وادی رم کی ’مہمان نوازی نے عرب بغاوت ناکام کر دی‘

وادی رم کی ’مہمان نوازی نے عرب بغاوت ناکام کر دی‘

September 12, 2018 - 11:27
Posted in:

ایک بچی نے مجھے بکری کا بچہ تھمایا۔ ابھی میں میمنے کو سنبھال ہی رہی تھی کہ اس نے 'ہدیہ' یعنی تحفہ کہا۔اور پھر تحفہ کہتی ہوئی اپنے خیمے کی طرف بھاگی۔ میں نے سوچا کہ وہ یہ میمنہ ہی مجھے تحفہ میں دے رہی ہے۔لیکن 11 سالہ مونا اپنے خیمے سے پاؤں میں لگانے والے لوشن کی بوتل لے کر بھاگی بھاگی آئی۔ اس نے مجھے لوشن تھماتے ہوئے کہا 'یہ رہا تمہار تحفہ۔' اس سے دو سال بڑی بہن ندا بھی خیمے میں گئی اور ایک پلاسٹک کا کنگن لے کر آئی اور انھوں نے بضد ہو کر وہ تحائف مجھے تھما دیے۔دونوں لڑکیاں انکار سننے کے لیے تیار نہیں تھیں تو پھر میں نے بھی انھیں ہونٹوں پر لگانے والے لوشن کی ڈبی دی۔ دونوں بہت خوش ہوئیں۔میں ان لڑکیوں کے ساتھ ان کے خیمے میں باتیں کرتی رہی۔ انھوں نے مجھے اپنی ڈرائنگ دکھائی جبکہ اسی دوران ان کی ماں مجھے چائے پر چائے پلاتی رہی۔ انھوں نے مجھے جمید (بکری کے دودھ سے بننے والی پنیر) کھلائی۔وہ چائے لکڑی کے چولہے پر بنا رہی تھی۔ خیمے کے باہر میرا گائڈ ابو راشد ان بچیوں کے والد سے محو گفتگو تھا۔اردن کے مخصوص قبائل

اردن میں سیاحت کے دوران پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میں جو دیکھنے آئی تھی وہ مجھے مل گیا۔یہ بچیاں عرب کے معروف بدّو قبیلے سے آتی تھیں اور اس قبیلے کے بعض خانہ بدوشوں نے اردن کے وادیِ رم میں اپنا مسکن بنا لیا تھا۔یہاں آنے سے پہلے میرا خیال تھا کہ میرا اردن کے سفر کا فیصلہ غلط تھا لیکن جب میں نے ان بدوؤں سے ملی تو میرا افسوس جاتا رہا۔جبکہ بحر احمر کے کنارے آباد شہر العقبہ میں مجھے اس قدر بدسلوکی کا سامنا ہوا تھا کہ میں ہوٹل تک ہی محدود رہنے پر غور کرنے لگی تھی۔لیکن جب وادیِ رم آئی تو میرا خیال بدل گیا اور مجھے احساس ہوا کہ یہ جگہ بہت اچھی ہے اور یہاں صحرائے عرب کے معروف بدو قبیلے کی کثیر آبادی ہے۔سائنس کی ترقی کے ساتھ دنیا بھر میں لوگوں کی طرز زندگی میں اہم تبدیلی آئی ہے۔ یہاں تک کہ جنگل میں رہنے والوں کی طرز زندگی بھی بدلی ہے لیکن بدو قبیلے کے لوگوں میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئي ہے۔ وہ آج بھی خانہ بدوشوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔اردن کی جنوبی سرحد پر سعودی عرب کی سرحد سے ملحق وادی رم میں بدوؤں کی ایسی ہی ایک چھوٹی آبادی ہے۔ یہ گاؤں اپنی دو خوبیوں کے لیے معروف ہے۔

لذیذ کھانے اور مہمان نوازی کے علاوہ سفید اور سرخ لال مٹی کی لہر دار پہاڑیاں اس کی پہچان ہیں۔ دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں۔اس قبیلے کو دنیا کے سامنے لانے کا سہرا برطانوی شہری ٹی ایی لارینس کے سر جاتا ہے۔ انھوں نے بدوؤں کے طرز زندگی اور رہن سہن کو اس قدر اپنایا کہ لوگ انھیں 'لارینس آف عربیہ' کہنے لگے اور ہالی وڈ نے ان پر مبنی ایک فلم بھی بنائی ہے جو بہت مقبول ہوئی۔مہمان نوازی نے بغاوت کو ناکام کر دیا

