نوجوانوں کی بدلتی عادتیں: ’شراب کبھی چکھی تک نہیں‘

نوجوانوں کی بدلتی عادتیں: ’شراب کبھی چکھی تک نہیں‘

October 10, 2018 - 18:17
Posted in:

ایک تحقیق کے مطابق نوجوانوں میں شراب نوشی کی عادت میں کمی آ رہی ہے۔برطانیہ میں کی گئی تحقیق میں محققین نے محکمۂ صحت کے حکام کے گذشتہ دہائی کے اعداد و شمار کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ 16 سے 24 برس کی عمر کے افراد میں ایک تہائی نے کہا کہ انھوں نے شراب نوشی نہیں کی جبکہ 2005 میں شرح پانچ میں سے ایک تھی۔ یہ تحقیق طبی جریدے بی ایم سی پلبک ہیلتھ میں شائع ہوئی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ 16 سے 24 برس کے وہ نوجوان افراد جو شراب نہیں پیتے ہیں ان کی شرح 2005 میں 18 فیصد سے 2015 میں 29 فیصد ہو گئی ہے۔شراب نوشی سے گریز کرنے والوں کا تعلق مختلف طبقات سے ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عادت عام ہوتی جا رہی ہے۔اس بارے میں مزید پڑھیےبرطانوی پنجابیوں کا شراب نوشی کا مسئلہخواتین مے نوشی میں مردوں کے برابرشراب نوشوں کے لیے جگر کا سکین ضروری ’تھوڑی سی شراب نوشی بھی مضرِ صحت‘انگلینڈ کے صحت عامہ کے سروے کے مطابق کثرت سے شراب نوشی کے رجحان میں کمی آئی ہے اور یہ شرح 2005 میں 27 فیصد سے 2015 میں کم ہو کر 18 فیصد رہ گئی۔

اس تحقیق میں تقریباً ایک ہزار افراد سے سوالات پوچھے گئے اور جوابات سے واضح طور پر اندازہ ہوا کہ بلخصوص نوجوانوں میں شراب کے استعمال میں کمی آئی ہے۔ تحقیق میں شامل 28 فیصد نے تسلیم کیا کہ مقررہ حد سے زیادہ شراب نوشی کی جبکہ 2005 میں یے شرح 43 فیصد تھی۔اس کے علاوہ شراب سے عمر بھر اجتناب کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور 2005 میں یہ شرح 9 فیصد تھی جو 2015 میں بڑھ کر 17 فیصد ہو گئی۔قومی شماریات کے حکام کا کہنا ہے کہ 2005 سے جب سے سروے کرنے کا آغاز ہوا اس وقت سے اب کثرت سے شراب نوشی کرنے والے افراد کی تعداد بھی انتہائی کم شرح پر ہے۔اس تحقیق کی سربراہ لنڈا نگ کا کہنا ہے کہ شراب نوشی کے حوالے سے اعداد و شمار بالکل واضح اور بڑے پیمانے پر پیں۔انھوں نے کہا کہ’شراب نوشی نہ کرنے والے نوجوانوں کا تعلق مختلف طبقات سے ہے جس میں وہ بھی شامل ہیں جو انگلینڈ کے جنوبی حصے میں رہتے ہیں اور ان میں سفید فام لوگ بھی ہیں، وہ بھی جو فل ٹائم پڑھائی کر رہے ہیں اور ملازمت پیشہ بھی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}