل انڈین ٹاپ آرڈر بیٹنگ پر کاری ضرب ثابت ہوا تھا جس میں انھوں نے وراٹ کوہلی کو صرف چھ رنز پر پویلین کا راستہ دکھایا تھا لیکن ایشیا کپ میں شائقین محمد عامر اور وراٹ کوہلی کا ٹاکرا نہیں دیکھ سکیں گے۔ وراٹ کوہلی نے پاکستان کے خلاف 12 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں دو سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 459 رنز بنائے ہیں جس میں سنہ 2012 کے ایشیا کپ میں کھیلی گئی 183 رنز کی شاندار اننگز بھی شامل ہے۔ کوہلی نے پاکستان کے خلاف چھ ٹی20 میچوں میں 88.66 کی اوسط سے 254 رنز بنائے ہیں جن میں دو نصف سنچریاں شامل ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}