لارنس نے یہاں کی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ 'بدوؤں کی اس ادا نے عربوں کی بغاوت کو ناکام بنا دیا تھا۔'قصہ مشہور ہے کہ جب عربوں نے سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کی تو انھیں جہاں کوئی ترکی نژاد نظر آتا وہ اسے قتل کے درپے ہو جاتے۔ اسی زمانے میں اس علاقے سے چند ترکی حکام کا گزر ہوا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ انھیں قتل کر دینا چاہیے۔ جبکہ بدو قبیلے کے لوگ اپنے اصولوں کے پابند تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی حکام ان کے مہمان ہیں اور انھوں نے اپنے مہمان کی خوب خاطر ومدارت کی۔بدّو جب تک کسی سے خطرہ محسوس نہیں کرتے وہ اپنے بلائے اور بن بلائے دونوں قسم کے مہمانوں کی بھرپور مہمان نوازی کرتے ہیں۔لارنس لکھتے ہیں کہ 'عربوں کے بغاوت کا علم بلند کرنے سے پہلے ہی ان ترک افسروں کو بدوؤں نے اپنی نگرانی میں دمشق پہنچایا۔'صدیوں پرانے لباس

خیال رہے کہ وادی رم کے لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ در پر آنے والا ہر فرد مہمان ہے اور اس کے کھانے پینے اور سونے کا خیال رکھنا ان کا فرض ہے۔ ہر صحرا میں سب ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ یہاں کسی بھی آنے والے شخص سے کوئی سوال نہیں کیا جاتا۔ لیکن اگر وہ ایک دن سے زیادہ قیام کرتا ہے تو پھر سوال کیا جاتا ہے۔بہر حال لارنس کے دور سے اب تک ہونے والی ٹکنالوجی کی ترقیات اور سیاحت کی وجہ سے ان قبائل میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ لیکن ان کی بہت سی چیزیں آج بھی جوں کی توں ہیں۔ مثلا ان کا لباس آج بھی ویسا ہی ہے جیسا صدیوں پہلے تھا۔ وہ آج بھی سرپر شماغ یعنی عمامہ، پگڑی یا سکار‌ف پہنتے ہیں اور اسے کالے رنگ کے رسی نما ٹائر سے سر پر ٹکا دیتے ہیں۔ سفید رنگ کا لمبا کرتا ان کا روایتی لباس ہے جسے وہ ثوب کہتے ہیں۔ان کی مہمان نوازی میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئي ہے۔ ان کا نام یاد رکھنا آسان نہیں کیونکہ ان کے نام کے ساتھ ان کے باپ دادا اور پردادا تک کا نام جڑا ہوتا ہے اور ساتھ میں قبیلے کا نام بھی ہوتا ہے۔

یہاں پہاڑیاں بہت ناہموار اور لہردار ہیں۔ جو یہاں رہنے کے عادی ہیں وہ مکڑیوں کی طرح ان پر بہ آسانی چلتے ہیں۔ ہرایک بدو کے ساتھ ایک اونٹ ضرور ہوتا ہے جس کے سہارے وہ ریگستان کی سیر کرتے ہیں۔ یہاں تا حد نظر ریت ہی نظر آتا اور سورج چڑھنے کے ساتھ ان کا رنگ بدلنے لگتا ہے۔سرخ ریت سورج کی روشنی میں سفید نظر آنے لگتی ہے۔ جبکہ کہیں کہیں وہ جامنی رنگ کی نظر آتی ہے۔ ریتیلے میدانوں میں سیاحوں کے لیے کیمپ بنائے گئے ہیں۔ یہاں فلم کی شوٹنگ کے لیے بھی لوگ آتے ہیں۔ سنہ 1962 میں آنے والی فلم 'لارنس اف عربیہ' کی شوٹنگ یہیں ہوئی تھی۔یہاں پہاڑوں کو نام بھی نام دیا جاتا ہے

اردن کے علاقے میں دس میٹر سے زائد بلند تمام پہاڑیوں کے نام ہیں۔ اور یہاں بے شمار پہاڑیاں اور ٹیلے ہیں جو ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ جبل ام الشیرین نام کی پہاڑی سطح زمین سے 700 میٹر بلند ہے۔اسے دیکھ کر چاند تک پہنچنے کا احساس ہوتا ہے۔ جتنے بڑے علاقے میں یہ صحرا پھیلا ہے اس کی مناسبت سے یہاں کی آبادی مٹھی بھر ہے۔ کئي کئی میل تک کوئی دوسرا نہیں نظر آتا ہے۔وادی رم اس علاقے کا بظاہر چھوٹا سا گاؤں ہے لیکن اس کا رقبہ 720 مربع کلومیٹر ہے جو کہ نیویارک شہر کے برابر ہے۔جن کی پیدائش اور پرورش یہاں ہوئی ہے ان کے لیے یہ کھلا ریگستان گھر کے آنگن جیسا ہے۔ عربی لفظ بدو بھی شاید یہیں پیدا ہوا ہے۔ عربی میں بدو کا مطلب صحرا میں رہنے والا ہوتا ہے۔ انھیں آرام دہ بستر راس نہیں آتا۔ ان کے لیے کھلا آسمان چھت اور ریت بستر ہے۔مہمانوں پر ان کے اصول نافذ نہیں ہوتے

ان کا طرز زندگی قدیم ہے خواتین غیر مردوں کے سامنے نہیں آتیں۔ خیموں میں بھی مرد و زن کے لیے علیحدہ حصے ہوتے ہیں۔ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا رواج بھی ہے۔ انھوں نے اپنے لیے بہت سے قوائد اور قوانین بنا رکھے ہیں۔ لیکن یہ مہمانوں پر لاگو نہیں ہوتے ہیں۔انھیں اپنے طور سے رہنے کی آزادی ہے۔ بس اتنی سی بات ہے کہ مہمان سے قبیلے کے کسی بھی رکن کو کوئی پریشانی نہیں ہونا چاہیے۔خواتین مردوں کے ساتھ نہیں بیٹھتی ہیں۔ انھیں زنان خانے میں خواتین کے ساتھ ہی بیٹھنا ہوتا ہے۔لیکن مہمان خواتین بدو مردوں کے ساتھ بیٹھ سکتی ہیں۔ خاتون مہمان کے سامنے بدو مرد بھی اپنا پورا جسم ڈھک کر رکھتا ہے۔مہمان نوازی کی ابتدا کافی یا قہوے سے ہوتی ہے۔ اگر مزید کافی پینے کی خواہش ہو تو پیالی کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔

اور اگر مزید پینے کی خواہش نہ ہو تو پیالی کو ہلا کر کنارے کر دینا ہوتا ہے۔ ایک وقت میں صرف تین پیالی ہی پیش کی جاتی ہے اس سے زیادہ کی خواہش کو لالچ خیال کیا جاتا ہے۔اگر مہمان دور سے آیا ہے تو اسے کھانا بھی پیش کیا جاتا ہے۔ کسی دوست یا عزیز کی آمد پر اس کی رضامندی پر بکری ذبح کیا جاتا ہے اور ان کا روایتی کھانا 'منسف' تیار کیا جاتا ہے۔ یہ بکری کے گوشت، تندوری روٹی، چاول اور جمید سے بنایا جاتا ہے۔ یہ وہی بکری کا پنیر ہے جو مجھے لڑکیوں نے خمیے میں پیش کیا تھا۔اسے دھیمی آنچ پر پکایا جاتا ہے اس لیے اس میں بہت وقت صرف ہوتا ہے۔لیکن اگر مہمان کو جلدی ہے تو پھر اسے 'زرب' نامی دوسری چیز پیش کی جاتی ہے۔ 'زرب' کو بکری کے گوشت اور سبزی کے ساتھ ریت میں بنے تندور میں بنایا جاتا ہے۔ اس بنانے میں دیر بھی لگتی ہے اور یہ جلدی بھی تیار ہو جاتا ہے۔ بہر حال یہ منسف کے مقابلے میں جلدی بنتا ہے۔ہر بدو کے خیمے کے باہر زمین پر تندور ہوتا ہے جسے کھانا پکانے کے بعد ڈھک دیا جاتا ہے۔

رات کو مہمانوں کی دلچسپی کے لیے موسیقی کے نام پر رباب بجایا جاتا ہے جس کی دھن پر وہ اپنا روایتی گیت گاتے ہیں۔کئی گھنٹے کے بعد جب میں اپنے خمیے میں پہنچی اس وقت تک میرے ہاتھ میں پلاسٹک کا کنگن تھا جو ندا اور منا نے مجھے پہنایا تھا۔ میں نے دیکھا کہ میرا گائڈ ابو راشد اور باورچی محمد نے تین تہہ یا منزل والا گرل نکالا جس میں بکرے کے گوشت کے ساتھ گھیا توری اور آلو کو سجا کر ریت کے تندور میں ڈالا گيا۔ اس پر ڈھکن ڈال کر انھوں نے اس پر ریت ڈال دی۔

تقریباً دو گھنٹے تک زرب کے پکنے کا کوئی نشان نہیں تھا جو کہ زمین کے نیچے ریت کے نیچے تیار ہو رہا تھا اور وہاں دھوئيں کی بو تک نہیں تھی۔ سورج ڈھلنے کے بعد ہم نے کیمپ کے باہر اس کا لطف اٹھایا جبکہ ایک گائڈ نے رباب اٹھا لیا۔اگر یہ مہمانوں کے لیے دوسرے نمبر پر پیش کیا جانے والا کھانا تھا تو یہ کسی طرح سے برا نہیں تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}